• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
یہ طرزِ احساس کی بات ہے۔ مجھے تو بریگیڈیر سلطان ایسے لوگ پسند ہیں۔ قائد اعظم ، صلاح الدین ایوبی اور ابرہام لنکن ، مایوسیوں میں چراغ جلانے والے۔ آپ کو کون پسند ہے؟ عملیت پسند ارب پتی آصف علی زرداری، اعجاز بٹ اوریاور سعید؟
فاروق گیلانی میری رجائیت پہ حیران ہوتے ہیں اور میں ان کی مایوسی پر۔ ایسا نہیں کہ انہوں نے ایک ناکام زندگی گزاری ہو ا وراس ناچیز نے کامیاب۔ مجھے ان پر رشک آتا ہے۔ انہوں نے ملازمت کی اور ٹھاٹھ سے، کاروبار کیا اور زیادہ ٹھاٹھ سے ۔ اسلام آباد کے جی 15سیکٹر میں ، وہ دو کینال کے ایک خوبصورت گھر میں رہتے ہیں۔ دن بھر کتابیں پڑھتے ہیں یا کچھ دیر اپنی پسند کے اخبارات و جرائد۔ میں بھی یہی کرتا ہوں۔ بس اتنا ہے کہ ہفتے میں چار یا پانچ بار کچھ وقت نکال کر اخبار کے لیے کالم لکھتاہوں۔ جی چاہے تو ٹیلی ویژن کے کسی مذاکرے میں شریک ہوتاہوں یا کچھ سیکھنے یا دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے کسی دوست سے ملنے چلا جاتاہوں۔ فاروق گیلانی نے جو گذشتہ برس ایڈیشنل سیکرٹری کے منصب سے سبکدوش ہوئے، ایک بار کہا تھا:اگر کسی شخص کو میں نے خود سے زیادہ متلون مزاج پایا ، تو وہ تم ہو۔ ایک اعتبار سے،میں اسے خراجِ تحسین ہی سمجھتاہوں، اس لیے کہ اس باب میں موصوف کے کارنامے حیرت انگیز ہیں۔ ایم اے انگریزی کا امتحان پاس کرنے کے بعد فوج میں بھرتی ہوئے اور بھاگ لیے۔ لیکچرر شپ اختیار کی اور ترک کر ڈالی۔ صوبائی سروس کا امتحان پاس کیا، مجسٹریٹ بنے اور بیزار ہوگئے۔ 1970ء میں ، ان سے میری ملاقات اس وقت ہوئی، جب وہ سی ایس ایس کے امتحان کی تیاری کر رہے تھے۔ ایک پابندِ صوم و صلاة، بیدار مغز، خوش طبع اور صاحبِ مطالعہ آدمی۔ صحافت، افسانہ، شاعری، تاریخ، دینیات، فلسفہ، معاشیات اور سیاست۔ سول سروس کا رخ کرنے سے پہلے ، وہ کالم لکھا کرتے ۔ سبکدوش ہونے کے بعد بھی چھ ماہ تک ایک اخبار کے لیے لکھا، ایک دن ناغے کے بغیر، ہمیشہ ہفتے میں سات دن۔مجھے فیصلہ کرنا ہوتا تو میں انہیں ملک کے ممتاز ترین کالم نگاروں میں شامل کرتا لیکن زندگی میں سب کچھ ترازو کے تول نہیں تلتا۔زندگی عجیب چیز ہے ۔ کئی طرح سے امتحان لیتی ہے۔ اگر ہمیشہ نہیں تو اکثر وہ مجھے جتلاتے ہیں: رجائیت اچھی ہے، اپنے حصے کا چراغ جلانا ہی چاہئیے لیکن حالات ایسے ہیں کہ امید کا کوئی جواز ہی نہیں۔ معلوم نہیں، میری امید پرستی کی جڑ انہوں نے کبھی تلاش کی یا نہیں، شاید میری خوش فہمی یا حماقت میں لیکن اپنے دوست کی قنوطیت کا راز، میرا خیال ہے کہ میں نے جان لیا ہے لیکن بیان نہ کروں گا۔ کچھ چیزیں، میں نے اپنی خودنوشت کے لیے اٹھا رکھی ہیں۔ دوتین برس میں شاید تصنیف و تالیف کا زمانہ بھی آئے … ایک سبب اور بھی ہے۔
