آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے:دنیا ترقی کر کے کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہم دھرنوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔
ہم من حیث القوم پہنچے ہوئے ہیں اس لئے ہمیں ترقی کی نہیں موج مستی کی ضرورت ہے، اور اس کا اہتمام دھرنوں میں بطریق احسن کیا گیا ہے، وزیراعظم اور ہمیں کہاں پہنچانا چاہتے ہیں، دھرنے والوں کی فکر نہ کریں ان کے دھرنے اور حکومت کے لئے سیلاب کافی شافی ہیں جو حسن کارکردگی سیلابوں کے دوران دیکھنے میں آتی ہے، اگر یہ جملہ ادوارِ حکومت کی کل مدت میں بھی ہوتی تو آج سیلاب ہوتے نہ دھرنے، کالا باغ ڈیم اور کئی اور چھوٹے ڈیم تعمیر ہو چکے ہوتے تو ہمارے پاس سمندر کو پانی کا نذرانہ دینے کے لئے ایک قطرہ بھی نہ ہوتا، شاعر مشرق سے نہایت معذرت کے ساتھ اب ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے؎
ملے ہم سے سمندر کو فقط شبنم
بخیلی ہے یہ رزاقی نہیں ہے
ایک صاحب جو اہل دل تھے یا نہیں انہوں نے قومی نشریاتی ادارے کی کرسی پر بیٹھ کر بڑے اطمینان سے کہا: کالا باغ ڈیم متنازعہ ہے، ہم نہیں چاہتے کہ مردان، نوشہرہ، چارسدہ ڈوب جائے (چاہے سیلابوں سے سارا ملک ڈوب جائے) اب ان صاحب کو حضرت شمس الحق سابق چیئرمین واپڈا ہی مدلل جواب دیں تاکہ عوام کو معلوم ہو کہ کالا باغ ڈیم ڈبوئے گا یا ڈوبنے سے بچائے گا، ہمارے ہاں اپنے گناہوں کو چھپانے کے لئے قرآنی آیات تک سے

کام لیا جاتا ہے تو پھر اس غربت زدہ قوم سے حصولِ اقتدار کا کام کیوں نہ لیا جائے، ہم نے سمندر کو اتنا پانی 67برسوں میں دان کیا کہ وہ سونامی بن کر ریڈ زون تک پہنچ گیا اور انقلاب کی صورت اختیار کر گیا کہ سب کچھ الٹ پلٹ دیا، اب تو؎
’’ہم‘‘ اپنی ادائوں پر ذرا غور کریں!
مرکزی دارالحکومت یرغمال بن چکا ہے، تاوان دے کر ہی چھڑایا جا سکتا ہے، اور یہ تاوان آسمان کسی نہ کسی وسیلے سے وصول کر لیتا ہے، ڈیموں کی فزبیلٹی رپورٹیں تیار ہوتی رہیں، جشن افتتاح بھی منائے جاتے رہے مگر کسی حکومت نے باقاعدہ تعمیر تک بات پہنچنے نہ دی، تاآنکہ اب جان سب کی لبوں پر ہے اور ہا ہاکار مچی ہوئی ہے اللہ کو پکارا جا رہا ہے کہ؎
بہ لبم رسیدہ جانم تو بیا کہ زندہ مانم
پس اذاں کہ من نہ مانم بہ چہ کار خواہی آمد
(میری جان لبوں پر ہے، تو آ کہ ابھی زندہ ہوں، جب زندہ ہی نہ رہا تو کس لئے آئو گے۔
٭٭٭٭
