• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میر رضا علی کیس، کراچی پولیس کے تفتیشی نظام کی خامیاں بے نقاب

کراچی (ثاقب صغیر)میر رضا علی کیس میں سامنے آنے والی تفتیشی خامیوں نے کراچی پولیس کے شعبہ تفتیش کی کارکردگی، پیشہ ورانہ صلاحیت اور نگرانی کے نظام سے متعلق اہم سوالات کھڑے کئے ہیں۔کمیشن کی رپورٹ میں پولیس تفتیش کے مختلف مراحل میں بہتری، کرائم سین یونٹس کی استعداد بڑھانے، فرانزک سائنس ڈویژن سے رابطے کو مؤثر بنانے، تفتیشی افسران کی جدید تکنیکوں پر تربیت اور شواہد کی تحویل کے لئے واضح طریقہ کار وضع کرنے کی سفارشات کی گئی ہیں۔ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق "یہ کیس پولیس کی جانب سے تفتیش میں بدترین ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔ پولیس نے دانستہ یا نادانستہ طور پر ان تمام ضروری ضابطہ جاتی تقاضوں کی خلاف ورزی کی جو عدالتی جانچ پڑتال پر پورا اترنے اور مقدمے میں کامیاب استغاثہ کے لئے لازمی ہوتے ہیں۔ لاش کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر پولیس کا ابتدائی ردعمل فوری تھا، تاہم اس کے بعد پیش آنے والے واقعات میں پولیس کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی"۔کراچی پولیس کے تفتیشی نظام کو درپیش اہم چیلنجز میں تفتیشی افسران کی پیشہ ورانہ تربیت، جدید فرانزک سہولتوں سے مؤثر استفادے، شواہد کی محفوظ تحویل، مختلف تحقیقاتی اداروں کے درمیان رابطے اور تفتیش کی نگرانی کے نظام کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت شامل ہے۔ ۔ڈیجیٹل نظام میں رسائی کے اختیارات، ریکارڈ میں تبدیلیوں کا لاگ، ڈیٹا کا محفوظ بیک اپ اور معلومات کے تحفظ کے اقدامات بھی شامل ہونے چاہئیں۔ جہاں غفلت یا قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہو، وہاں شفاف اور منصفانہ کارروائی کی جائے جبکہ محض کسی مقدمے کے نتیجے کی بنیاد پر افسر کو قصوروار قرار دینے کی بجائے اس کے اختیار، دستیاب وسائل اور کئے گئے اقدامات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔تفتیشی افسران کو غیر ضروری انتظامی اور دیگر ڈیوٹیوں سے حتی الامکان محفوظ رکھتے ہوئے انہیں مقدمات کی تحقیقات کے لئے مناسب وقت دیا جانا چاہئے۔ اس کے ساتھ پیچیدہ مقدمات کے لئے خصوصی تحقیقاتی یونٹس، تربیت یافتہ ڈیجیٹل فرانزک ٹیموں اور پولیس و میڈیکو لیگل شعبوں کے درمیان مشترکہ رابطہ کاری کو فروغ دینا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اہم خبریں سے مزید