• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’سکل بن پھول رہی سرسوں،

چھاپ تلک سب چھین لی رے،

کاہے کو بیاہی بدیس،

اماں میرے باوا کو بھیجوری،

امبواتلے ڈولا رکھ دے‘‘

تیرہویں صدی کے مشہور شاعر امیر خسرو کے یہ مشہور گیت کل بھی مقبول تھے، آج بھی نئے چہروں، نئی آوازوں اور نئی دھنوں کے ساتھ ذوق و شوق سے سُنے جاتے ہیں۔ کل لتا منگیشکر، آشا بھوسلے، مہناز اور ناہید اختر کی آواز میں ان گیتوں کی دھوم تھی،آج طرب نفیس، حرا قیصر نے گا کر سامعین پر سحر طاری کردیا، یہ ہی نہیں کبھی کسی قوالی کی لے میں اور کبھی جدید فلمی موسیقی کے درمیان، یہ گیت رنگ جمائےجب جب سُنائی دئیے، ہر بار لفظوں میں وہی صدیوں پرانی تاثیر محسوس ہوئی۔

امیر خسرو نے نہ جانے کس دُھن میں یہ گیت لکھے ہوں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ، صدیاں گزر گئیں، سلطنتیں بدل گئیں، نقشے بدل گئے، سرحدیں کھنچ گئیں اور زبانوں نے نئے رنگ اختیار کرلیے، مگر امیر خسرو کے کلام کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔

یوں ایک ایسا شاعر جو صدیوں پہلے دہلی کی تہذیبی فضا میں سانس لے رہا تھا، آج بھی پاکستان اور بھارت کی موسیقی میں بیک وقت سنائی دیتا ہے۔ شاید یہی امیر خسرو کےکلام کی سب سے بڑی طاقت ہے کہ ان کو کسی سرحد کی ضرورت نہیں۔ ان کا کلام سننےکے لیے پاسپورٹ چاہیے نہ ویزا، صرف ایک دل چاہیے جو لفظ، سُر اور جذبے کو محسوس کرسکے۔

امیر خسرو کو سننا دراصل برصغیر کی اس مشترکہ تہذیب کو سننا ہے جس میں فارسی بھی ہے، ہندی بھی، صوفیانہ فکر بھی ، لوک رنگ بھی، دربار بھی اور عوامی زندگی بھی۔ اسی لیے ان کا کلام آج بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک ایسا ثقافتی پُل ہے جس پر دونوں طرف کی موسیقی ایک دوسرے سے ملتی دکھائی دیتی ہے۔ درمیان میں ریڈیو، ٹیلی وژن، ریکارڈ اور موسیقی کی محفلیں اس سفر کی کڑیاں بنتی رہیں۔

حقیقت یہ ہےکہ، امیر خسرو آج بھی پاک و ہند کی مشترکہ تہذیبی یادداشت کے ایسے چراغ ہیں جس کی روشنی دونوں طرف دکھائی دیتی ہے۔ کبھی قوالی کی محفل میں، کبھی کلاسیکی موسیقی کے سُروں میں، کبھی ریڈیو کی لہروں،ٹیلی ویژن کی روشنی میں اور کبھی فلمی پردے پر۔

وہ شاعر بھی تھے، موسیقی کے شناسا بھی، زبانوں کے تجربہ کار بھی اور برصغیر کی اس تہذیبی فضا کے نمائندہ بھی جس میں مختلف زبانیں، ثقافتیں اور موسیقی کے رنگ ایک دوسرے میں رچے بسے نظر آتے ہیں۔ ان کے کلام میں صوفیانہ جذبہ بھی ہے اور لوک زندگی کی سادگی بھی، عشق کی کیفیت بھی اور انسانی جذبات کی وہ نزاکت بھی جو صدیوں بعد بھی دلوں کو چھو لیتی ہے۔

تقسیم ہند نے برصغیر کو دو ملکوں میں تقسیم کیا، لیکن امیر خسرو کے کلام کو تقسیم نہ کرسکی۔ پاکستان ہو یا ہندوستان، ان کا کلام دونوں طرف گونجتا رہتاہے۔ کبھی ’’چھاپ تلک سب چھینی‘‘ کی لے میں، کبھی ’’آج رنگ ہے‘‘ کی سرمستی میں اور کبھی ’’کاہے کو بیاہی بدیس‘‘ کی درد بھری آواز میں۔

