آپ آف لائن ہیں
جمعہ29؍محرم الحرام 1442ھ 18؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group
پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے (CPEC) کی پاکستان کی معیشت اور خطے پر مثبت اثرات سامنے آرہے ہیں۔ اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ ملکی معیشت کیلئے اہمیت کا یہ اہم منصوبہ مستقبل میں ایک گیم چینجر ثابت ہوگا جس سے خطے میں پاکستان کو ایک اہم حیثیت حاصل ہوجائے گی اور اسی وجہ سے پاکستان دشمن قوتیں اس منصوبے کو ناکام بنانے کیلئے ابھی سے کوشاں ہیں۔ ملک دشمن قوتوں کا پہلا حربہ پاکستان میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنا ہے تاکہ غیر ملکی سرمایہ کار اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے اس کے منصوبوں میں سرمایہ کاری سے ہاتھ روک لیں۔ مجھے خوشی ہے کہ سیاسی جماعتوں اور عسکری قیادت نے ملکی مفاد کے اس اہم پروجیکٹ پر اتفاق رائے کیا ہے جس سے پوری دنیا کو یہ پیغام ملا ہے کہ پاکستانی قوم اقتصادی راہداری منصوبے کیلئے متفق اور پرعزم ہے۔ چین کی پاکستان میں 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری نے پاکستان کے امیج کو خطرناک ملک سے تبدیل کرکے سرمایہ کار دوست ملک بنادیا ہے۔ گزشتہ دنوں Passion for Pakistan کے اکرام سہگل اور محمد اظفر احسن نے کراچی میں CPEC کے منصوبے پر ’’ون بیلٹ ون روڈ‘‘ کی اہمیت اور اس کے خطے کے ممالک پر اثرات پر ایک اہم بریکفاسٹ میٹنگ رکھی تھی جس میں چائنا گروپ کمپنیز ایسوسی ایشن (CGCA) کے ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ ژیانگ چونکنگ کے ساتھ مجھ سمیت

ممتاز دانشوروں، غیر ملکی سفیروں، پرنٹ میڈیا کے سینئر صحافیوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر عشرت حسین نے بتایا کہ چین نے گزشتہ 10سالوں میں اوسطاً 9% سے 10% جی ڈی پی گروتھ حاصل کرکے اپنی فی کس آمدنی کو 1,741 ڈالر سے 7,595 ڈالر سالانہ یعنی چار گنا سے زیادہ کرلیا ہے۔ چین میں اسپیشل اکنامک انڈسٹریل زونز (SEIZS) نے چین کی صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور پاک چائنا اکنامک کاریڈور کے منصوبے میں چین اپنے اسی کامیاب تجربے کو پاکستان میں دہرانا چاہتا ہے۔ ژیانگ چونکنگ نے بتایا کہ ون بیلٹ ون روڈ کا اصل مقصد علاقائی Connectivity ہے جس سے خطے کے ممالک دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ کم وقت اور کم اخراجات میں تجارت کرسکیں گے۔ میٹنگ میں برطانیہ کے ڈپٹی ہائی کمشنر جان ٹکناوٹ اور فلپس الیکٹریکل کے منیجنگ ڈائریکٹر نے سوال جواب کے سیشن میں پوچھا کہ کیا اس منصوبے میں پاکستان اور چین کے علاوہ دوسرے ممالک بھی حصہ لے سکتے ہیں کیونکہ ان کے ملک کی کمپنیاں اس بڑے عظیم منصوبے میں سرمایہ کاری کیلئے دلچسپی رکھتی ہیں۔ انہیں بتایا گیا کہ یہ پرائیویٹ سیکٹر کے منافع بخش کمرشل پروجیکٹس ہیں اور اس میں کسی بھی ملک کی کمپنیاں حصہ لے سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں چینی کمپنی CGCA کے سربراہ نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان میں اسلام آباد اور کراچی میں اپنے دفاتر کھولے ہیں تاکہ وہ ان منصوبوں کے بارے میں سرمایہ کاروں کو معلومات فراہم کرسکیں۔ وزیراعظم کے حالیہ وسط ایشیائی ممالک کے دورے میں بھی خطے کے ممالک نے CPEC میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پوری دنیا کی پاک چائنا اکنامک کاریڈور کے منصوبے پر نظریں لگی ہیں اور وہ اسے خطے کیلئے گیم چینجر سمجھ رہے ہیں۔ پاک چین راہداری کسی ایک شاہراہ کا نام نہیں بلکہ اس میں توانائی کے بے شمار منصوبے شامل ہیں۔ 45.6 ارب ڈالر مالیت کے ان 51 منصوبوں جن میں 33.8 ارب ڈالر کے توانائی کے منصوبے اور 11.8 ارب ڈالر کے انفرااسٹرکچر کے منصوبے شامل ہیں، پر چینی صدر ژی جنگ پنگ نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران دستخط کئے تھے جس سے پوری دنیا میں پاکستان کا ایک مثبت امیج اجاگر ہوا۔
گزشتہ دنوں ملکی ایکسپورٹس میں کمی پر اسلام آباد میں میری وزیراعظم نواز شریف اور وفاقی وزراء سے میٹنگ کے موقع پر وفاقی وزیر پلاننگ، اکنامک ریفارمز اینڈ ڈیویلپمنٹ اور پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے کوآرڈی نیٹر احسن اقبال سے ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر بریفنگ کیلئے FPCCI کراچی آرہے ہیں اور اس سلسلے میں فیڈریشن ہائوس میں ہماری فیڈریشن کے صدر میاں ادریس شیخ، نائب صدور اور چند اہم بزنس لیڈرز کے ساتھ وفاقی وزیر کی اس منصوبے پر اہم میٹنگ ہوئی جس میں مجھے بھی خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ میں نے وفاقی وزیر احسن اقبال سے وعدہ کیا کہ ملکی مفاد کے اس اہم منصوبے کی تفصیلات میں اپنے قارئین سے ضرور شیئر کروں گا۔ احسن اقبال نے بتایا کہ وہ ایف پی سی سی آئی کے ساتھ مل کر پاک چین اقتصادی راہداری پر مشترکہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد بھی کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گوادر سے سوراب تک 650 کلومیٹر کا روڈ نیٹ ورک ابھی تک نامکمل ہے جسے 2016ء تک مکمل کرلیا جائے گا اور اس پر سیکورٹی فورسز کی نگرانی میں رات دن کام جاری ہے جس کے بعد کراچی کے بجائے گوادر کے راستے سے براہ راست سکھر اور دیگر شہروں کو کارگو بھیجا جاسکے گا۔ پاک چائنا اکنامک کاریڈور کے راستے میں چائنا کی طرز کے اسپیشل اکنامک صنعتی زون بنائے جائیں گے جہاں ڈیوٹی اور ٹیکس کی چھوٹ کی وجہ سے چین اور دنیا کے دیگر ممالک صنعتوں میں سرمایہ کاری کریں گے۔ چین میں مزدور کی کم از کم اجرت 3 ہزار RMB ہے جو پاکستانی 50 ہزار روپے ماہانہ بنتے ہیں جو مستقبل قریب میں چین کو عالمی منڈی میں غیر مقابلاتی بنادے گی جس کی وجہ سے چین نے اپنی زیادہ لیبر درکار صنعتوں کو کم اجرتوں والے ممالک میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چین نے پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے اسٹیل ملز، سیمنٹ، آٹو موبائل، ہوم اپلائنسز، ٹیکسٹائل، گارمنٹس اور متبادل انرجی کے ترجیحی منصوبے بنائے ہیں۔ احسن اقبال نے بتایا کہ پاکستان اپنی ان مصنوعات جن کی دنیا میں پہچان اور طلب ہے، کی ایکسپورٹ بھی نہیں بڑھا سکا ہے جن میں پنکھا سازی، اسپورٹس گڈز، سرجیکل آلات، کٹلری، کارپیٹ اور ٹیکسٹائل مصنوعات شامل ہیں۔ چین کے کچھ بڑے گروپ پاکستان کی ان صنعتوں میں سرمایہ کاری کرکے اپنے گلوبل مارکیٹنگ نیٹ ورک کے ذریعے ان مصنوعات کو اچھی پیکنگ اور پریذنٹیشن کے ذریعے دنیا کو سپلائی کرنا چاہتے ہیں جس میں ٹیکسٹائل سیکٹر سرفہرست ہے۔ چین کے روئی گروپ نے فیصل آباد میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ چین کا دوسرا بڑا گروپ چیلینجر پاکستان میں بیمار اور مالی بحران کا شکار صنعتوں کو خرید کر بحال کرنا چاہتا ہے جو ہمارے صنعتکاروں کیلئے نادر موقع ہے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کی مایوس کن گروتھ کی بڑی وجہ ٹیکسٹائل سیکٹر کی طویل المیعاد منصوبہ بندی کا نہ ہونا ہے۔ 2001-02ء میں ہارورڈ بزنس اسکول بوسٹن نے بھارتی ٹیکسٹائل صنعت کو ٹیکسٹائل پر ایک مقابلاتی اسٹڈی رپورٹ سفارشات کے ساتھ پیش کی تھی جس پر عمل کرکے آج بھارت نے اپنی مجموعی ایکسپورٹس میں 94% گروتھ حاصل کی جبکہ پاکستان کی کئی سالوں سے ٹیکسٹائل کی ایکسپورٹس 13 ارب ڈالر اور مجموعی ایکسپورٹس 25 ارب ڈالر پر منجمد ہے۔
21 ویں صدی اقتصادی و معاشی مقابلے کی صدی ہے۔ چین نے پاکستان سے اپنی دوستی نبھاتے ہوئے پاکستان کو انمول موقع فراہم کیا ہے اور موجودہ حکومت کیلئے پاکستان کی معاشی قسمت بدلنے کا یہ نادر موقع ہے جسے اگر ضائع کیا گیا تو یہ ملک کی بہت بڑی بدقسمتی ہوگی۔ پاک چین راہداری کے منصوبے کی تکمیل کیلئے ضروری ہے کہ حکومت سیکورٹی اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے کیلئے فول پروف منصوبہ بندی کرے۔مجھے خوشی ہے کہ قومی نوعیت کے اس اہم منصوبے پر ملکی سیاسی و عسکری قیادت ایک پلیٹ فارم پر متحد ہے ورنہ مجھے ڈر تھا کہ قومی اہمیت کا یہ اہم ترین منصوبہ بھی سیاسی اختلافات کی وجہ سے کالا باغ ڈیم کی طرح متنازع ہو کر التواء کا شکار نہ ہوجائے۔ بھارت، پاکستان کو سرحدی تنازعات میں الجھا کر غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے تاکہ حکومت پاکستان کی توجہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے سے ہٹائی جاسکے لیکن حکومت کو چاہئے کہ وہ بھارت کی اس حکمت عملی کو کامیاب نہ ہونے دے اور منصوبہ بروقت پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔پاک چین اقتصادری راہداری پاکستان کے لاجسٹک اور شپنگ شعبے میں انقلاب برپا کر دے گی اور پاکستان کو اپنی بندرگاہوں کے ذریعے چین سے سمندری راستے یورپ جانیوالے کارگو کی 30% ہینڈلنگ حاصل ہو جائیگی۔ چین کو اس وقت سمندری راستے سے اپنے کارگو یورپ بھیجنے کیلئے 19000 ناٹیکل میل کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے لیکن پاک چین اقتصادی راہداری اور گوادر پورٹ آپریشنل ہونے کے بعد چینی کارگو یورپ پہنچنے کیلئے صرف 9000 ناٹیکل میل کا فاصلہ طے کرنا پڑیگا جس سے چین کو نہ صرف اربوں ڈالر کی بچت ہوگی بلکہ چین موجودہ وقت کے مقابلے میں نصف وقت میں اپنا کارگو یورپ پہنچاسکے گا۔اگر ہم گوادر پورٹ 70ء کی دہائی میں بنالیتے تو خطے کی دبئی، جبل علی، سلالہ اور عدن کی بندرگاہیں جنوبی ایشیاء میں کارگو حب نہیں بن سکتی تھیں لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے قومی اہمیت کے اس منصوبے کو مطلوبہ ترجیحات اور اہمیت نہیں دی لہٰذا اب پاکستان اور چین کے بہترین مفاد میں ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