ڈاکٹر نعمان نعیم
قرآن کریم حفظ کرنا فرضِ کفایہ اور باعثِ اجر وثواب ہے۔ آپ ﷺ نے خود قرآن کریم حفظ کیا، صحابہ کرامؓ کو اس کی ترغیب دی، بلکہ جو شخص ایمان لاتا اول آپ ﷺ اسے قرآن کریم سکھاتے اور پھر وہ قرآن سیکھنے کے بعد اوروں کو سکھاتا اور حفظ کراتا، جس کی بناء پر ہزاروں صحابہؓ قرآن کریم کے حافظ بنے۔
ایک غزوہ میں ستر قاری شہید ہوئے اور جنگِ یمامہ میں سات سو قرآن کریم کے حافظ شہید ہوئے، جس پر حضرت عمر ؓ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے عرض کیا: ’’قرآن کریم کو کتابی صورت میں بھی محفوظ کرائیے، اس طرح حفاظ شہید ہوتے رہے تو کہیں قرآن کریم ہی نہ اُٹھ جائے۔‘‘ جس کے بعد قرآن کریم کو حفظ کے ساتھ ساتھ کتابی صورت میں بھی جمع کیا گیا اور کیا جاتا رہا۔
ارشادِ ربّانی ہے:’’ ہم آپ کو پڑھائیں گے، آپ بھول نہیں پائیں گے۔‘‘ (سورۃالاعلیٰ:۶) اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم کے نزول کے مقاصد میں سے اُسے حفظ کرنا اور یاد کرنا بھی ہے۔(ترجمہ)’’ اور کہنے لگے وہ لوگ جو منکر ہیں کیوں نہ اُترا اس پر قرآن سارا (اکٹھا) ایک جگہ ہوکر (ایک بار) اسی طرح اتارا، تاکہ ثابت رکھیں ہم اس سے تیرا دل اور پڑھ سنایا ہم نے اس کو ٹھہر ٹھہر کر۔‘‘(سورۃالفرقان:۳۲)
معلوم ہوا کہ قرآن کریم کو تھوڑا تھوڑا اس لیے اُتارا جاتا تھا، تاکہ آپ اسے آسانی سے یاد کرسکیں۔ارشاد ربانی ہے’’ وہ تو ہمارا ذمہ ہے اس کو جمع کرنا (کردینا) تیرے سینہ میں اور پڑھنا تیری زبان سے، پھر جب ہم پڑھنے لگیں فرشتہ کی زبانی تو ساتھ رہ اس کے پڑھنے کے، پھر مقرر ہمارا ذمہ ہے اس کو کھول کر بتلانا۔‘‘ (القیامۃ:۱۷،۱۸، ۱۹)
اس آیت سے بھی معلوم ہوا کہ قرآن کریم کو حفظ کرنا اور اسے پڑھنا بھی قرآن کریم کے مقاصد میں سے ہے۔(ترجمہ)’’ ہم نے آپ پر اُتاری ہے یہ نصیحت اور ہم آپ اس کے نگہبان ہیں۔‘‘(سورۃالحجر:۹ )قرآن کریم کی حفاظت سے مراد اس کے الفاظ اور معانی دونوں کی حفاظت ہے۔ اُمت میں تاقیامت ایسے حفاظِ قرآن پیدا ہوتے رہیں گے جو اس کے ہر حرف اور معنی کی حفاظت کرتے رہیں گے۔
چونکہ قرآن کریم آخری کتاب ہے اور ہمیشہ کے لیے ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا ذمہ خود لیا اور ایسی حفاظت فرمائی کہ آج تک شرق وغرب میں اس کے لاکھوں حفاظ موجود ہیں اور وہ تواتر کے ساتھ روئے زمین کے مسلمانوں کی زبانوں پر یکساں محفوظ ہے۔ ایک لفظ یا زبرزیر کا فرق نہیں۔ بفرضِ محال اگر قرآن کریم کے تمام مکتوبی اور مطبوعی نسخے روئے زمین سے معدوم ہوجائیں تب بھی قرآن کریم کا ایک جملہ اور ایک کلمہ بھی نہ ضائع ہوسکتا ہے اور نہ بدلا جاسکتا ہے۔
امام رازیؒ فرماتے ہیں کہ: دنیا کی کوئی کتاب ایسی محفوظ نہیں، جیسا کہ یہ قرآن کریم محفوظ ہے، سوائے قرآن کریم کے کوئی کتاب دنیا میں ایسی نہیں جس میں تغیر وتبدل اور تصحیف وتحریف واقع نہ ہوئی ہو۔ (تفسیر کبیر، ج:۵،ص:۲۶۵)
