• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
محترم جناب ڈاکٹر صفدر محمود صاحب
السلام علیکم ور حمۃ اللہ
22نومبر کو میری معروضات کو ا پنے کالم میں جگہ دینے اور انڈین درسی کتب سے متعلق حقائق اپنے وسیع حلقہ قارئین تک پہنچانے پر آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں، جزاک اللہ خیر۔گزشتہ خط میں، میں نے انڈیا کی درسی تاریخ کا جائزہ لیا تھا۔ آج کے خط میں آپ کی توجہ درسی کتب کے تکنیکی پہلوئوں کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی درسی تاریخ پر اعتراض کرنیوالے دراصل درسی کتب کی حرکیات اور عالمی سطح پر درسی روایات اور درسی تاریخ کے انتخاب کے اصولوں سے واقف نہیں ہوتے۔ وہ درسی کتب کو تاریخ کی عام کتب سمجھ کر ان پر اعتراض کرتے ہیں۔تاریخ کی درسی کتاب تاریخ کی عام کتاب کی طرح مجرد واقعات اور معلومات کا مجموعہ نہیں ہوتی۔ یہ واضح طور پر اقتدار کا حامل مضمون(Values laiden subject)ہوتا ہے۔ 1927میں برطانیہ کے بوڈ آف ایجوکیشن نے تاریخ کو اخلاقی تربیت کا آلہ (Instrument) قرار دیا۔ Howard Mehlinger درسی کتب کو جدید دور کے دیہاتی کہانی گو قرار دیتا ہے جن کا کام نوجوان نسل تک وہ سب کچھ منتقل کرنا ہے جو ان کے بڑے انہیں اپنی ثقافت کے بارے میں بتانا چاہتے ہیں۔تاریخ چونکہ طاقت، اقدار اور ثقافت کا اظہار ہوتی ہے اس لئے حکومتیں درسی کتب میں بیان کی گئی تاریخ پر خاص توجہ دیتی ہیں۔Orwellکے بقول ماضی پر کنٹرول در اصل مستقبل پر کنٹرول حاصل کرنے کے مترادف ہے اور یہ کہ تاریخ ذہن تشکیل دیتی ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر تاریخ کی درسی کتب عام کتب کے برعکس ہمیشہ قومی اہداف کے نقطہ نظر سے ترتیب دی جاتی ہیں۔ہر قوم اور معاشرے کے سامنے کچھ اہداف ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو بنیادی اقدار(Core Values)سے تعلق رکھتے ہیں جیسے نظریاتی اساس سے وابستگی،جمہوریت، انسانی حقوق، قومی وحدت، حب وطن وغیرہ اور کچھ تزویراتی تصورات(Strategic concepts)مثلاً ہیلتھ ایجوکیشن، مسائل حل کرنے کی سائنسی اپروچ، دہشت گردی کے خلاف جنگ، ز راعت وغیرہ پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ہر قوم اور معاشرہ یہ اہداف تعلیم کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تعلیمی نظام میں درسی کتب ان اہداف کا طاقتور مظہر ہوتی ہے۔
درسی کتب میں تاریخ کا انتخاب ایک طے شدہ طریقہ کار کا حصہ ہوتا ہے۔ درسی کتب کی حرار کی میں چوٹی پر قومی تعلیمی پالیسی(National education policy) اس کے بعد نصابی خاکہ(Curriculum)اور آخر میں درسی کتب (Textbooks)آتی ہیں۔قومی تعلیمی پالیسی قومی اہداف کی عکاس ہوتی ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی ہی نظام تعلیم کا وژن اور مقاصد متعین کرتی ہے۔ اسی کے نتیجے میں نصابی خاکے کے خدوخال ابھرتے ہیں۔ نصابی خاکے کی روشنی میں کسی بھی مضمون(مثلاً اردو، انگریزی، تاریخ، جغرافیہ وغیرہ) کی درسی کتب کی تصنیف و تالیف کی جاتی ہے۔
