سُروں کا آئیڈل سفر اختتام کے قریب ہیں۔ پاکستان کے سب سے بڑے میوزک شو ”پاکستان آئیڈل“ کے ”سپر فنالے“میں ہر ساز گونجے گا، ہر سُر دلوں کو چھوئے گا اور ہر لمحہ تاریخ رقم کرے گا۔ ملک بھر کے شائقین موسیقی بے چینی سے اس یادگار لمحے کے منتظر ہیں، دلوں کی دھڑکنیں تیز ہیں، نظریں اس اسٹیج پر جمی ہوئی ہیں جہاں جذبوں، خوابوں اور سُروں کی ایک ایسی داستان رقم ہوگی جسے برسوں یاد رکھا جائے گا۔
گلو کاروں کی محنت، ریاضت، والدین کی دعائیں اور لاکھوں مداحوں کی اُمیدیں وابستہ ہیں۔ ہر نوجوان گلوکار کی ایک ہی خواہش ہے کہ کامیابی کا تاج اس کے سر پر سجے، اس کی آواز پورے پاکستان کی پہچان بنے اور اس کا خواب حقیقت میں بدل جائے۔ فتح کی آس، دل کی دھڑکنوں کو مزید بے قرار کر رہی ہے، جبکہ پورا پاکستان یہ جاننے کے لیے بے تاب ہے کہ آخر کون تاج پہنے گا۔
پاکستان آئیڈیل کے فائنل راؤنڈ میں پہنچنے والے آٹھ گلوکار اب اپنی آواز، فن اور اعتماد کے آخری امتحان سے گزر رہے ہیں۔ کامیابی کی منزل صرف چند قدم کے فاصلے پر ہے۔ کسی کے دل میں کامیابی کی اُمید ہے، کسی کو اپنی آواز پر پورا یقین ہے اور کسی کے لیے یہاں تک پہنچ جانا ہی ایک بڑی کامیابی ہے۔ لیکن اگر قسمت نے ساتھ نہ دیا اور ٹائٹل کسی اور کے نام ہوگیا تو کیا ہوگا؟
کیا شکست انہیں مایوس کرے گی یا وہ اسے اپنے موسیقی کے سفر کا آغاز سمجھیں گے؟۔ ہم نے فائنل راؤنڈ میں پہنچنے والے ان گلوکاروں سے جب پوچھاکہ، کیا انہیں یقین ہے پاکستان آئیڈیل کا تاج ان کے سر سجے گا؟ اگر کامیابی نہ ملی تو اگلا قدم کیا ہوگا؟
اگر آپ نہیں تو کون سا ساتھی پاکستان آئیڈیل بن سکتا ہے؟ ہمارے سوالوں کے جواب میں، انہوں نے کیا کہا، ملاحظہ کیجیے ان باصلاحیت نوجوان گلوکاروں کے دل سے نکلے وہ جذبات، وہ خواب اور وہ عزم، جو انہیں پاکستان آئیڈل کے تاج تک پہنچانے کے لیے ہر لمحہ بے تاب رکھے ہوئے ہیں۔
طرب نفیس کہتی ہیں، سچ پوچھیں تو مجھے یہ بھی یقین نہیں تھا کہ میں آڈیشن راؤنڈ پاس کر پاؤں گی۔ لیکن الحمدللہ نا صرف آڈیشن پاس کیا بلکہ آج ٹاپ ایٹ میں بھی شامل ہوں، میرے لئے یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ میں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ ہر حال میں جیتنا ہے یا اگر ہار گئی تو کیا ہوگا؟۔ میری کوشش رہی ہے کہ جب بھی پرفارم کروں تو سب سے پہلے خود اپنی پرفارمنس سے مطمئن ہوں، پھر میرے چاہنے والے اور وہ تمام لوگ جو میری آواز اور گائیکی سے محبت کرتے ہیں، وہ بھی خوش ہوں۔
یہ میری اصل جیت ہے۔ میں نے مقابلے کے دوران کبھی جیت یا ہار کے بارے میں نہیں سوچا، بلکہ میری پوری توجہ صرف اس بات پر رہی کہ ہر پرفارمنس پہلے سے بہتر ہو۔ میں آئیڈل کا سفر مکمل ہونے کے بعد دوبارہ اپنی موسیقی پر بھرپور توجہ دوں گی، جسے کچھ حالات کی وجہ سے وقتی طور پر چھوڑنا پڑا تھا۔ اب تعلیم کے ساتھ ساتھ موسیقی پر بھی محنت کروں گی اور ان شاء اللہ اپنے تمام خواب پورے کرنے کی کوشش کروں گی۔
