• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بڑے پیشاب کی تھیلی لگی ہونے کی صورت میں نماز کے لیے مسجد جانے اور عمرے کا حکم

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال: مجھے آنت کا کینسر ہوا تھا، ڈاکٹروں نے آپریشن کے ذریعے پیٹ کی سائیڈ پر پاخانے کا بیگ لگا دیا تھا اور قدرتی راستہ بند کر دیا تھا، اب پاخانہ اور گیس غیر ارادی طور پر خارج ہوتے ہیں، بیگ سے بدبو اور آواز بھی آتی ہے، مسجد جانے سے باقی نمازی کراہت اور نفرت محسوس کرتے ہیں، جمعہ، عیدین یا عام نمازوں میں میرے لیے شرعی لحاظ سے کیا حکم ہے؟ نیز میرے لیے عمرہ وغیرہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب: صورت ِ مسئولہ میں اگر آپ ناپاکی کو کسی چیز سے چھپا لیں، بیگ کی بدبو اور آواز کو زائل کرنے کی تدبیر اختیار کرلیں اور ناپاکی مسجد میں نہ گرنے کا ظن ِغالب ہو تو آپ کے لیے جمعہ، عیدین اور عام نمازوں کے لیے مسجد جانا اور عمرہ کے لیے جانا جائز ہے۔

واضح رہے کہ پاکی کے اَحکام کے اعتبار سے آپ شرعاً معذور ہیں، یعنی آپ کے لیے ہر نماز کے وقت کے لیے وضو کرکے اسی حالت میں نماز پڑھنا جائز ہے، اور اس نماز کے وقت کے اندر آپ جتنی فرض یا نفل نمازیں پڑھنا چاہیں، پڑھ سکتے ہیں، قرآن مجید کو چھو سکتے ہیں اور طواف کرسکتے ہیں، بشرط یہ کہ جو عذر در پیش ہے (یعنی پاخانہ یا گیس کا غیر ارادی طور پر خارج ہونا) اس کے علاوہ وضو توڑنے والی کوئی دوسری چیز (مثلًا: جسم سے خون نکل کر بہنا وغیرہ) پیش نہ آئے۔ 

جب نماز کا وقت ختم ہوگا تو آپ کا وضو ٹوٹ جائے گا، اگرچہ وضو کو توڑنے والی کوئی دوسری چیز پیش نہ آئی ہو۔ (عمدۃ القاری ، کتاب الحیض ، باب الاعتکاف للمستحاضہ، ج:3، ص:280، ط:دارالفكر – ردّ المحتار،کتاب الطہارة، ج: 1،ص: 305، 306، مطلب فی أحكام المعذور، و کتاب الصلاۃ ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا ، فروع افضل المساجد ، ج:1، ص:661، ط: سعید )

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

iqra@banuri.edu.pk

اقراء سے مزید