درسی کتب تیار کرتے وقت تحریری نصابی خاکے کے ساتھ ساتھ پس پردہ نصابی خاکہ(Hidden curriclum)بھی بروئے کار آتا ہے۔ پس پردہ خاکہ تحریری شکل میں نہیں ہوتا۔ اسے عام طور پر تعلیمی پالیسی، قوم کی بنیادی اقدار اور تزویراتی تصوارت سے اخذ کیا جاتا ہے۔ تاریخ کی کتاب میں اپنے ہیروز کی تصاویر میں ان کو پرعزم چہروں اور جاہ و جلال کے تاثرات کے ساتھ دکھانا تاکہ ان کے ساتھ عقیدت پیدا ہو، ماضی کے ان دیکھے اور تصوراتی مناظر کو رومانوی اور آئیڈیل انداز میں مصور کرنا تاکہ اپنے ماضی سے محبت اور احساس تفاخر پیدا ہو، ماضی کے کچھ مخصوص ادوار کیلئے زیادہ متن اور کچھ دیگر ادوار کیلئے کم متن مختص کرنا،تاریخی واقعات یا شخصیات کے بعض پہلوئوں پر زیادہ زور دینا اور بعض کو بالکل نظر انداز کردینا پس پردہ نصابی خاکے کی مثالیں ہیں۔دنیا بھر میں درسی کتب کی تیاری کے باب میں یہ روایت ہے کہ مصنفین اور مولفین کو کتاب لکھنے سے پہلے جامع رہنمائی دی جاتی ہے۔ اس میں سرفہرست قومی تعلیمی پالیسی کا درسی کتب پر اطلاق ہوتا ہے۔ درسی کتب کی تیاری کا آغاز ہی اس بنیادی خیال سے کیا جاتا ہے کہ ملک کے پاس ہر تعلیمی پروگرام اور درجے کیلئے مربوط قومی اہداف ا ور مقاصد موجود ہیں۔ درسی کتب کی تدوین انہی اہداف ا ور مقاصد سے وابستہ ہو کر مکمل کی جائے گی۔قومی اہداف کے حصول، کے ذیل میں جو ہدایات دی جاتی ہیں ان کا اہم نکتہ ہوتا ہے تاریخ کی قومی تفہیم کو درسی کتب میں ترویج دینا۔
Fostering National Understa- nding of the history and socio culture milieu of own traditions
تاریخ کی قومی تفہیم درسی کتب کی تیاری کا اہم اصول مانا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اور ترقی پذیر ممالک اسی اصول کے مطابق کتابیں تیار کرکے اپنی تاریخ بچوں کو پڑھاتے ہیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تاریخ کی قومی تفہیم سے کیا مراد ہے؟درسی کتب میں واقعات بلیک اینڈ وائٹ انداز میں پیش نہیں کئے جاتے۔ تاریخی واقعات کا قوم کے ساتھ جیسا تعامل ہوتا ہے اور ان واقعات کے ان پر جیسے اثرات ہوتے ہیں ویسی ہی ان کی تشریح کی جاتی ہے ا ور اسی مناسبت سے انہیں نام دیئے جاتے ہیں۔ ایک ’’دن‘‘ کو ایک ملک میں یوم سقوط اور دوسرے میں یوم آزادی کہا جاتا ہے۔ ایک جنگ کو ایک گروہ’’جنگ‘‘آزادی اور دوسرا ’’غدر‘‘ قرار دیتا ہے۔ فلپس کے بقول طلبہ کون سی تاریخ پڑھتے ہیں؟ اور کیسے پڑھتے ہیں؟ ان سوالات کا تعلق اس بات سے ہے کہ طلبہ اپنی اور اپنے ملک کی شناخت کیا دیکھتے ہیں۔یہ تاریخ کی قومی تفہیم ہوتی ہے۔درسی کتب میں تاریخی واقعات کو وطن اور قومی وجود کے جواز کے پہلو بہ پہلو دیکھا جاتا ہے۔ واقعات قومی وجود کا اثبات کرتے ہیں نفی نہیں۔ تاریخ کے نصابی خاکے کے ابتدائیے میں تاریخ کا کورس پڑھانے کے جواز یا دلیل اساسی (Rationale)میں عام طور پر لکھا جاتا ہے کہ طلبہ اپنے وطن کی تاریخ پر فخر کرنا سیکھ سکیں۔ آسٹریلیا میں’’اپنے ملک کی تاریخ کی تحسین کرنا‘‘ تاریخ کی درسی کتب کاRationaleقرار دیا گیا ہے۔1905ءمیں برطانیہ میں بورڈ آف ایجوکیشن نے تاریخ پڑھانے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا۔’’جغرافیے کے ذریعے طلبہ کو پتا چلتا ہے کہ برطانیہ عظمیٰ کے نام سے دنیا میں ایک واحد ملک موجود ہے۔ اس لئے ان کیلئے ضروری ہے کہ تاریخ کے ذریعے اپنی قومیت کے بارے میں جانیں اور دیکھیں کہ کون سے سی چیزیں انہیں دیگر ممالک سے ممتاز کرتی ہیں‘‘