1990ء میں جنرل اختر عبدالرحمٰن کی داستان لکھنے کے بعد جو پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ بکنے والی کتابوں میں سے ایک تھی(اور انشا ء اللہ چھ ہفتوں میں جس پر مجھے نظرِ ثانی کرنی ہے) لاہور کے پبلشر ہمیشہ مجھ سے کتاب کی فرمائش کیا کرتے ہیں۔ پانچ برس ہوتے ہیں، ان میں سے ایک نے کہا: اب تم صحافت کے ہو گئے لیکن اتنا تو کر گزرو کہ کچھ خاکے ہی لکھ دو۔ حفیظ اللہ خاں، خالد مسعود خاں، سجاد میر، طارق چوہدری اور فاروق گیلانی سے لے کر عمران خاں تک ، دل میں سب دوستوں کو میں نے شمار کیا اور معذرت کی: ارے نہیں بھائی، میں کسی دوست کو ناراض نہیں کرنا چاہتا، کالم نگاری ہی اچھی۔ انیس برس ہوتے ہیں، فاروق گیلانی نے مجھے ایک سبکدوش فوجی افسر کے بارے میں بتایا۔ وزارتِ زراعت نے جنہیں جنگل اگانے کا ٹھیکہ دیا تھا ۔ بل گیلانی صاحب کو پاس کرنا تھا۔ انہوں نے پوچھا: بریگیڈیر صاحب کتنے فیصد شجر زندہ ہیں؟ "سو فیصد" انہوں نے کہا۔ یہ ناممکن تھا لیکن جواب سے وضح ہوا کہ دعویٰ درست ہے۔" اس لیے کہ میں نے 120فیصد بوٹے بوئے تھے" دوسرا سوال یہ تھا: خاردار تار لگانے کی شرط پوری کی ؟ "جی نہیں"انہوں نے کہا: میں نے گاؤں کے لوگوں کو چائے پلائی اور انہیں بتایا کہ سبزہ خدا کی کتنی بڑی نعمت ہے۔وہ خود اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ جس بات سے مگر افسر کے دل کا کنول کھلا وہ کچھ اور تھی۔ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک انہی دنوں اٹھی تھی ۔ گیلانی صاحب فوجی افسر کی رائے معلوم کرنے کے آرزومند تھے۔ وہ آدمی،1965ء اور 1971ء جس نے دونوں جنگوں میں ستارہ جرات حاصل کیا۔ شاید وہ تنہا آدمی، جس کے لیے زندگی میں نشانِ حیدر کی سفارش کی گئی۔ جس نے ذاتی حیثیت میں عراق کے خلاف ایران کی دفاعی لائن تعمیر کی۔ 1971ء کی جنگ کے بعد، جس کے ساتھ بھارتی جنرلوں نے تصاویر بنوائیں اور اپنے گھروں میں آویزاں کیں کہ جمال پور کے محاز پر وہ اس سے ایک انچ بھی چھین نہ سکے تھے۔ جس محاذ کے بارے میں امریکی اخبار کرسچن سائنس مانیٹر نے لکھا"The greatest defence ever built in human history" جس نے 1971ء کے مشرقی پاکستان اور 1974ء کے بلوچستان میں باغیوں کے خلاف کارروائی سے گریز کیا۔ 1971ء میں بنگالیوں کو آمادہ کر لیا کہ پٹھان اور پنجابی سپاہیوں سے مل کر خندقوں کی 80کلومیٹر لمبی آٹھ قطاریں کھودیں ۔ بھٹو کے باغی بلوچوں سے جس نے کہا تھا: میری تمہاری کوئی دشمنی نہیں اور پھر وہ بلوچوں کے لیے جنگل اگاتا رہا ۔ بریگیڈیر نے ڈپٹی سیکرٹری سے کہاکہ کشمیر میں آزادی کی تحریک بالاخر کامیاب ہو کر رہے گی کہ عوامی تحریکیں مرا نہیں کرتیں۔۔۔اور میں نے اسے بتایا: بریگیڈیر سلطان کو میں بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں، بہت سی صبحیں اور شامیں، میں نے ان کے ساتھ بسر کی ہیں۔ مارچ 1977ء کے الیکشن کے بعد اس نے احتجاجی خط لکھا تھا کہ بھٹو حکومت نے لسبیلہ میں انتخابی دھاندلی کی۔ جنرل محمد ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کرنے کے بعد بریگیڈیر سے رابطہ کیا تو اس نے یہ کہا:جناب، آپ نے بھٹو سے بڑی دھاندلی کر دی۔ مجبوراً اسے سبکدوش کرنا پڑا۔ وہ آدمی جس کے بارے میں کہا جاتاکہ دنیا کی کوئی طاقت اسے چیف آف آرمی سٹاف بننے سے روک نہیں سکتی۔جس نے ایک بار سوئے بغیر سات دن تک مسلسل کام کرنے کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔ 1992ء میں ایک دوست کے توسط سے بریگیڈیر صاحب سے ملاقات ہوئی ، میری مدد سے وہ جمال پور کے معرکے پر ایک کتاب لکھنے کے خواہاں تھے۔ پانچ ہفتے کی ریاضت کے بعدمیں نے معذرت کر لی کہ میری معروضات قبول کرنے پر وہ آمادہ نہ تھے۔
یہ بات میرے کئی دوستوں کی سمجھ میں نہیں آتی کہ میں عمران خاں کا کیوں قائل ہوں، پروفیسر احمد رفیق اختر پر کیوں فدا ہوں، قائد اعظم اور علامہ اقبال سے میری والہانہ عقیدت کا سبب کیا ہے؟ ان میں سے بعض کا خیال ہے کہ میں ایک سطحی، جذباتی اور احمق آدمی ہوں۔ شاید ایسا ہی ہولیکن میرے عمر بھر کے مطالعے اور اس سے زیادہ مشاہدات نے مجھے بتایا ہے کہ اللہ کی کائنات میں جو کچھ اچھا، اجلا، عظیم ، شاندار اور قابلِ فخر ہے ، اسے ناقابلِ علاج رجائیت پسندوں نے تعمیر کیا ہے۔ فاروق گیلانی کے مرحوم والد سید اسعد گیلانی کہا کرتے تھے: یہ دنیا تاجروں اور دوکان داروں نے نہیں، خواب دیکھنے والوں نے تعمیر کی ہے۔ ان کی پوتی سیدہ مریم گیلانی کا طرزِ احساس بھی شایدیہی ہے ۔ پاکستان ریلوے کی روز افزوں بربادی کے ذمہ دار غلام احمد بلور کے غیر قانونی احکامات تسلیم کرنے سے اس نے انکار کیا اور برطرفی انعام پائی۔۔۔ حیرت انگیز بات تو یہ کہ پشاور سے قتل کی پیہم دھمکیوں کے باوجود اپنے فیصلے پر وہ مطمئن ہے۔
یہ طرزِ احساس کی بات ہے۔ مجھے تو بریگیڈیر سلطان ایسے لوگ ہی پسند ہیں۔ قائد اعظم ، صلاح الدین ایوبی اور ابرہام لنکن ایسے ، مایوسیوں میں چراغ جلانے والے۔ آپ کو کون پسند ہے؟ عملیت پسند ارب پتی آصف علی زرداری،ان کے خوشہ چیں اعجاز بٹ اوریاور سعید؟رہا زمانہ تو آدمی اس کا انتخاب نہیں کرتا۔ روزِ جزا اسے اپنے زمانے کا حساب بھی نہیں دینااورفرمان یہ ہے : زمانے کو برا نہ کہوکہ میں خود زمانہ ہوں۔


تازہ ترین