سچ تو یہ ہے ’’امیر خسرو‘‘ کا نام سنتے ہی صدیوں پرانا برصغیر اپنی پوری تہذیبی رنگا رنگی کے ساتھ ہمارے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ وہ صرف ایک شاعر نہیں تھے، موسیقی کے رمز شناس، زبان کے تجربہ کار اور صوفیانہ روایت کے ایسے نمائندہ تھے جن کے کلام نے وقت اور سرحدوں دونوں کو عبور کیا۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ، موسیقی کے ساز بدلتے رہے، مگر امیر خسرو کے گیت وقت کی قید سے آزاد نہ ہوئے، جو محفلوں میں گونجتے گونجتے فلمی پردے تک پہنچ گئے۔ فلمی دنیا نے خسرو کو صرف ماضی کے شاعر کی حیثیت سے نہیں اپنایا، ان کے الفاظ کو نئی دھن، نئی آواز اور نئے چہروں کے ساتھ پیش کیا۔

فلموں میں بھی امیر خسرو کے کلام کا سفر کئی دہائیوں پر پھیلا ہوا ہے۔ کہیں ان کے اصل کلام سے چند اشعار لیے گئے اور کہیں ان کے ایک مصرعے سے متاثر ہوکر نیا فلمی گیت لکھا گیا۔ ’’چھاپ تلک سب چھینی رے، موسے نیناں ملائیکے‘‘نے تو خوب دھوم مچائی۔

1978 میں فلم ’’ میں تُلسی تیرے آنگن کی ‘‘ ریلیز ہوئی۔ موسیقار، لکشمی کانت، پیارے لال تھے، گلوکار، لتا منگیشکر، آشا بھوسلے، جب کہ اداکاروں میں نوتن، آشا پاریکھ، ونود کھنہ، وجے آنند اور ہدایت کار, راج کھوسلہ تھے۔ یہ فلم 4 اگست 1978 کو ریلیز ہوئی۔اس سے قبل ’’چھاپ تلک‘‘ میں بھی لتا اور آشا کی آوازوں کا امتزاج فلم کے مقبول ترین گیتوں میں شامل ہوا۔

1978ہی میں ایک اور فلم ’’آج رنگ ہے‘‘میں خسرو کا معروف صوفیانہ کلام گونجا، جس میں وہ اپنے مرشد حضرت نظام الدین اولیا سے روحانی وابستگی اور سرشاری کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ گیت کسی ہیرو یا ہیروئن کے روایتی فلمی گیت کی طرح نہیں فلمایا گیا، بلکہ تاریخی ماحول اور کہانی کے علامتی پس منظر کا حصہ بنا۔

فلم میں اس کلام کو بغاوت کی علامت کے طور پر استعمال کیا گیا۔ فلم’’زِحالِ مسکیں‘‘1985میں ریلیز ہوئی، اس میں خسرو کاگیت’’آج رنگ ہے‘‘ نے ایک بالکل نیا فلمی روپ اختیار کیا۔ 2004میں وشال بھردواج کی فلم ’’مقبول‘‘ میں خسرو کے کلام کو ایک نہایت مختلف انداز میں پیش کیا گیا۔ گیت ’’جھن من جِھنی‘‘ میں ’’آج رنگ ہے‘‘ کے کچھ حصے شامل کیے گئے۔