علمائے کرام نے لکھا ہے کہ قرآن کریم کی حفاظت کے ذرائع صرف دو ہی ہوسکتے ہیں: ایک کتابت اور دوسرا اُسے حفظ کرنا، قربِ قیامت میں قرآن کریم کے الفاظ اُٹھا لیے جائیں گے، لیکن ’’حفظِ قرآن‘‘ کی صورت میں حفاظت کا ذریعہ باقی رہے گا اور یہ آخرت بلکہ جنت تک ساتھ جائے گا، اس پر کئی احادیث وارد ہیں۔
’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے قرآن کریم میں مہارت حاصل کرلی ہو، وہ معزز فرشتوں کے ساتھ ہوگا جو سفیر اور نیکوکار ہیں اور جو شخص قرآن کریم اَٹکتا ہوا پڑھتا ہے، اور اس میں دقت اُٹھاتا ہے، اس کے لیے دو اجر ہیں۔‘‘(رواہ البخاری ، ج:۱، ص:۲۶۹)
ماہر وہی کہلاتا ہے جس کو یاد بھی خوب ہو اور پڑھتا بھی خوب ہو۔حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ رسولِ دو عالم ﷺسے روایت کرتے ہیں: ترجمہ: ’’جس بندے نے قرآن کریم پڑھا، اس نے علومِ نبوت (قرآن) کو اپنی پسلیوں کے درمیان (دل میں) لے لیا، گواس کی طرف وحی نہیں کی جاتی۔
صاحبِ قرآن کے لیے مناسب نہیں کہ وہ غصہ کرنے والے کے ساتھ غصہ کرے۔ اور نہ یہ مناسب ہے کہ وہ جہالت والے کے ساتھ جہالت سے پیش آئے، جبکہ اس کے پیٹ (دل) میں اللہ تعالیٰ کا کلام موجود ہے۔‘‘ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان والحاکم فی المستدرک)
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا:’’ قیامت کے روز قرآن مجید آئے گا اور سفارش کرے گا: اے رب! اس (حافظ) کو پہنائیے، پس (رب تعالیٰ اس کو) کرامت کا تاج پہنائیں گے، پھر کہے گا: اے رب! اس حافظ کے لیے اور زیادہ فرما تو (اللہ تعالیٰ) اس کو کرامت کی پوشاک پہنائیں گے، پھر کہے گا: میرے رب! اس سے راضی بھی ہوجائیے، پس کہاجائے گا: پڑھتا جا اور (جنت میں) چڑھتا جا اور ہر آیت کے بدلہ ایک حسنہ (نیکی) کا اضافہ کیا جائے گا۔‘‘ (سنن ترمذی، ج:۲، ص:۱۱۹)
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ قرآن ہر شئے سے افضل ہے، جس نے قرآن کی تعظیم کی اس نے اللہ تعالیٰ کی تعظیم کی اور جس نے قرآن کی بے قدری (اور توہین) کی اس نے اللہ تعالیٰ کے حق کی ناقدری کی، حاملینِ قرآن (حفاظ اور علماء) اللہ تعالیٰ کی رحمت کے احاطہ میں ہیں، کلام اللہ کی عظمت اور قدر کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نور میں ملبوس ہیں، جنہوں نے ان سے دوستی رکھی انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دوستی رکھی، جنہوں نے ان سے دشمنی رکھی بے شک انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حق کی ناقدری کی۔‘‘ (الجامع لاحکام القرآن للقرطبیؒ، ج:۱،ص:۲۶)
حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا:’’ بے شک جنت کے درجات قرآن کی آیات کی تعداد کے برابر ہیں، پس حفاظِ قرآن میں سے جو جنت میں داخل ہوگا اور پورا قرآن پڑھے گا اس سے اوپر کوئی نہیں ہوگا۔‘‘(البیہقی فی شعب الایمان )