میرا خواب ایک عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ بننے کا ہے،مجھے امید ہے کہ ایک دن یہ خواب ضرور پورا ہوگا۔ اس کیلئے میں پوری لگن سے کام کرتی رہوں گی۔ جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ اس مقابلے کا فاتح کون ہونا چاہیے، تو میری نظر میں ٹاپ ایٹ کے تمام اُمیدوار پہلے ہی فاتح ہیں۔
اتنے سخت مقابلے کے بعد یہاں تک پہنچنا ہی ہم سب کی بہت بڑی کامیابی ہے، سب اپنی اپنی گائیکی، انداز اور صنفِ موسیقی میں منفرد ہیں۔ آریان بھائی جو کر سکتے ہیں وہ شاید میں نہ کر سکوں، اور حرا باجی جو کر سکتی ہیں وہ بھی میں نہیں کر سکتی۔ اسی لیے میرے نزدیک ہم سب اپنی جگہ فاتح ہیں۔ میرے ذہن میں کبھی کسی ایک شخص کا نام نہیں آیا کہ صرف وہی جیت کا حقدار ہے۔
حرا قیصر،کا کہنا ہے، اگر میں نمبر ون آتی ہوں تو یہ میرے لیے بہت بڑی بات ہوگی۔ اُس وقت سب سے پہلے ججز، مینجمنٹ ٹیم اور ہاؤس بینڈ کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کروں گی۔ اس کے بعد میری پہلی خواہش اپنا گھر خریدنے کی ہوگی، کیونکہ میرے بچوں کے حوالے سے سب سے بڑی فکر گھر کی ہے۔
جب اپنا گھر ہوگا تو بڑی پریشانی ختم ہو جائے گی، میرے لیے اس سے بڑھ کر خوشی کی کوئی بات نہیں ہوگی۔ میرا ماننا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے نصیب میں لکھ دیا ہے وہی ہو کر رہتا ہے۔ اس لیے اگر میں پاکستان آئیڈل نہ جیت سکی پھر بھی محنت اور اسی جذبے، لگن کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھوں گی، ان شاء اللہ آگے ضرور بڑھوں گی۔ کسی مضبوط اُمیدوار کا نام لینا ہو تو میری نظر میں روحان عباس ہیں، اس کے بعد وقار حسین۔ اگر لڑکیوں کی بات کروں تو ماہم طاہر بھی اس ٹائٹل کی مضبوط اُمیدوار ہیں۔
نبیل عباس کہتے ہیں ،لوگوں کے پیار اور محبت کو دیکھتے ہوئے تو مجھے یہی لگتا ہے کہ میں پہلے ہی مقابلہ جیت چکا ہوں، بہرحال مقابلے کا ایک فارمیٹ اور نظام ہوتا ہے، اس لیےان شاء اللہ اپنی جیت یقینی بنانے کی کوشش کروں گا۔اگر میں فاتح نہ بھی بن سکا تو کوئی بات نہیں۔
میں رکوں گا نہیں، اپنا کام کرتا رہوں گا۔ لوگوں نے مجھے بہت محبت دی ہے، میں ان کے لیے اچھے اچھے گانے بناؤں گا۔ جہاں تک دوسرے حقدار کی بات ہے تو میں کسی ایک کا نام نہیں لوں گا۔ میرے نزدیک اصل فاتح وہ ہونا چاہیے جو ہر قسم کا گانا گا سکے، ہر اسٹیج پر اپنی صلاحیت ثابت کرسکے۔