ہم نے ایک یہ بددیانتی بھی کی کہ عذاب الٰہی کو نازک موڑ کا نام دے کر لینگویج کی باڈی ہی بدل ڈالی، یہ قادری و خان اور سیلاب نہیں عذاب ہے، وہ سخت پکڑ ہے جس کا فاعِل رب ذوالجلال ہے، عوام اس لئے غریب ہیں کہ وہ صرف امرأ کا انتخاب کرتے ہیں، اور کرپشن اتنی مہلک نہیں جتنی کرپٹ ذہنیت ہے اور اس ’’فضیلت‘‘ سے ہم اجتماعی طور پر مالا مال ہیں، داروغہ والا لاہور میں ناقص میٹریل سے تعمیر کی گئی مسجد نمازیوں پر گر پڑی، درجنوں شہید ہو گئے، اگر ہم اللہ کے گھر ناقص اور اپنے گھر بہترین میٹریل سے تعمیر کریں گے تو ہمارے مکان انتہائی کچے ثابت ہوں گے، بُرا وقت کبھی اچانک نہیں آتا، دستک دے کر آتا ہے، قرآن حکیم اس حقیقت سے بھرا پڑا کہ یہ جو کچھ تمہارے سامنے آ رہا ہے تمہارے ہاتھوں کا کمایا ہوا ہے، کہا جاتا ہے یہ ناگہانی آفات تو امریکہ میں بھی آتی ہیں وہاں بھی کچھ وکھری ٹائپ کے منفی اسباب ہوں گے لیکن ہم اپنے گناہوں کو چھپانے کے لئے کسی اور کا حوالہ کیوں دیتے ہیں، ان کے ہاں تو برائے نام نقصان ہوتا ہے کہ اُن کے پاس تلافی کا سامان موجود ہے، عدل ہے تعلیم عام ہے ریاست ہر ضرورت پورا کرنے کی ذمہ دار ہے وہاں کے تو مرے ہوئے بھی ہمارے زندوں سے بہتر کنڈیشن میں ہوتے ہیں، اور ہمارے ہاں بزبان اقبال؎دہقاں ہے کسی قبر کا اُگلا ہوا مردہ، یہ اقتدار کا عشق اپنے سر لینے کو کیسے کیسے جلسے تقاریر اور لن ترانیاں ہوتی ہیں مگر جب گڈ گورننس قائم کرنے کی باری آتی ہے تو پھر بلبل شیراز حافظ کا یہ شعر گویا لبوں پر ہوتا ہے
اَلا یا ایہا الساقی اَدِر کاساً و ناولہا
کہ عشق آساں نمود ا ول ولے افتاد مشکلہا
(اے ساقی خبر دار ہو جا، جامِ شراب گردش میں لا اور پکڑاتا جا، کہ عشق (حکمرانی) پہلے تو آسان نظر آیا مگر سنبھالا تو میری گھگھی بندھ گئی)
اس دنیا میں ہر نقصان اٹھانے میں انسان کا اپنا ہاتھ ہوتا ہے، اور الزام معاذ اللہ کبھی اللہ کو کبھی ناگہانی قدرتی آفات کو قرار دیتا ہے، جب عدل نہ ہو گا تو وہ سب کچھ اور مزید کچھ ہو گا جس سے ہم دوچار ہوتے رہیں گے، توبہ کر کے پھر وہی کام کرنا آسمان کو برہم کرنا ہے۔
٭٭٭٭
طاہر القادری فرماتے ہیں:جیو پر حملہ قابل مذمت ہے، جیو کا نام لیا نہ کارکنوں کو اکسایا، قائد انقلاب حضرت شیخ الاسلام نے کہہ دیا ہم نے مان لیا، جیو پر حملہ کسی اور سیارے کی مخلوق نے عمران خان کے جنات کے ساتھ مل کر کیا ہو گا، اور یہ حملہ کوئی ایک بار تو نہیں بار بار ہوا، پاکستانی میڈیا کے سب سے بڑے نشریاتی و صحافتی قومی ادارے پر پتھرائو تو گویا اب اشغالِ دھرنا بازوں کا وتیرہ بن چکا ہے، قصور یہ ہے کہ جیو کا کیمرہ جو دیکھتا ہے دکھاتا ہے، اب اگر منظر دیکھنے کے قابل نہ ہو تو اس