تاریخ کی درسی کتب میں ان واقعات ا ور تحاریک کا شعور پیدا کیا جاتا ہے جنہوں نے ملک اور قوم کی صورت گری کی ہوتی ہے۔ درسی کتب تسلیم شدہ (accepted) ماضی کا اظہار ہوتی ہے۔تاریخی واقعات کو بنیادی اقدار اور تزویری تصورات کی روشنی میں دیکھا اور بیان کیا جاتا ہے۔ ایک ہی تاریخی واقعہ کی تفہیم کے ایک سے زائد وژن ہوتے ہیں۔ وہ وژن کبھی بیان نہیں کیا جاتا جو بنیادی اقدار یا تزویراتی تصورات سے متصادم ہو۔ دنیا بھر میں یہی روایت ہے، گزشتہ خط میں، میں نے انڈین درسی کتب میں تاریخی واقعات کی مثالیں پیش کی تھیں یہاں پر برطانیہ کی پرائمری جماعت میں پڑھائی جانیوالی تاریخ کی ایک مثال کا تذکرہ کفایت کریگا۔برطانیہ میں پڑھائی جانیو الیCollins primary historyمیں فتح اندلس کو مخصوص انداز میں بیان کیا گیا ہے۔’’کئی صدیوں سے اسپین اور پرتگال پر وہ لوگ حکومت کرتے تھے جن کو مور(Moors)کہا جاتا تھا۔ یہ شمالی افریقہ سے آئے تھے۔ پندرہویں صدی کے دوران پرتگیزی اور ہسپانوی باشندوں نے موروں کو اپنی سرزمین سے بتدریج بے دخل کردیا ۔ 1942ء میں انہوںنے موروں کا آخری شہر غرناطہ بھی فتح کرلیا ‘‘۔
(Collins primary history:
AZTECS page7)
کتاب میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہMoors(بربر) دراصل مسلمان تھے جنہوں نے اندلس (موجودہ اسپین اور پرتگال) پر سینکڑوں سال تک حکومت کی۔1492ءمیں عیسائیوں نے اندلس کو فتح کرلیا اور فتح کے بعد مسلمانوں کو عیسائیت قبول کرنے، غلام بننے یا جلا وطن ہونے پر مجبور کردیا۔ اس طرح اس میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ افریقی بربر(Moors)تو صدیوں پہلے اس سرزمین پر آئے تھے اور بعد میں یہاں کے لاکھوں مقامی باشندوں نے اسلام قبول کرلیا تھا۔1492جس وقت ا ندلس فتح کیا گیا تھا تو افریقہ سے آئے ہوئے بربروں کو نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کو سرزمین سے بے دخل کیا گیا تھا۔ خواہ وہ اسی سرزمین کے بیٹے ہی کیوں نہ تھے۔پاکستان کی درسی کتب میں تاریخ کا انتخاب دنیا کے مروجہ اصولوں اور روایات کے مطابق کیا جاتا ہے۔ پاکستان ایک مخصوص نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا۔ پاکستان کی اساسی اقدار میں اس نظریے کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ یہ نظریہ اس کے وجود کے جواز کا دارالمہام ہے۔ اس نظریے کو منفی کردیں تو پاکستان کا وجود ایک سوالیہ نشان بن جائے گا۔ پاکستانی قومیت کے تسلیم شدہ عناصر اسی نظریے پر لنگر انداز ہوتے ہیں۔ اسلئے ریاست کیلئے ضروری ہے(اور یہ اس کی مجبوری بھی ہے) کہ وہ نظام تعلیم میں معاشرتی انصاف، جمہوریت، مقامی ثقافت اورتاریخ کے تصورات اسی نظریے پر استوار کرے۔پاکستان کی قومی پالیسی میں نظام تعلیم کا وژن بیان کرتے ہوئے اسی بات کو بہت واضح انداز میں بیان کردیا گیا ہے۔
"Our education system must provide.........the concepts of tolerance, social justice, democracy, their regional and local culture and history based on the basic ideology enunciated in the constitution of the Islamic Republic of Pakistan"(Page 17 National Education Policy 2009).
یعنی پاکستان کی درسی کتب میں پڑھائی جانے والی تاریخ کی قومی تفہیم کا پیمانہ اس کے ا ساسی نظریات اور آئین پاکستان ہیں۔ تاریخ کی تفہیم کے اس سانچے میں بیان ہونے والے واقعات اور شخصیات ہماری تاریخ کے قومی وژن کا حصہ ہوں گے، گویا یہی درسی تاریخ تسلیم شدہ(Accepted)اور مقاصد کے اعتبار سے طے شدہ(Aimed)ہوگی۔مخلص …ناصر محمود اعوان
تازہ ترین