تفہیم المسائل
سوال: ہمارے ہاں سرکاری زمین پر ایک جامع مسجد بنائی گئی تھی، بہت عرصہ زیرِ استعمال رہی، لیکن اب مسجد کی عمارت بہت زیادہ خستہ حال ہو چکی ہے، سرکاری سطح پر اسے ناقابلِ استعمال قرار دے دیا گیا ہے، کسی بھی وقت حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کے قریب اسی نام سے ایک اور مسجد تعمیر کی گئی ہے، کیا پرانی مسجد کو شہید کیا جاسکتا ہے، ( احمد دانیال ، کراچی)
جواب: فقہائے اَحناف نے اصول یہی بیان کیا ہے کہ مسجد زمین کی تہہ سے آسمان تک مسجد ہی کے حکم میں ہوتی ہے، صاحبین(امام محمد اور امام ابو یوسف رحمہما اللہ تعالیٰ) کے مطابق وہاں پر ایک مرتبہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کر لی گئی، تو اب اس مسجد کی مسجدِیَّت تمام ہوگئی اور وہ جگہ زمین سے آسمان تک مسجد ہوگئی، اب اس میں کسی قسم کی تبدیلی کرنا جائز نہیں ہے، تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے : ’’مسجد آسمان کی بلندی تک اور اسی طرح ’’تَحْتَ الثَّریٰ‘‘ تک مسجد ہی ہے ،’’بیری ‘‘ میں’’ اسبیجابی ‘‘سے اسی طرح منقول ہے۔
کسی جگہ کو مسجد کے لیے وقف کیے جانے سے ہی وقف مکمل ہوجاتا ہے اور لوگوں کو وہاں اذان، نماز اور باجماعت نمازکی اجازت دینے سے ہی اس جگہ پر مسجدِ شرعی کا اطلاق ہو جاتا ہے، مسجدِ شرعی ہونے کے لیے تعمیرات کا ہونایا بنیاد پڑنا ضروری نہیں ہے، تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے :’’کسی شخص کے یہ کہنے سے کہ میں نے زمین کے اس حصے کو مسجد بنا دیا ہے یا عملاً اس میں نماز پڑھی جارہی ہے، وہ زمین اس کی ملکیت سے نکل جائے گی،(ردالمحتارجلد 6ص:426،بیروت )‘‘۔
اب اس کی مسجدیت کو باطل نہیں کیا جاسکتا، علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں: ’’ اگر مسجدیت مکمل ہو گئی یعنی مفتیٰ بہٖ قول کے مطابق زبان سے(اس جگہ کو مسجد قرار دے دیا) یاصاحبین کے نزدیک وہاں نماز پڑھ لی گئی ہو،’’فتاویٰ تتارخانیہ ‘‘کی عبارت یہ ہے:’’جب مسجد کی عمارت بنائی(اور) اس کو لوگوں کے حوالے کردیا، پھر آکر(اس میں کوئی اورچیز) تعمیر کرنا چاہتا ہے تو اس کو اجازت نہیں دی جائے گی‘‘ ، (ردالمحتار،جلد:4،)‘‘۔
آپ کے لیے مشورہ یہی ہے کہ شرعی احکام کے پابند رہیں، مسجد اگر مخدوش حالت میں ہے، تو عمارت کو منہدم کرکے ممکن ہو تو نئی عمارت یا ایک احاطہ بناکر نمازوں کے لیے کھول دیں، اُ س جگہ کو کسی دوسرے مصرف میں استعمال نہ کریں، اس کی مسجدیت کو باطل نہ کریں، وقف میں کسی طرح کی تغییر جائز نہیں ہے، علامہ نظام الدین لکھتے ہیں :’’ وقف کی ھیئت کو بدلنا جائز نہیں،(فتاویٰ عالمگیری جلد 2ص: 490)‘‘۔
صورتِ مسئولہ میں مسجد کا مُجاز ادارے سے اگرچہ وقف کیا جانا ثابت نہیں ہے، لیکن ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ سرکاری زمین پر، خواہ وہ رفاہی مقاصد کے لیے ہویا کسی اور مقصد کے لیے، مسجد بنالی جاتی ہے اور برسوں وہ بطور مسجد استعمال ہوتی ہے، تو اسے ہم رضائے سکوتی سے تعبیر کرتے ہیں، پس اب عرصۂ دراز کے بعد اس کی مسجدیت کا باطل کرنا شرعاً بھی درست نہیں ہے اور یہ فساد کا سبب بھی بنتا ہے۔
اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
darululoomnaeemia508@gmail.com