ماہم طاہر نے ہمارے سوالوں کے جواب میں کہا، حقیقت یہ ہے کہ یہاں مجھ سے بھی بہتر گانے والے موجود ہیں۔ ہر اُمیدوار باصلاحیت ہے، اس لیے میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ میں جیتوں گی۔ اگر میرے نصیب میں ہوا اور اللہ نے چاہا تو یقیناً یہ ٹائٹل جیت سکتی ہوں، لیکن میرے خیال میں میرے امکانات تقریباً 50 فیصد ہیں، کیونکہ باقی تمام اُمیدوار بہت مضبوط ہیں۔
اپنے نہ جیتنے کامجھے کوئی افسوس نہیں ہوگا۔ پاکستان آئیڈل کے سفر نے مجھے بہت کچھ سکھایا ہے۔ میں یہاں صرف جیتنے نہیں بلکہ سیکھنے، اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور خود کو نکھارنے آئی تھی، جو عزت، محبت، تجربہ اور سیکھنے کا موقع ملا، وہ میرے لیے ٹرافی سے زیادہ قیمتی ہے۔
اگر کسی ایک اُمیدوار کا نام لینا ہو تو میری پہلی ترجیح طرب نفیس ہوں گی، میرے خیال میں وہ اس ٹائٹل کی حقدار ہیں، ان کی آواز بہت خوبصورت ہے۔ اسی طرح حرا اور روحان بھی انتہائی باصلاحیت گلوکار ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کئی اُمیدوار اپنی محنت، صلاحیت اور پرفارمنس کی بنیاد پر یہ مقابلہ جیت سکتے ہیں۔
روحان عباس کے نزدیک ریئلٹی شوز بہت غیر متوقع ہوتے ہیں، اس لیے ان کے بارے میں پہلے سے کچھ بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔ میرا یہاں آنے کا مقصد صرف ٹرافی جیتنا نہیں بلکہ لوگوں کے دل جیتنا ہے۔ الحمدللہ مجھے لگتا ہے کہ میں وہ جیت چکا ہوں، محبت حاصل کر چکا ہوں۔ اگر خدانخواستہ یہ مقابلہ نہ بھی جیت سکا توکوئی بات نہیں، ایسا تو ہوتا ہے۔
میں نے صرف 13 سال کی عمر میں 2010 میں بھارت جا کر ”چھوٹے استاد“ جیسے مقابلے میں حصہ لیا، وہاں فائنلسٹ بھی رہا اور فاتح بھی بنا۔ اب 2026 میں پاکستان آئیڈل کا فائنلسٹ ہوں۔ میرا خیال ہے کہ ایک موسیقار کے لیے اس سے بڑی بات کوئی نہیں کہ وہ ہر بڑے مقابلے میں اپنی محنت اور صلاحیت کے بل بوتے پر فائنل تک پہنچے۔ اس مقام پر آ کر جیتنا یا نہ جیتنا اصل بات نہیں، اصل کامیابی لوگوں کے دل جیتنا ہے۔ جہاں تک دوسرے اُمیدواروں کا تعلق ہے تو سب اپنے اپنے انداز کے بہترین فنکار ہیں، اس لیے کسی ایک کا نام لینا میرے لیے واقعی مشکل ہے۔
وقار حسین:،اپنی جیت کے لیے کافی پُر اُمید ہیں، وہ کہتے ہیں، ہم چار ایسے اُمیدوار ہیں جو تقریباً ہر انداز کی گائیکی کر سکتے ہیں، الحمدللہ ان چاروں میں میرا بھی نام شامل ہے۔ اسی لیے مجھے یقین ہے کہ میں یہ ٹائٹل جیت سکتا ہوں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے کامیاب کیا تو میری سب سے بڑی خواہش ہوگی کہ اپنی موسیقی کے ذریعے پورے پاکستان کے لوگوں کے دل جیتوں۔
مجھے یقین ہے کہ میرا ہر گانا نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں رہنے والے پاکستانیوں کو بھی پسند آئے گا۔ اگر دوسرے مضبوط اُمیدواروں کی بات کروں تو میرے خیال میں آریان ، نبیل اور طرب اس ٹائٹل کے مضبوط دعوے دار ہیں، ماہم اور حرا بھی بہت باصلاحیت ہیں، ویسے تو تمام اُمیدوار بہت اچھا گا رہے ہیں، لیکن ٹائٹل جیتنے کے لیے صرف اچھی آواز نہیں بلکہ مجموعی پرفارمنس بھی ضروری ہوتی ہے۔ اگر خدانخواستہ میں یہ ٹائٹل نہ بھی جیت سکا تو بھی ان شاء اللہ موسیقی کا سفر کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ میوزک ہی میرا جنون، میرا پیشہ اور میری پہچان ہے، اسی کے ذریعے اپنے پاکستان کا نام روشن کرنے کی کوشش کرتا رہوں گا۔
سمیعہ گوھر،کے نزدیک اُن کا فائنل میں آجانا ہی بہت بڑی بات ہے ۔وہ کہتی ہیں، میں تو لاہور آڈیشنز سے واپس چلی گئی تھی، وہاں رش دیکھ کر میں سوچ رہی تھی کہ اتنے لوگوں میں میری باری کیسے آئے گی، پھر اُس وقت میرا تھوڑا حوصلہ بڑھا جب دو دن بعد اسلام اباد جا کرآڈیشن دیا، پھر سلیکٹ ہوتے ہوتے آڈیشن راؤنڈ، تھیٹر راؤنڈ، گالا راؤنڈ اور پھر کوارٹر فائنل، سیمی فنالے، اور گرینڈ فائنل میں پہنچ گئی۔
میرے لیے یہ بہت بڑی بات تھی، اس لیے اگر نا جیت سکی تو ہر گزمایوس نہیں ہوں گی۔ اس کے بعد اپنے اوریجنل گانوں پر کام کروں گی، گانے ریلیز کروں گی۔ جو اس ٹائٹل کا حقدار ہوگا، وہ پاکستان آئیڈل کا اعزاز اپنے نام کر لے گا، ویسے تو سب ہی حقدار ہیں کیونکہ سب نے بہت محنت کی ہے، پہلے دن سے یہاں تک پہنچنے کے لیے لیکن مجھے لگتا ہے کہ لڑکیوں میں حرا ٹائیٹل جیت سکتی ہیں ،وہ واحد اُمیدوار ہیں جس نے بہت مشکل مشکل گانے گائے ہیں، مجھے لگتا ہے کہ شاید لڑکیوں میں سے ہی کوئی پاکستان ائیڈل کا ونر ہوگا۔
آریان نوید کہتے ہیں، میں یہ سوچ کر پاکستان آئیڈل میں نہیں آیا تھا کہ ضرور جیت جاؤں گا، البتہ جیتنے کی ایک اُمید ضرور ہے، لیکن کامیاب نہ بھی ہو سکا تو بھی اپنی موسیقی کا سفر اسی طرح جاری رکھوں گا اور مزید محنت کروں گا۔میں ناکام ہوا تو وقار حسین یہ مقابلہ جیت سکتے ہیں، کیونکہ وہ ایک ورسٹائل آرٹسٹ ہیں۔ ان کی آواز بہت میٹھی اور خوبصورت ہے۔
دیکھتے ہیں کس کر سر پر سجے گا، پاکستان آئیڈل کا تاج۔
”پاکستان آئیڈل“کا سپر فنالے 23 اگست کو ”جیو ٹی وی“ سے نشر کیا جائے گا، جہاں پاکستان کو سُر اور سنگیت کی دنیا کا ایک نیا چمکتا اور دمکتا ہوا ہیرا ”پاکستان آئیڈل“ کی صورت مل جائے گا۔
ہدایت کار اور معاون پروڈیوسر ندیم جے نے شو کے مواد، کہانی، تخلیقی سمت اور بصری پیشکش کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی کوشش تھی کہ پاکستان آئیڈل کی پروڈکشن بین الاقوامی معیار کی ہو، لیکن اس کی روح اور شناخت مکمل طور پر پاکستانی رہے۔’’پاکستان آئیڈل ہمیشہ سے میرا خواب تھا۔
ندیم جے کا بطور پروڈیوسر اور ڈائریکٹر سفر 25 سال سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ ان کے کیریئر کا ایک اہم ابتدائی دور جیو ٹی وی سے وابستہ رہا، جہاں انہوں نے متعدد بڑے تفریحی پروگرام اور کنسرٹس پروڈیوس اور ڈائریکٹ کیے، بعد میں انہوں نے ٹیم این جے میڈیا قائم کیا، جو آج پاکستانی میڈیا میں 20 برس مکمل کرچکا ہے، نمایاں کاموں میں لکس اسٹائل ایوارڈز ، عمر شریف شو قابل ذکر ہیں اس کے علاوہ ٹیم این جے میڈیا نے ٹی وی سیریلز، ٹیلی فلمز اور کہانی پر مبنی مواد بھی تیار کیا، پاکستان آئیڈل 2025–26 میں ندیم جے کا کردار صرف بصری ڈائریکشن تک محدود نہیں رہا۔
بطور معاون پروڈیوسر ان کے طویل پروڈکشن تجربے نے شو کے مواد، ساخت، کہانی، مقابلہ کرنے والوں کے سفر اور پرفارمنس کی پیشکش میں بھی اہم کردار ادا کیا۔’’ہم چاہتے تھے کہ پروڈکشن کا معیار بین الاقوامی ہو، لیکن اس کی روح پاکستانی رہے، ندیم جے اس کامیابی میں پاکستان آئیڈل کے پروڈیوسر اور 313 پروڈکشنز کے سی ای او، بدر اکرام کی تخلیقی سوچ، وژن، حکمتِ عملی، منصوبہ بندی اور لگن کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں۔
’’بدر اور میں ایک ہی وژن کے ساتھ آگے بڑھے کہ بین الاقوامی آئیڈل فارمیٹ کے معیار کو برقرار رکھتے ہوئے پاکستان آئیڈل کو اپنی منفرد تخلیقی شخصیت اور مضبوط پاکستانی شناخت دی جائے۔‘‘ ڈائریکٹر ٹیلنٹ ڈیولپمنٹ تنویر آفریدی، کے تقریباً تین دہائیوں پر محیط موسیقی کی صنعت کے تجربے اور مقابلہ کرنے والوں کی تربیت و رہنمائی میں ان کے کردار کو بھی سراہتے ہیں۔
شجاع حیدر، ڈائریکٹر آف میوزک ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جن کی موسیقی سے گہری وابستگی رہی ہے۔ انہوں نے اپنی جدید موسیقی کی سوچ کے ذریعے پرانے پاکستانی گیتوں کو ان کی اصل روح برقرار رکھتے ہوئے ایک نیا اور عصری انداز دیا، جبکہ اسحاق نذیر، ہیڈ آف آڈیو کو آواز کے شعبے میں ایک ’’جینئس اور انتھک محنت کرنے والا شخص‘‘ مانا جاتا ہے۔
اسحاق اور ان کی ٹیم نے ساؤنڈ ڈیزائننگ اور ملٹی ٹریک ریکارڈنگ سے لے کر ٹیوننگ، مکسنگ اور ماسٹرنگ تک ہر مرحلے پر محنت کرکے پرفارمنسز کو اعلیٰ اور بین الاقوامی معیار کی آواز دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ پروڈکشن، مواد، کیمرہ، لائٹنگ، سیٹ، گرافکس، پوسٹ پروڈکشن، مقابلہ کرنے والوں کی مینجمنٹ اور تمام تکنیکی ٹیموں کی دن رات محنت کے بغیر یہ کامیابی ممکن نہیں تھی۔پاکستان سے باہر بھی پذیرائی ملی۔
پاکستان آئیڈل کی اصل کامیابی بڑے سیٹ یا ٹیکنالوجی سے بڑھ کر نوجوان ٹیلنٹ کو ملنے والا موقع ہے،’’ایک گمنام گلوکار کو صرف اپنی آواز، صلاحیت اور خواب کے ساتھ آتے دیکھنا اور پھر اسے لاکھوں لوگوں کے سامنے اسٹیج پر پرفارم کرتے دیکھنا سب سے خوبصورت احساس ہے۔ تب اندازہ ہوتا ہے کہ شاید آپ صرف ایک ٹی وی شو نہیں بنا رہے بلکہ کسی کی زندگی بدلنے کے سفر کا حصہ بن رہے ہیں۔