آپ کے مسائل اور اُن کا حل
سوال: میں نے ایک پلاٹ پانچ مرلے کا 2015 میں 30 لاکھ روپے میں قسطوں پر خریدا، 2019 میں قسطیں مکمل ہو گئیں، اب اس کی قیمت 70 لاکھ روپے ہے تو زکوٰۃ کا حکم کیا ہوگا؟ زکوٰۃ 70 لاکھ روپے پر لگے گی یا 40 لاکھ روپے پر یعنی 30 لاکھ روپے تفریق کر کے؟ زکوٰۃ 2015 سے لگے گی یا 2019 سے؟
جواب: اگر مذکورہ پلاٹ خریدتے وقت ہی اسے فروخت کر کے نفع حاصل کرنے کی نیت تھی اور اس وقت سے اب تک یہی نیت بر قرار ہے تو یہ پلاٹ مالِ تجارت شمار ہوگا اور اس پر 2015ء سے اب تک ہرسال کی زکوٰۃ واجب ہوگی، یعنی آپ کے صاحبِ نصاب ہونے کی جو تاریخ ہے جس میں آپ زکوٰۃ کا حساب کرتے ہیں، 2015 سے آج تک ہر سال اس تاریخ میں اس پلاٹ کی مارکیٹ ویلیو (بازار میں جو قیمت ہو اس) پر زکوٰۃ ہوگی۔
آپ کے بقول ابھی اس کی قیمت 70 لاکھ روپے ہے تو مجموعی مالیت 70 لاکھ روپے پر زکوٰۃ ہوگی، صرف 30 یا 40 لاکھ پر نہیں ہوگی۔ اگر آپ کو ہر سال زکوٰۃ کا حساب کرتے ہوئے اس پلاٹ کی بازار میں قیمت معلوم تھی تو اسی کے مطابق زکوٰۃ کا حساب کرلیجیے۔
سوال کے ظاہر سے یہ معلوم ہورہا ہے کہ آپ نے ابھی تک اس پلاٹ کی زکوٰۃ نہیں دی ہے، اور بظاہر پلاٹ کی ہر سال کی بازاری و عرفی قیمت معلوم کرنا مشکل ہوگا، اس لیے اب گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ کی ادائیگی کا آسان طریقہ یہ ہوگا کہ اس پلاٹ کی موجودہ قیمتِ فروخت لگاکر (جو آپ کے بقول 70 لاکھ ہے) اس کا ڈھائی فیصد بطورِ زکوٰۃ نکال لیجیے، اس کے بعد جو باقی بچے اس کا ڈھائی فیصد بطورِ زکوٰۃ نکال لیجیے، اس طرح ہر سال کی زکوٰۃ منہا کرنے کے بعد جو رقم بچ جائے اس سے زکوٰۃ نکالتے رہیے، یہاں تک کہ گزشتہ 11 سال کی زکوٰۃ ادا ہوجائے۔
تاہم اگر آپ کو ہر سال زکوٰۃ کی تاریخ پر اس پلاٹ کی بازاری و عرفی قیمت معلوم تھی تو ہر سال اس پلاٹ کی قیمتِ فروخت کو دیکھ کر اس وقت مجموعی مالیت کا ڈھائی فیصد بطورِ زکوٰۃ دینا ہوگا، البتہ ہر سال، زکوٰۃ کی تاریخ تک اس سال کی واجب الادا اَقساط کل رقم سے منہا کرنے کے بعد بقیہ رقم کی زکوٰۃادا کی جائے گی۔ لیکن اگر پلاٹ خریدتے وقت نفع پر فروخت کر کے منافع حاصل کرنے کی نیت نہیں تھی تو یہ مالِ تجارت نہیں شمار ہوگا، اور اس پر زکوٰۃ نہیں ہوگی، خواہ پلاٹ خریدتے وقت اپنی رہائش یا کرائے پر دینے کے لیے تعمیر کا ارادہ تھا یا اولاد میں سے کسی کو دینے کا ارادہ تھا یا ضرورت کے وقت کے لیے اسے خریدا تھا یا مختلف ارادوں میں تردد تھا یا قصداً کوئی نیت نہیں کی تھی، اسی طرح اگر خریدتے وقت تو نفع پر فروخت کرنے کی نیت نہیں تھی، لیکن خریدنے کے بعد نفع حاصل کرنے کا ارادہ ہوگیا یا خریدتے وقت تو نفع حاصل کرنے کی نیت تھی، لیکن پھر نیت تبدیل ہوگئی، ان تمام صورتوں میں پلاٹ مالِ تجارت شمار نہیں ہوگا، اور اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔
اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
iqra@banuri.edu.pk