میں جیو کی کیا خطا ہے، خان صاحب کے موضوعاتِ کنٹینرمیں ایک موضوع جیو جنگ گروپ بھی ہوتا ہے، شاید وہ جنگ کا مطالعہ نہیں کرتے کہ کتنے ہی کالم ان کے کاز کی موافقت میں لکھے جاتے ہیں، میڈیا تو ہر نقطۂِ نظر کو بلا کم و کاست پیش کرتا ہے، اور یہی کام جیو/جنگ گروپ بھی کر رہا ہے، اب اگر 28روز سے ایک جیسی تکرار ہو تو چینلز کو بھی خان صاحب کی کوریج محدود کرنا پڑی، استعفیٰ لینے کی رٹ سے لوگ تنگ آ گئے ہیں تو اس کا غصہ جیو پر کیوں نکالا جاتا ہے، افسوس بلکہ تعزیت کرنے کو جی چاہتا ہے کہ دونوں کزنوں کا کس قدر خوبصورت امیج تھا، جسے انہوں نے اپنے ہاتھوں بگاڑ کر رکھ دیا، شروع میں جب غریب عوام کے لئے مثبت تبدیلی لانے کی دو آوازیں بلند ہوئیں تو ہم نے جانا کہ
ہم تو سمجھے تھے کہ برسات میں برسے گی شراب
آئی برسات تو برسات نے دل توڑ دیا
اور بیچارے شرکاء کارکنوں سے پوچھتے رہتے ہیں؎
آپ کو پیار ہے مجھ سے کہ نہیں ہے مجھ سے
جانے کیوں ایسے سوالات نے دل توڑ دیا
بہرحال آغا حشر کا یہ شعر پڑھتے ہوئے اب گھرو گھری جائیں؎
کچھ تو دنیا کی عنایات نے دل توڑ دیا
اور کچھ تلخیٔ حالات نے دل توڑ دیا
٭٭٭٭
من مانیاں بے ایمانیاں
....Oدو روز میں ایل پی جی کی قیمتوں میں دوسری بار 5روپے کلو اضافہ
یہ مہنگائی کی افزائش سے باز کیوں نہیں آتے،
....Oملتان، مظفر گڑھ کے سینکڑوں دیہات زیرِ آب، 2½لاکھ افراد متاثر، سندھ میں سپر فلڈ کی وارننگ جاری،
شامتِ اعمات ما صورت نادر گرفت
ہمارے اعمال نے کتنے بڑے تباہ کن سیلاب کی صورت اختیار کر لی کہ جس کی مثال نہیں ملتی، اللہ ہم پر رحم کرے،
....Oخبر ہے کہ دھرنے کے مقاصد میں ناکامی کی ذمہ داری عمران خان پر ہو گی،
ڈر ہے کہ اب کوئی اصلی عمران خان منظر عام پر نہ آ جائے،
....Oچینی صدر کا دورہ موخر ہوا ہے منسوخ نہیں ہوا، دفتر خارجہ پاکستان،
دفتر خارجہ کو مبارک ہو، دھرنوں کے خلاف چینی صدر کا دورہ بھی سیاسی فائدہ دے گیا،
....Oضمنی الیکشن آزاد لڑوں گا:مخدوم جاوید ہاشمی
تحریک انصاف بلکہ آزادی مارچ کا ہر لیڈر آزاد ہو جائے گا اور آزاد الیکشن لڑے گا،
آزادی مارچ کا کچھ تو فائدہ ہوا، دھیرے دھیرے مقاصد پورے ہوتے جائیں گے،
....Oعمران خان: پارلیمنٹ میں بیٹھے افراد کا مک مکا ہو چکا کہ ایک دوسرے کی چوری نہیں بتانی،
دونوں کنٹینروں میں بھی تو مک مکا ہو چکا ہے کہ ’’کھوئی والی گل‘‘ نہیں بتانی،
....Oنواز شریف کے دورئہ آزاد کشمیر کے دوران عوام کے ’’گو عمران گو‘‘ کے نعرے، مبارک ہو!

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں