• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’ببیتا شیو داسانی‘‘ رتن تلاؤ سے فلمی دنیا تک

کراچی کو آج ہم پاکستان کے سب سے بڑے اور مصروف ترین شہر کے طور پر جانتے ہیں، لیکن قیامِ پاکستان سے پہلے کا کراچی ایک مختلف تہذیبی اور سماجی رنگ رکھتا تھا۔ سندھ کایہ شہر ہندو، مسلمان، پارسی، عیسائی، یہودی اور دیگر برادریوں کے مشترکہ معاشرتی وجود کی ایک خوب صورت تصویر تھا۔ اس کثیرالثقافتی فضا نے برصغیر کی فلمی دنیا کو بھی کئی نام دیے۔ انہی ناموں میں ایک نام ’’ ببیتا ‘‘کا ہے، جو کپور خاندان کی بہو، اور کرشمہ و کرینہ کپور کی والدہ کے طور پر معروف ہوئیں۔

ببیتا، کا اصل نام ببیتا شیوداسانی تھا، 20 اپریل 1947ء کو غیر منقسم ہندوستان کے شہر کراچی میں، رتن تلاؤ کے علاقے میں پیدا ہوئیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کراچی کی شہری زندگی میں تالاب، کنویں اور قدیم آبی ذخیرے محض پانی کے ذرائع نہیں بلکہ محلوں کی شناخت بھی ہوا کرتے تھے۔ رام تلاؤ، رتن تلاؤ، فریئر تلاؤ، نانک واڑہ تلاؤ اور رام باغ تلاؤ جیسے نام پرانے کراچی کے شہری جغرافیے کا حصہ تھے۔

اسی علاقے میں ببیتا کی پیدائش ایسے وقت میں ہوئی جب برصغیر سیاسی انتشار اور تقسیم کے ایک بڑے تاریخی مرحلے سے گزر رہا تھا۔ ان کی ولادت کے صرف چند ماہ بعد ہندوستان تقسیم ہوگیا اور ان کا خاندان کراچی چھوڑ کر بمبئی منتقل ہوگیا۔ یوں ان کی زندگی کا پہلا باب کراچی کی گلیوں سے شروع ہوا اور اگلا باب بمبئی کی فلمی دنیا میں لکھا گیا۔

ببیتا کے والد ہری شیوداسانی بھارتی فلمی دنیا کے معروف ایکٹر تھے اور سندھی بولنے والے شیوداسانی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی والدہ ،باربرا برطانوی رومن کیتھولک تھیں۔ گھر میں مختلف تہذیبی اور مذہبی روایات کا امتزاج تھا۔فلمی دنیا سے ان کا تعلق محض اتفاق نہیں تھا۔ مشہور اداکارہ سادھنا شیو داسانی ان کی چچا زاد بہن تھیں اور اپنے عہد کی مقبول ترین اداکاراؤں میں شمار ہوتی تھیں۔ سادھنا کی کامیابی اور گھر کے فلمی ماحول نے ببیتا کے لیے بھی اس دنیا کے دروازے کھول دیے۔

ببیتا نے 1966ء میں فلم’’ دس لاکھ‘‘ سے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ فلم کامیاب ہوئی اور ان کے لیے بھارتی فلمی صنعت میں آگے بڑھنے کی راہ ہموار ہوئی۔ اگلے ہی برس، 1967ء میں، راجیش کھنہ کے ساتھ راز اور جتیندر کے ساتھ’’ فرض ‘‘نے ان کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ کیا۔ اس کے بعد ببیتا نے متعدد فلموں میں کام کیا، جن میں ’’حسینہ مان جائے گی، قسمت، ایک شریمان ایک شریمتی، ڈولی، کب؟ کیوں؟ اور کہاں؟، کل آج اور کل اور بن پھول ‘‘شامل ہیں۔

جتیندر کے ساتھ اولاد، انمول موتی اور بن پھول، شمی کپور کے ساتھ تم سے اچھا کون ہے، منوج کمار کے ساتھ پہچان اور دھرمیندر کے ساتھ کب؟ کیوں؟ اور کہاں؟ جیسی فلموں میں ان کی اداکاری کو پسند کیا گیا۔ اگرچہ ببیتا کا فلمی سفر تقریباً سات برس ہی جاری رہا، لیکن اس مختصر عرصے میں انہوں نے تقریباً 19 فلموں میں بطور ہیروئن کام کیا۔

ان کی فلموں کے کئی گیت بھی ان کی مقبولیت کا حصہ بن گئے، جن میں’’ آؤ حضور تم کو، کجرا محبت والا، بے خودی میں صنم، جان چلی جائے اور آپ یہاں آئے کس لیے‘‘ جیسے گیت آج بھی پرانی ہندی فلموں کے شائقین کے حافظے میں محفوظ ہیں۔

1971ء کی فلم’’ کل آج اور کل ‘‘ببیتا کی زندگی کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ اس فلم میں کپور خاندان کی تین نسلیں، پرتھوی راج کپور، راج کپور اور رندھیر کپور، ایک ساتھ پردۂ سیمیں پر نظر آئیں۔ اسی فلم کے دوران ببیتا کی ملاقات رندھیر کپور سے ہوئی۔

فلمی رفاقت رفتہ رفتہ محبت میں بدلی اور 6 نومبر 1971ء کو دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔شادی کے بعد بھی ببیتا نے جیت اور ایک حسینہ دو دیوانے جیسی فلموں میں کام کیا، تاہم 1973ء میں انہوں نے فلمی دنیا کو خیرباد کہہ کر اپنی گھریلو زندگی پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس ازدواجی زندگی کی سب سے بڑی خوشی ان کی دو بیٹیاں، کرشمہ کپور اور کرینہ کپور تھیں۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ رندھیر کپور کے فلمی کیریئر میں اتار چڑھاؤ اور گھریلو حالات کے باعث دونوں کے درمیان فاصلے بڑھتے گئے۔ بالآخر 1988ء میں وہ الگ الگ رہنے لگے، لیکن ان کی شادی ختم نہیں ہوئی تھی۔

ببیتا کی زندگی کا سب سے اہم اور منفرد باب شاید ان کا اپنا فلمی کیریئر نہیں بلکہ اپنی بیٹیوں کے مستقبل کے حوالے سے کیا جانے والا فیصلہ تھا۔ کپور خاندان میں یہ روایت چلی آ رہی تھی کہ خاندان کی بیٹیاں فلمی دنیامیں قدم نہیں رکھیں گی۔ ببیتا نے اس روایت کو چیلنج کیا۔

ان کی فلمی دنیا میں آنے کی حوصلہ افزائی کی۔ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔ کپور خاندان بھارتی فلمی صنعت کا ایک طاقتور اور بااثر نام تھا اور اس نام کے ساتھ کئی مضبوط خاندانی روایات وابستہ تھیں، مگر ببیتا نے روایت کے بجائے اپنی بیٹیوں کی صلاحیت اور مستقبل کو ترجیح دی۔ کرشمہ کپور نے 1990ء کی دہائی میں بھارتی فلمی صنعت میں اپنی نمایاں جگہ بنائی، جبکہ کرینہ کپور نے ایک طویل اور کامیاب فلمی سفر طے کرکے اپنی الگ شناخت قائم کی۔

ببیتا اور رندھیر کپور کی زندگی کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ طویل علیحدگی کے باوجود ان کا تعلق مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ تقریباً دو دہائیوں تک الگ رہنے کے بعد 2007ء میں دونوں دوبارہ ایک دوسرے کے قریب آگئے اور ساتھ رہنے لگے۔ان کے درمیان فاصلے ضرور آئے، مگر رشتہ مکمل طور پر ٹوٹا نہیں تھا۔ وقت نے دونوں کو دوبارہ ایک دوسرے کے قریب لا کھڑا کیا۔

آج ببیتا، کا نام لیا جائے تو ذہن فوراً بمبئی، کپور خاندان، راج کپور، رندھیر کپور، کرشمہ اور کرینہ کی طرف جاتا ہے، مگر اس داستان کا پہلا باب کراچی میں لکھا گیا تھا۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید