• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اپنا گھر بنانے کے سپنے سے پاکستان آئیڈل کے تاج تک

دیکھا اِک خواب تو یہ سلسلے ہوئے

23اگست کی یاد گاررات جب کروڑوں ناظرین ٹی وی اسکرین پرنظریں جمائے بیٹھے’’پاکستان آئیڈل‘‘ کا انتظار کررہے تھے،ہر گزرتا لمحہ صدیوں پر محیط لگ رہا تھا، دلوں کی دھڑکنیں تیز سے تیز ترہو رہی تھیں، اور پھر وہ لمحہ آیا ،جب پروگرام کا آغاز ہوا۔

ایک ایک کرکےمقابلے میں شریک گلوکار اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھاتے رہے، ناظرین جھومتے رہے،ججز شش و پنج میں مبتلا ایک دوسرے کو دیکھتے رہے،ان کے چہروں کے تاثرات بتا رہے تھے،فیصلے کی گھڑی بہت مشکل ہے،کون ہوگا نمبر ون، یہ اندازہ ہی نہیں ہورہا تھا، ہر گلوکار کی آواز سن کرمحسوس ہورہا تھا،یہ میدان مار لے گا۔ مقابلہ آخری مرحلے میں داخل ہوگیا تھا۔ سخت تر ین مقابلے، محنت اور انتظار کے بعد کامیابی کا سہرا، اُس کے سر سجنےجارہا تھا جس نے اپنی آواز اور پرفارمنس سےججزکے ہی نہیں کروڑں لوگوں کےدل جیتے۔

مقابلے میں شریک گلوکاروں کے چہروں پر جذبات کی اُمڈتی، بل کھاتی لہریں تھیں۔ کسی کی آنکھوں میں ادھورا خواب جھلک رہا تھا، کسی کے ہونٹ خاموش دعا میں مصروف تھے، کسی کے چہرے پر بے یقینی تھی اور کسی کی دھڑکن شاید اس اعلان سے پہلے ہی تیز ہو چکی تھی۔ ہر نگاہ اُس نام کی منتظر تھی جو چند سیکنڈوں میں پاکستان آئیڈل اپنے نام کرنے والا تھا۔

میزبان کی جوشیلی آواز اُبھری، نام کی گونج میں تالیوں کے شور میں آٹھ میں سے ایک چہرہ خوشی سے دمک اُٹھا،جبکہ سات چہروں کی آنکھوں میں نمی ، حیرت، اور ایک ادھورے خواب کی ملی جلی کیفیت نظر آئی، یہ تو ہونا تھا، نام ایک روشن ہوا،نام ور سب ہوئے۔ خوشی سے سر شار چہرہ تھا،فیصل آباد کی’’حرا قیصر‘‘ کا جو پاکستان آئیڈل کی فاتح بن کر کھل اُٹھیں۔ ان کی کامیابی صرف ایک شیلڈ نہیں، بلکہ ایک نئے فنی سفر کا آغاز ہے۔

موسیقی ایک ایسا سفر ہے، جس کا انسان تو انسان حیوانوں پر بھی اثر ہوتا ہے۔مثلاًسانپ کو دیکھیے، جب سپیرا بین بجاتا ہے توسانپ مست ہو کرجھومنے لگتا ہےاور وہ سُرجوبین سے پیدا ہوتے ہیں، سانپ کو مست کر دیتے ہیں۔ ماہرین موسیقی کے بقول،’’بھیرو‘‘گانے سے کولہو خودبہ خود چلنے لگتا ہے۔’’مالکوس‘‘ گانے سے پتھر پگھل جاتا ہے۔’’دیپک‘‘ گانے سےآگ لگ جاتی ہے،چراغ جل اُٹھتے ہیں۔ لیکن پاکستان آئیڈل اپنے نام کرنے والی، حرا قیصر جب گاتی ہیں تو سازبج اُٹھتےہیں، سننے والوں پر سحرطاری ہو جاتا ہے۔