یہاں خسرو کسی الگ گیت کے طور پر نہیں بلکہ فلم کے صوفیانہ اور جذباتی ماحول میں ایک قدیم رنگ میں چھائے۔2015 میں ’’آج رنگ ہے‘‘ نےایک بار پھر بڑے پردے پررنگ جمایا، اس مرتبہ سلمان خان کی مقبول فلم ’’بج رنگی بھائی جان‘‘( Bajrangi Bhaijaan ) میں، نظامی برادران نے گایا۔ اس فلم کی عوامی رسائی نے خسرو کے صدیوں پرانے کلام کو نئی نسل تک پہنچایا۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ، ایک ہی کلام 1978کی فلم جنون سے لے کر 2015 کی’’بج رنگی بھائی جان‘‘ تک تقریباً چار دہائیوں میں دو بالکل مختلف فلمی ادوار کا حصہ بنا۔2017 کی فلم ’’انگریزی میں کہتے ہیں‘‘) Angrezi Mein Kehte Hain) میں بھی ’’آج رنگ ہے‘‘ شامل ہوا۔ اس مرتبہ اسے جتیندر پال سنگھ، سمیر ناز، مہیش کمار راؤ اور مصطفیٰ نے گایا، جبکہ اضافی بول یوگیش نے لکھے ، موسیقی اونی ادل کی تھی۔

پاکستانی فلم ’’چراغ جلتا رہا‘‘ جو1962میں ریلیز ہوئی، اس میں امیر خسرو کا معروف گیت ’’کاہے کو بیاہی بدیس“اقبال بانو نے کورس میں گایا۔ موسیقار نہال عبداللہ تھے۔ یہ گیت بعد میں برصغیر کی متعدد فلموں میں مختلف اداکاروں نے گایا، اس سے اس گیت کی مقبولیت کا اندازہ ہوتا ہے، جسے آج بھی پسند کی سند حاصل ہے۔

دوسری پاکستانی فلم ’’سات دن محبت اِن‘‘ جو 2018 میں سنیماؤں کی زینت بنی ، میں’’کاہے کو بیاہی بدیس“ کو نئی موسیقی کے ساتھ شامل کیا گیا،جسے معروف قوال فرید ایاز اور ابو محمد نے گایا، موسیقی وقار علی نے ترتیب دی۔یوں امیر خسرو کی صدیوں پرانی شاعری پاکستانی فلم کے پردے پر ایک نئے عہد کی آواز بن گئی۔

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ، خسرو کے کلام کو ہر دور کے موسیقار اپنی موسیقی اور فلمی ضرورت کے مطابق نئے انداز میں پیش کرتے رہے ہیں۔

وقت آگے بڑھا۔ ریڈیو، ٹیلی وژن ڈراموں اور موسیقی کے پروگراموں کے ذریعے خسرو کے کلام کو نئی نسل نے سُنا۔1975 میں پاکستان ٹیلی وژن کےموسیقی کے خصوصی پروگرام ’’سکل بن پھول رہی سرسوں‘‘ میں امیر خسرو کے متعدد گیت پیش کیے گئے، مسودہ فاطمہ ثریا بجیا نے لکھا تھا، ہدایت کارمرغوب احمد صدیقی تھے۔

بلقیس خانم اور عشرت جہاں نے کورس میں ’’سکل بن پھول رہی سرسوں،کاہے کو بیاہی بدیس، امبوا تلے ڈولا رکھ دے ، ہرا ہرا بانس کٹا مورے اور اماں میرے باوا کو بھیجو ری ‘‘ گایا، جب کہ نسیمہ شاہین، نگہت سیما نے چھاپ تلک سب چھین لی، کورس میں گایا۔

ٹیلی وژن ڈراما سیریل ’’الو برا فروخت نہیں‘‘ میں ’’آج رنگ ہے‘‘ نے نئی نسل کو امیر خسرو کے صوفیانہ کلام سے متعارف کرایا۔

خسرو کو برصغیر کی قوالی کی ابتدائی تشکیل میں ایک اہم شخصیت سمجھا جاتا ہے، جبکہ ان کے نام سے کئی موسیقی کی اختراعات بھی منسوب ہیں۔ انہوں نے فارسی کی درباری اور ادبی روایت کو ہندوستانی زبانوں، لوک رنگ اور مقامی موسیقی سے جوڑا، یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام آج بھی صرف کتابوں میں محفوظ نہیں بلکہ گایا، سنا اور محسوس کیا جاتا ہے۔

فلمی دنیا نے خسرو کے لفظوں کو اپنے رنگ میں خوب ڈھالا۔ ان کے گیت اور قوالیاں پاکستانی فلمی صنعت (لالی ووڈ) کی متعدد فلموں کا حصہ بنیں، جنہیں پاکستان کے صفِ اول کے گلوکاروں نے اپنی آوازوں میں ریکارڈ کروایا۔جیسے

چھاپ تلک سب چھین لی رے، امیر خسرو کا وہ مشہور ترین گیت ہے جسے پاکستانی فلموں اور ڈراموں میں سب سے زیادہ جگہ ملی۔ مہناز بیگم نے فلم ”روشنی“ میں اس گیت کو انتہائی خوبصورتی سے گایا، جبکہ ناہید اختر نے اس کا فلمی ورژن ریکارڈ کروایا۔

1962میں کئی دہائیاں بعد یہی کلام سات دن محبت اِن میں فرید ایاز اور ابو محمد کی آواز میں نئے انداز سے سامنے آیا۔

کاہے کو بیاہی بدیس، یہ بابل اور بیٹی کی رخصتی کا ایک روایتی اور جذباتی گیت ہے۔ 1962 میں فلم ’’چراغ جلتا رہا‘‘ میں اس گیت کو اقبال بانو نے کورس میں گایا تو یہ صدیوں پرانے کلام کا پاکستانی سینما میں ایک خوب صورت سفر تھا۔

بعد ازاں اسے دورِ جدید کی پاکستانی فلم ”سات دن محبت ان“ میں ماہرہ خان اور شہریار منور پر فلمایا گیا۔ اس سےقبل 2018 میں اسی فلم میں ’’کاہے کو بیاہی بدیس“ کو نئی موسیقی کے ساتھ شامل کیا گیا، جسے معروف قوال فرید ایاز اور ابو محمد نے گایا۔

زحالِ مسکیں مکن تغافل. فارسی اور ہندوی کے خوبصورت امتزاج پر مبنی صوفیانہ کلام کو گلوکارہ حدیقہ کیانی نے عاصم رضا کی فلم ”پرے ہٹ لو“ کے آڈیو البم کے لیے نئے انداز میں پیش کیا۔

استاد نصرت فتح علی خان اور صابری برادرز نے بھی امیر خسرو کے صوفیانہ کلام کو فلموں کے پسِ منظر اور لائیو محافل کے طور پر ریکارڈ کروا یا۔

مہناز بیگم نے امیر خسرو کے متعدد کلام ریکارڈ کیے، مثلاً ’’اماں میرے باوا کو‘‘، ’’چلی رے نئی نار‘‘، ’’گوندھو ری مالن‘‘، ’’ہرے ہرے بانس‘‘ اور ’’سکھی ری مورے نین‘‘۔ اسی طرح ناہید اختر کی ’’چھاپ تلک سب چھینی‘‘ اور ’’یہ رنگینیٔ نو بہار اللہ اللہ‘‘ بھی امیر خسرو کے کلام کی ریکارڈنگز ہیں۔ حدیقہ کیانی نے2012 میں کوک اسٹوڈیو میں ’’آج رنگ ہے‘‘ پیش کیا۔

امیر خسرو کون تھے؟

امیر خسرو کا اصل نام ابوالحسن یمین الدین خسرو تھا۔ وہ 1253ء میں پٹیالی، موجودہ اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ 1325ء میں دہلی میں وفات پائی۔ وہ شاعر ہی نہیں، موسیقار، عالم، صوفی اور درباری ادیب بھی تھے۔ ان کی شاعری کا بڑا حصہ فارسی میں ہے، جبکہ ہندوی میں بھی انہوں نے ایسا کلام تخلیق کیا جس نے بعد کی ہندوستانی زبانوں اور شعری روایت پر گہرا اثر ڈالا۔

ان کی زندگی کا سب سے روشن روحانی حوالہ حضرت نظام الدین اولیا سے ان کی عقیدت اور وابستگی ہے۔ خسرو ان کے مرید تھے ۔ ان کے مرشد سے تعلق نے ان کی شاعری اور موسیقی دونوں کو ایک خاص روحانی رنگ عطا کیا۔ وہ دربار سے وابستہ رہے، کئی سلاطین کے زمانے دیکھے، مگر ان کی اصل پہچان وقت گزرنے کے ساتھ ایک شاعر اور صوفی کی حیثیت سے مضبوط ہوتی گئی۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید