تفہیم المسائل
سوال: ہماری مسجد قدیم ہے ،1950سے قائم ہے، اب اس کو شہید کرکے دوبارہ تعمیر کرنا چاہتے ہیں، مسجد کے فرنٹ پر چار دکانیں ہیں، کمیٹی کے بعض افراد کا کہنا ہے کہ نیچے تہہ خانہ بنایا جائے، جس میں دکانیں، واش روم، اسٹور وغیرہ بنائے جائیں، اس میں دکانوں کے ساتھ عین ِمسجد کا کچھ حصہ بھی شامل ہوگا، محراب فرسٹ فلور پر بنے گی، نمازیں فرسٹ فلور پر ادا کی جائیں گی، کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟ (مولانا نعیم اقبال ،راولپنڈی)
جواب: فقہائے اَحناف نے اصول یہی بیان کیا ہے کہ مسجد زمین کی تہہ سے آسمان تک مسجد ہی کے حکم میں ہوتی ہے، علامہ شامی لکھتے ہیں: ترجمہ: ’’مسجد آسمان کی بلندی سے تحت الثریٰ تک مسجدہی ہے ،’’بیری ‘‘ میں’’ اسبیجابی ‘‘سے اسی طرح منقول ہے ،(رد المحتار علی الدر المختار، جلد: 2، ص: 370-371)‘‘۔
مسجد کی تکمیل کے بعد اگر ضرورت پڑے، تو مسجد کی تعمیرِ نو کی جاسکتی ہے، لیکن وہاں مسجد کے علاوہ کسی اور قسم کی تعمیر کرنا جائز نہیں ہے، خواہ وہ مسجد کی ضروریات اور سہولت ہی کے لیے کیوں نہ ہو، اس لیے مسجد کی جگہ پر تہہ خانے میں وضوخانہ، بیت الخلاء وغیرہ بنانا وقف کی ہیئت میں تبدیلی کے مترادف ہے اور یہ جائز نہیں ہے، علامہ نظام الدین رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ وقف کی ھیئت کو بدلنا جائز نہیں ،(فتاویٰ عالمگیری جلد 2ص: 490)‘‘۔
آپ کے سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد انتظامیہ گراؤنڈ فلور پر اصلِ مسجد کی جگہ تہہ خانہ بنانا چاہتی ہے، جس میں دکانیں، واش روم اور اسٹور وغیرہ بنائے جائیں گے، ایسا کرنا قطعاً جائز نہیں ہے، ابتداء ًبانیِ مسجد نے جتنے حصے پر عینِ مسجد کی نیت کی، وہ بحیثیت مسجد مکمل ہوگئی، اب اس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی، بانیِ مسجد کی اُس نیت کا اعتبار ہوگا جو اس نے وقف کرتے وقت کی، مسجد مکمل ہونے کے بعد بانیِ مسجد کو بھی تبدیلی کا اختیار حاصل نہیں ہے، انتظامی کمیٹی یا مُتولی مسجد کو تو قطعاً اختیار حاصل نہیں ہے۔
فتاویٰ عالمگیری (کتاب الوقف باب : 11) میں شمس الائمہ امام سرخسی کی محیط کے حوالے سے ہے: ترجمہ:’’متولی کے لیے مسجد کی حد یا فنائے مسجد میں دکانیں بنانا جائز نہیں ہے، کیونکہ مسجد کو جب دکان یا رہائش گاہ بنادیا جائے تو اس کا احترام ساقط ہوجاتا ہے اور یہ جائز نہیں ہے۔ اور فنائے مسجد چونکہ مسجد کے تابع ہے لہٰذا اس کا حکم بھی وہی ہوگا جو مسجد کاہے، جیسا کہ ’’محیط السرخسی ‘‘ میں ہے،(فتاویٰ عالمگیری، جلد:2،ص:462)‘‘۔
صورتِ مسئولہ میں گراؤنڈ فلور پر جتنی جگہ عینِ مسجد کے طور پر وقف تھی، اُسے مسجد ہی رہنے دیں، اس کی ہیئت تبدیل نہ کریں ، پنج وقتہ نمازوں کی جماعت فرسٹ فلور پر کی جاسکتی ہے، ایسی صورت میں جو لوگ گراؤنڈ فلور پر نماز ادا کررہے ہیں، انہیں امام کے انتقالات یعنی رکوع اور سجدہ میں جانے، قعدہ (تَشہُّد) میں بیٹھنے اور سلام پھیرنے کا علم ہونا چاہیے۔ لیکن گراؤنڈ فلور کی مسجدیت کو باطل نہیں کیا جاسکتا اور اس جگہ کو کسی دوسرے مصرف میں بھی نہیں لایاجاسکتا۔
اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
darululoomnaeemia508@gmail.com