گرچہ گھر کی چہار دیواری سے نکل کریہ ان کا پہلا قدم تھا،پہلا سفر تھا ،جس کی رفتار قدرے تیز تھی۔ ایسے جیسے کوئی کہہ رہا ہو،رقص مے تیز کرو،ساز کی لے تیز کرو۔حقیقت میں کچھ سفر منزل پر پہنچ کر ختم نہیں ہوتے، بلکہ ایک خوب صورت یاد بن کر دل میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ حرا کے لئے پاکستان آئیڈل کا سفر بھی کچھ ایسا ہی تھا۔

موسیقی، خواب، اُمید، جدوجہد اور بے شمار خوب صورت آوازوں میں اکتوبر 2025 میں شروع ہونے والا سفر23 اگست 2026 کو جب اختتام پزیر ہوا توایک ماں کے ارمان پورے ہوئے،ایک شوہر نے بیوی کو فخر سے دیکھاتو پتا چلا،دیکھا اک خواب تو یہ سلسلے ہوئے اور یہ بھی اندازہ ہوا کہ،کبھی کبھی ایک کامیاب عورت کے پیچھے مرد کا ہاتھ بھی ہوتا ہے۔

پاکستان آئیڈل اپنے نام کرنے والی حرا قیصر کے لیے یہ لمحہ صرف ایک مقابلے کی فتح نہیں بلکہ برسوں پرانے خواب کی تعبیر ہے۔ وہ خواب جسے کبھی حالات کی مجبوریوں نے دھندلا دیا تھا، مگر حرا نے اسے دل سے کبھی جدا نہیں کیا۔ ان کی آواز نے ناظرین کے دل جیتےاور انہوں نےاپنے بچوں کے بہتر مستقبل کی راہیں تلاش کیں۔

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ، کرائے کے مکان سے پاکستان آئیڈل کے اسٹیج تک پہنچنے والی حرا قیصر کی کہانی محض ایک گلوکارہ کی کامیابی کی داستان نہیں، بلکہ اس یقین کی کہانی ہے کہ خواب اگر سچے ہوں تو دیر سے ہی سہی، تعبیر ضرور پاتے ہیں۔ آڈیشنز سے لے کر آخری مرحلے تک نئے اور باصلاحیت گلوکاروں کے بھی خواب ہوں گے،انہوں نے بھی اپنی آوازوں کا جادوخوب جگایا، یقیناً ان ہی کی وجہ سے ہر مرحلے کے ساتھ مقابلہ دلچسپ ہوتا گیا۔

اس سفر میں ججز کا کردار بھی اہم رہا، جنہوں نے اپنی فنی بصیرت، تجربے اور تنقید سے نئے گلوکاروں کی رہنمائی کی، کبھی اصلاح، کبھی تعریف اور کبھی سخت فیصلے، یہی ایک بڑے میوزک مقابلے کی خوب صورتی تھی کہ گلوکار ہر مرحلے پر خود کو پہلے سے بہتر بنانے کی کوشش کرتےر ہے۔

اس ناقابل فراموش سفر میں شامل ججز، موسیقار اور پوری ٹیم مبارک باد کی مستحق ہے، جنہوں نے موسیقی کے شائقین کو ایک ایسے سفر میں شامل کیا، جس میں ہر ہفتے نئی آواز، نیا رنگ اور نئی اُمید دیکھنے کو ملی،ماضی کی سُریلی آوازیں حال میں زندہ ہوئیں تو جدید موسیقی کے متوالے ہی نہیں نسل نوبھی مان گئی کہ،سُر،تال کی لےپرساز و آواز کے رنگ کیا ہوتے ہیں۔

جیو انٹرٹینمنٹ نے پاکستان آئیڈل کو صرف ایک میوزک شو کے طور پر پیش نہیں کیا بلکہ نئی نسل کو ایک بڑا پلیٹ فارم دینے کی کوشش بھی کی،جس کی کام یابی کے چرچے ہمسایہ ملک’’بھارت‘‘ سمیت پوری دنیا میں ہوئے۔ جیو کے نمائندے محمد ناصرنے حرا قیصر سے گفتگو کی۔ آئیےگھر کی چہار دیواری سے ’’پاکستان آئیڈل‘‘کے اسٹیج پر آواز کا جادو جگاکر’’حرا قیصر‘‘ کےبارے میں جانتے ہیں کہ کیسے اُن کا خواب پورا ہوا۔

رضیہ فرید۔میگزین ایڈیٹر

فیصل آباد ، اکبر ٹاؤن کے ایک چھوٹے سے کرائے کے مکان میں رہائش پزیر،حرا قیصر کی کہانی کسی فلمی اسکرپٹ سے کم نہیں۔ سیدھی سادی حرا کی زندگی گھر، بچوں، شوہر اور روزمرہ کی ذمہ داریوں کے گرد گھومتی روشنیوں کی چکا چوند دنیا میں دھوم مچادی، آواز میں مٹھاس تھی ،گانے کا شوق بھی تھا،کام کے دوران گنگنا کر اپنا شوق پورا کرلیتی تھیں، باقاعدہ موسیقی کی تعلیم حاصل کی، نہ ریاضت کی، مگر دل میں ایک خواب ضرور پال رکھا تھا کہ ایسا کچھ کروں، میری آواز لوگوں تک پہنچ جائے۔پاکستان آئیڈل کے لیئے آڈیشن کا سُنا تو گھر کی ذمہ داریوں، بچوں کی مصروفیات اور بعض خاندانی مخالفتوں کے باوجود قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔

بہن بھائیوں نے پیسے جمع کر کے شوہر کے ساتھ آڈیشن کے لیے بھیج دیا، کام یابی کے بعد قسمت نے وہ دروازہ کھول دیا جس کا خود حرا کو یقین نہیں آیا۔ مقابلہ شروع ہوا، ایک کے بعد ایک گول کرتے کرتے پاکستان آئیڈل کے سفر میں ٹاپ16 تک پہنچ گئیں، گولڈن مائیک حاصل کیا، اور پھر گرینڈ فنالے میں اپنی آواز کا جادو جگاتے ہوئے ’’پاکستان آئیڈل ‘‘اپنے نام کرلیا۔

حرا قیصر کی کہانی صرف ایک کامیاب گلوکارہ کی نہیں، بلکہ اس عورت کی داستان ہے جس نے محدود وسائل اور مخالفتوں کے باوجود اپنے خواب کو مرنے نہیں دیا۔ اس سفر میں کبھی شوہرسہارا بنا، کبھی ماں اور بہنوں کی دعائیں حوصلہ بنیں، کبھی بچوں کا مستقبل مقصد بنا اور کبھی مرحوم والد کی سکھائی ہوئی موسیقی کی چھوٹی چھوٹی باتیں، جن سے حرا میں اعتمادآیا۔

وہ ایک کرائے کے مکان سے اپنا گھر بنانے کا خواب لےکرپاکستان آئیڈل کے لئے نکلی،جو نمبروں کی دوڑ میں آگے بڑھتے بڑھتے اس کی منزل بن گیا،اب یہ اس کے نئے سفر کا آغاز ہے۔ حرا کے سامنے صرف شہرت نہیں، بلکہ اپنی آواز کو مزید نکھارنے، ریاضت کرنے، بچوں کا مستقبل سنوارنے اور سب سے بڑھ کر اپناگھر بنانے کا خواب ہے، جس کے لیے اس نے یہ سفر شروع کیا تھا۔بقول حرا،’’میری کامیابی صرف پاکستان آئیڈل جیتنے کا نام نہیں ،بلکہ ایک ماں کاخواب، ایک خاندان کی دعائیں، ایک شوہر کے اعتماد اور ایک ایسی عورت کی جدوجہد کا نام ہے، جس نے اپنے لیے نہیں بلکہ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے یہ سفرکیا‘‘۔

حرا قیصرنےیکم جنوری1997 کو آنکھ کھولی۔ والدین کا تعلق سیالکوٹ سےہے۔پانچ بہنیں، ایک بھائی ہے۔ ساتویں جماعت کے بعد حرا تعلیمی سلسلہ جاری نہ رکھ سکیں ۔2013میں شادی ہو گئی۔شوہر’’ہئیرسیلون‘‘کا کام کرتے ہیں۔ دو بیٹوں اور ایک بیٹی کی ماں ہیں ۔والد کا انتقال ہوگیا ہے،اُنہیں موسیقی سے دل چسپی تھی۔گھر اور خاندان میں حرا کے سوا کسی کو گانے کا شوق نہیں۔

ہم نے، حرا قیصر سے ’’پاکستان آئیڈل‘‘ بننے کے بعدجنگ کے لیے خصوصی گفتگو کی،ہمارے سوال حرا کے جواب نذر قارئین

سوال : ٹائٹل جیت کر کیسا لگا؟ کیا محسوس کررہی ہیں،کتنی اُمید تھی کہ میدان مار لیں گی؟

جواب: الحمدللہ، اتنا زیادہ خوشی ہوں کہ الفاظ میں بیان نہیں کرسکتی۔ گھر والوں، بچوں اور فیملی کی دعاؤں سے یہ ٹائٹل جیتا۔ سچ بتاؤں تو ڈری ہوئی تھی، کیونکہ جس نے پرفارمنس کرنی ہوتی ہے اسے ڈر تو لگتا ہی ہے۔ ویسے پاکستان آئیڈل کے اسٹیج پر میں اکیلی نہیں تھی، اس میں حصہ لینے والےسب بہت اچھےگلو کارتھے۔

جب بھی گھر والوں سے کہتی کہ میں پریشان ہوں، تووہ کہتے ، ہمیں یقین ہے کہ تم نے ہی جیتنا ہے۔ اُس وقت مجھے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے میرے پیچھے میرےاپنے کھڑے ہیں، بس میں اعتماد کے ساتھ آگے بڑھتی رہی،کامیابی ملتی رہی۔

سوال: اپنی کامیابی کا کریڈٹ کس کو دیں گی؟

جواب: سب سے پہلے شوہر کو، وہ انکار کر دیتےتو میں کچھ نہیں کر سکتی تھی۔وہ ہی مجھے آڈیشن کیلئے لاہور لے کر گئے، منتخب ہوگئی توابتدا میں بھائیوں نے بہت مخالفت کی ،کہا کیا اب ہمارے گھر کی لڑکیاں گائیں گی، لیکن گھر کے حالات اور مسائل دیکھتے ہوئےآخرکار وہ بھی خاموش ہوگئے۔ میری پوری فیملی نے میرا بہت ساتھ دیا۔ ان کی سپورٹ کے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں تھا۔

سوال: کامیابی کا یہ سفر کتنا مشکل تھا؟“

جواب: بہت مشکل تھا، کیونکہ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میری زندگی میں ایسا وقت آئے گا کہ میں ’’پاکستان آئیڈل‘‘ جیسے پلیٹ فارم پر جاؤں گی۔گانا میرا بچپن کا خواب تھا۔ میری خواہش تھی کہ مجھے کوئی ایسا پلیٹ فارم ملے جہاں میں اپنی آواز کا جادو جگاؤں۔ ’’پاکستان آئیڈل‘‘ سے میری زندگی نے ایک نئی سمت اختیارکی۔ جب کراچی آئی تو ہمیں صبح اسٹوڈیو جانا ہوتا تھا، گانا لکھ کر ملتا، جسے یاد کرکے پریکٹس کرتی، اس کے بعد پرفارمنس۔

ایک پرفارمنس ختم ہوتی تو اگلے گانے کی تیاری شروع ہوجاتی،تب اندازہ ہوا کہ موسیقی کا یہ سفر کتنا مشکل اور محنت طلب ہے۔پاکستان آئیڈل کی ٹیم نے بہت تعاون کیا، خاص طور پر تنویرصاحب نے۔ وہ میری آواز اور صلاحیت کے مطابق گانے دیتے تھے۔کئی مرتبہ میں کہتی تھی کہ،یہ گانامجھ سے اچھا نہیں ہوگا، تو وہ کہتے بیٹا، تم اسے اچھا کرو، تم نے یہی گانا ہے۔

میرے خیال میں ان کے منتخب کیے ہوئے گانوں نے بھی میری پرفارمنس کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

سوال : گھر کی ذمہ داریوں سے نکل کریہ کامیابی کیسے حاصل کی؟۔

جواب؛ بچوں کو دیکھنا، انہیں اسکول بھیجنا اور گھر کے دوسرے کام کرنا، یہ سب ہرماں کی زندگی کا حصہ ہوتے ہیں۔’’پاکستان آئیڈل‘‘ کی وجہ سے میرے بچوں کی پڑھائی متاثر ہوئی۔

اُس وقت میں نے سوچا کہ اگر زندگی کا یہ خواب پورا ہوجائے تو شاید میرے بچے ایک اچھے اسکول میں پڑھ سکیں، بہترسہولتیں حاصل کرسکیں اور جو کچھ میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا، وہ دیکھ سکیں، اسی سوچ نے مجھے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔

سوال: گھر والوں کو آپ کی کامیابی کی اُمید تھی؟

جواب: جی، اُنہیں مجھ سےزیادہ اُمید تھی۔ میں خود کبھی کبھی ڈر جاتی تھی اور سوچتی تھی کہ فلاں بہت اچھا گاتا ہے، وہ مقابلہ جیت سکتاہے۔ لیکن میرے گھر والےکہتے،ان شاء اللہ تم ہی فاتح ہوگی۔آج اُن کی باتیں صحیح ثابت ہو گئیں۔

سوال: دوستیں تو ہوں گی،اُن کا کیا رد عمل تھا؟

جواب: سچ بتاؤں تو میری کوئی خاص دوست نہیں ہے۔ بچوں کے ساتھ ہی میرا زیادہ وقت گزرتا ہے۔ پاکستان آئیڈل میں ماہم، طرب، سمیعہ اور امبر وغیرہ،اس سفر کے دوران سہیلیاں بنیں۔ویسے میری بہنیں اور میری امی ہی میری سب سے قریبی سہیلیاں ہیں۔

سوال: پاکستان آئیڈل کی ٹیم نے کتنا ساتھ دیا؟

جواب: ٹیم نے بہت ساتھ دیا،خاص طور پر میرے چھوٹے بیٹے میثم علی کی وجہ سے مجھے بہت سہولت دی گئی۔ وہ تقریباً ڈھائی سال کا ہے اور میرے بغیر رہ نہیں پاتا، ریکارڈنگ کے دوران بھی میرے پاس ہوتا تھا۔

مینجمنٹ ٹیم چاہتی تو کہہ سکتی تھی کہ بچے کو کسی کے پاس چھوڑکر آیا کریں، لیکن وہ توکہتے تھے کہ، اگر بچہ آپ کے پاس ہے اور آپ اسےبانہوں میں لے کر ریکارڈنگ کرواسکتی ہیں تو کوئی مسئلہ نہیں۔ یہ بات میرے لیے بہت اہم تھی۔

سوال: آپ کی مصروفیات کیا ہیں؟

جواب : زیادہ تر گھر اور بچوں سے وابستہ ہیں۔ میں زیادہ سوشل نہیں ہوں۔ میری زندگی میں میرے بچے اورخاندان سب سے اہم ہیں۔

سوال : ریاض کرتی ہیں؟

جواب : میں نے کبھی باقاعدہ ریاض نہیں کیا، میری آواز اللہ تعالیٰ کی عطاہے۔میں نے کسی باقاعدہ استاد سے موسیقی سیکھی اور نہ ہی کبھی ریاضت کی۔ لیکن اب ریاضت شروع کروں گی، کیونکہ اتنا بڑا نام ملنے کے بعدآواز کو مزید بہتر بنانا ضروری ہے۔ گھر میں کوئی پیانو یا موسیقی کا باقاعدہ ماحول نہیں۔

ابو جی گلوکار نہیں تھے، لیکن جب میں کچھ گاتی اور کوئی غلطی کرتی تو وہ فوراً ٹوک دیتے، کہتے صحیح نہیں گا رہیں، اسے درست کرو۔ انہوں نے مجھے بہت چھوٹی چھوٹی چیزیں سمجھائیں، آج مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ان کی وہ باتیں میرے لیے بہت قیمتی سرمایہ ہیں، آج وہ زندہ ہوتے توبہت خوش ہوتے، کیونکہ ان کی بھی خواہش تھی کہ میں بڑے پلیٹ فارم پر گاؤں۔

سوال: کون سا مرحلہ تھا جب لگا کہ آگے جانا مشکل ہے؟

جواب: ایک پرفارمنس ایسی تھی جس کے بعد مجھے لگا کہیں ایلیمنیٹ نہ ہوجاؤں۔ اس دن میں کافی پریشان تھی۔ لیکن باقی سفر میں جب بھی پرفارمنس کے بعد اسٹینڈنگ اوویشن ملتی یا اچھے کمنٹس آتے تو میرا اعتماد بڑھ جاتا تھا۔

سوال: کس وقت یہ اُمید بندھی کہ آپ ٹائٹل جیت سکتی ہیں؟

جواب: گزرتے وقت کے ساتھ یقین ہوتا جا رہا تھاکہ میں جیت جاؤں گی لیکن کبھی کبھی محسوس ہوتا ہار بھی سکتی ہوں، کیونکہ مقابلہ بہت سخت ہوتا جارہا تھا، لیکن ساتھیوں نے ٹوٹنے نہیں دیا،میرا حوصلہ بڑھاتے رہے۔

سوال: جب پاکستان آئیڈل میں وقفہ آیا تو کیا محسوس کیا؟

جواب: وہ بہت مشکل وقت تھا۔ میں بیمار ہوگئی تھی، تقریباً دو ماہ تک میرا گلا بہت خراب رہا۔ ایسا لگتا تھا جیسے آواز ہی بند ہوگئی۔ دوائیں کھائیں، دعائیں کیں اور منتیں مانیں۔ بار بار ایک ہی خیال آتا تھا کہ شاید پاکستان آئیڈل کو کسی کی نظر لگ گئی ہے۔ لیکن الحمدللہ، دعاؤں کے ساتھ یہ سفر شروع کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے انہیں قبول کیا اور آج میں پاکستان آئیڈل بن چکی ہوں۔

سوال: آپ کے ساتھ دوسرے اُمیدواروں کا برتاؤ کیسا تھا؟۔

جواب: بہت اچھا تھا۔ میرا ماننا ہے کہ اگر آپ دوسروں کے ساتھ اچھا کریں گے تو دوسرے بھی آپ کے ساتھ اچھا ہی کریں گے۔ الحمدللہ، سب مجھ سے خوش اور میں سب سے خوش۔

سوال: آپ ’’جوگرز‘‘ پہن کر گاتی تھیں اس کا کیا راز ہے؟

جواب: ’’جوگرز‘‘شو سے پہلےسے پہنتی ہوں،لاہور آڈیشن دینے گئی تھی ،وہاں بھی جوگرز پہن کر گئی تھی۔ لیکن مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ ’’پاکستان آئیڈل ‘‘ میں آنے کے بعد میرے ’’جوگرز‘‘ ٹرینڈ ہی بن جائیں گے۔ میں نے یہ محسوس بھی کیا کہ، شو کی جس قسط میں، جوگرز پہنے اس میں میری پرفارمنس بہت اچھی ہوئی اور جس قسط میں نہیں پہنے وہاں پرفارمنس اچھی نہیں ہوئی۔ یوں سمجھ لیں جوگرز میری لئے Lucky رہے۔ خدا تعالیٰ نے اگر مجھے نوازا تو ممکن ہے میں ’’حرا قیصر‘‘ کے نام سے بڑے مال میں ’’جوگرز‘‘ کا آؤٹ لیٹ کھول لوں۔

سوال: گلوکاروں میں سے آپ کس سے زیادہ متاثر ہیں؟

جواب: میں مختلف گلوکاروں کو سنتی ہوں۔ مجھے میڈم نورجہاں، مہدی حسن کے گانے بہت پسند ہیں۔ استاد نصرت فتح علی خان کو بہت شوق سےسنتی ہوں۔

سوال: اگر آپ کسی کو اپنا شاگرد بنانا چاہیں تو کسےبنائیں گی؟

جواب: سب سے پہلے اپنے بچوں کو سکھاؤں گی۔ میرے بیٹے کی آواز بھی اچھی ہے۔ چاہتی ہوں کہ اوپر والے نے جو کچھ مجھے عطا کیا ہے، اگر میں اس میں سے کچھ اپنے بچوں کو دے سکوں تو یہ میرے لیے خوشی کی بات ہوگی۔

سوال : مستقبل کے کیا ارادے ہیں؟

جواب: جب میں گھر سے نکلی تھی تو میری واضح نیت تھی کہ اپنا گھر بناؤں گی۔ دراصل ہم کرائے کے مکان میں رہتے ہیں۔ مہینہ ختم ہونے کا پتہ نہیں چلتا اور کرایہ، بجلی کے بل اور دوسرے اخراجات سامنے آجاتے ہیں۔

میں یہ سوچ کر اس شو میں آئی تھی یا یہ کہہ لیں گھرسے نکلی تھی کہ اگر یہاں سے کامیابی ملی تو سب سے پہلے اپنا گھر لوں گی تاکہ اس مستقل پریشانی سے نجات مل سکے۔اب میری سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ اپنے بچوں کے لیے ایک اچھا اور محفوظ گھر بنا سکوں۔ 

سوال: ویسے آپ بننا کیا چاہتی تھیں؟ 

جواب: بچپن سے میری خواہش تھی کہ میں گاؤں، میری آواز لوگوں تک پہنچے۔ لیکن زندگی شادی، بچوں اور گھر کی ذمہ داریوں تک محدود ہو گئی۔ مجھے اپنی تعلیم مکمل نہ ہونے کا بھی افسوس ہے۔ آج سوچتی ہوں کہ کاش میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتی تواپنے پیروں پر کھڑی ہوسکتی تھی۔

سوال : نوجوان فنکاروں کو کیا پیغام دیں گی؟

جواب: اُن سے یہی کہنا چاہوں گی کہ اگر آپ میں ٹیلنٹ ہے تو اسے دبائیں نہیں، آپ کی فیملی سپورٹ نہیں کرے تب بھی کوشش کریں کہ اپنا ٹیلنٹ سامنے لائیں۔ اور اگر کسی بچے میں صلاحیت ہے تو والدین کو چاہیے کہ اسے آگے بڑھائیں اور اس کے ٹیلنٹ کو ضائع نہ ہونے دیں۔ جب میں پاکستان آئیڈل میں نہیں آئی تھی تو مجھے کوئی نہیں جانتا تھا، آج لوگ حرا قیصر کو جانتے ہیں۔اسی طرح ممکن ہے کہ کل دنیا آپ کے نام سے بھی واقف ہو۔

سوال: اگر آپ سے کہا جائے کہ اپنا ٹائٹل کسی دوسرے اُمیدوار کو دے دیں تو کسے دیں گی؟“

جواب: روحان عباس کو، اس میں بہت ٹیلنٹ ہے ، وہ بہت اچھا گاتا ہے۔ اس کا تعلق شوکت علی خان صاحب کے گھرانے سے ہے۔ وہ بچپن سے موسیقی سیکھتا آیا ہے، بہت ریاضت کرتا ہے۔ اگر فیصلہ میرے حق میں نہ ہوتا تو روحان ایک ایسا اُمیدوار تھا جو یہ ٹائٹل جیت سکتا تھا۔ 

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید