میں ساری زندگی رجائیت، خوش فہمی اور روشن مستقبل کے خواب دیکھتا اور دکھاتا رہا، کیونکہ رجائیت اور حسن ظن میری فطرت، میری طبیعت اور میری ساخت کا اٹوٹ انگ ہے۔ چنانچہ میں جب بھی علامہ اقبال کا یہ شعر پڑھتا
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ِویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
تو یوں محسوس ہوتا جیسے میرے تصور کے افق پر اَن گنت چراغ روشن ہو گئے ہیں۔ مجھے ہمیشہ یہ یقین رہا ہے کہ پاکستان قدرت کی دی ہوئی نعمت ہے جسے نااہل، کرپٹ اور بے بصیرت قیادت نے معاشی اور سیاسی طور پر مستحکم نہیں ہونے دیا اور انشاء اللہ ہم ایک دن مسائل سے نکل کر بہتر مستقبل کے دروازے پر دستک دے رہے ہوں گے۔ مجھے ہمیشہ یہ بھی احساس رہا ہے کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے جہاں ذہین، محنتی اور مضبوط نوجوانوں اور قوم سے نوازا ہے وہاں اسے بے پناہ قدرتی وسائل سے بھی نوازا ہے جنہیں اگر ہم حکمت سے دریافت اور استعمال کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم غربت پر قابو پانے کے لئے غیرملکی امداد کی زنجیروں سے آزادی حاصل نہ کر سکیں۔ مجھے یہ بھی علم ہے کہ پاکستان کے پاس نہایت زرخیز زمین اور انتہائی محنتی کسان موجود ہے جو نہ صرف ہماری ضروریات پورا کر سکتا ہے بلکہ ہم گندم، چاول، کپاس برآمد کر کے زرمبادلہ بھی کما سکتے ہیں۔ جبکہ جاپان، کوریا اور سنگا پور جیسے ممالک جو زرخیز کھیتوں اور قیمتی معدنیات دونوں سے محروم ہیں صرف انسانی وسائل اور بصیرت کو استعمال کر کے دن دوگنی رات چوگنی خوشحالی کی منازل طے کر رہے ہیں۔ یہ ساری باتیں یہ سارے امید کے روشن چراغ ۔ایسے حقائق ہیں جو ہمارے سامنے موجود ہیں اور ان حقائق سے پھوٹنے والے چشمے ہماری سوچ، فکر اور وژن کو سیراب کرتے رہتے ہیں لیکن نہ جانے کیوں آج مجھے پہلی بار محسوس ہوا کہ میرے ساتھ کوئی واردات بیت گئی ہے جس کا مجھے پتہ ہی نہیں چلا۔
یہ راز مجھ پر اس وقت کھلا جب میں نے آج یوم اقبال کے حوالے سے وہی شعر پڑھا جسے پڑھتے ہوئے میں علامہ اقبال کے ساتھ ہواؤں میں اڑنے لگتا تھا اور ہر طرف چراغ روشن کرنے لگتا تھا۔ پہلی دفعہ مجھے محسوس ہوا کہ آج چالیس برسوں کے بعد اقبال کے اس شعر نے مجھے نہ گرمایا ہے اور نہ ہی فضا میں اڑایا ہے بلکہ شعر پڑھتے ہوئے میری آنکھیں نم ہو گئی ہیں۔ تب مجھے احساس ہوا کہ میرے ساتھ کوئی حادثہ ہو گیا ہے جس نے مجھ سے رجائیت، حسن ظن اور روشن مستقبل کی امید چھین لی ہے۔ مجھے اس کیفیت پر اعتبار نہ آیا تو میں نے تنہائی میں علامہ اقبال،مرشدی اقبال،کے قدموں میں بیٹھ کر بڑے خلوص اور خشوع سے یہ شعر پڑھا۔ میں نے ابھی یہ شعر پڑھا ہی تھا کہ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے علامہ اقبال میرے کانوں میں سرگوشی کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ عزیزم۔ میں تمہارا دکھ سمجھتا ہوں لیکن تم میرا دکھ نہیں سمجھ سکتے کیونکہ میں نے جس ملک کا خواب دیکھا تھا یہ ملک تو وہی ہے لیکن دکھ اس بات کا ہے کہ خدا کی دی گئی یہ نعمت چوروں، نالائقوں، رشوت خوروں، قوم فروشوں، دہشت گردوں، جاہل مولویوں، قلم فروش لکھاریوں، فسادی علماء، خون چوسنے والے تاجروں، طاقتور مافیاز اور ہوس زدہ بے ضمیر نااہل حکمرانوں کے ہتھے چڑھ گئی ہے۔ جس زرخیز زرعی ملک میں عوام کو پیٹ بھر کر کھانا نہ ملے اور گنا پیدا کرنے کے باوجود چینی عوام کی پہنچ سے باہر ہو جائے یقینا اس ملک کے حاکم بدنیت، سنگدل اور کرپٹ ہیں جن کے اعمال کی سزا عوام بھگت رہے ہیں اور جب تک عوام میں یہ احساس پیدا نہیں ہوتا کہ انہیں اپنی تقدیر خود بنانی اور سنوارنی ہے اور وہ اعلیٰ درجے کی قیادت کو منتخب نہیں کرتے وہ مسلسل سزا کے عمل سے گزرتے رہیں گے۔ میں زندگی بھر مسلمانوں کو خودی، عزت نفس اور قومی حمیت کا پیغام دیتا رہالیکن آج کے پاکستان میں قوم بین الاقوامی بھکاری بن چکی ہے، ملک قرضوں کے بوجھ تلے دب چکا ہے، شاہین بچوں کے پَر کاٹ دیئے گئے ہیں، غربت نے لوگوں کو مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دیا ہے نتیجے کے طور پر قوم خودی سے محروم ہو چکی ہے۔ جو قومیں خودی کی دولت سے مالامال ہوتی ہیں وہ فقیری میں بھی بادشاہی کرتی ہیں لیکن جو قومیں خودی سے محروم ہو جائیں وہ بادشاہی میں بھی فقیر بن جاتی ہیں۔ عزیزم۔ میں نے اور محمدعلی جناح نے مل کر قوم میں خودی کا شعور اور نور پھونکا تھا اور یہ کرشمہ اسی خودی کے نور کا تھا کہ ایک محرومیوں کی ماری ہوئی اقلیت نے ہندو اکثریت اور برطانوی استعمار کو شکست دے کر پاکستان حاصل کر لیا۔ آج تم ایٹمی قوت ہو لیکن دوسری قومیں تمہاری حالت پر ترس کھاتی ہیں کیونکہ تم باطنی ایٹمی قوت یعنی خودی سے محروم ہو چکے ہو ۔ وہ بھی قیادت کا کرشمہ تھا کہ دنیا میں تمہارا نام ایک بہادر، خوددار، حریت پسند اور مستحکم قوم کی حیثیت سے روشناس ہوا اور یہ بھی قیادت ہی کا کرشمہ ہے کہ دنیا تمہیں بھکاری، قابل رحم، دہشت گرد اور غربت و افلاس کی ماری قوم کی حیثیت سے جانتی ہے۔ ایک طرف عوام غربت اور مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں تو دوسری طرف حکمران عیش و عشرت میں ڈوبے دولت بنانے میں مصروف ہیں۔ کرپشن کا کوئی بھی سکینڈل سامنے آئے وہ این آئی سی پر ڈاکہ ہو، حج انتظامات میں رشوت اور کمیشن خوری ہو، قرضہ معافی ہو یا بجلی پیدا کرنے کے منصوبے یا سونے کی کاٹ الاٹ کرنے کا سکینڈل ہو ہر سکینڈل میں حکمرانوں کا ہاتھ کارفرما نظر آتا ہے۔ کرپشن کی بدبودار کہانیاں پڑھ کر دل ٹوٹنا، امید کے چراغ بجھنا اور مایوسی پھیلنا قدرتی امر ہے۔ اسی صورت حال نے تمہاری امیدوں اور خوش فہمی کے چراغ بجھا دیئے ہیں اسی لئے جب تم میرے اشعار پڑھتے ہو تو پہلے کی مانند نہ تمہارے مردہ جسم میں جوش و جذبہ پیدا ہوتا ہے، نہ تمہارے خون میں حرکت تیز تر ہوتی ہے اور نہ ہی تمہارے باطن میں خودی کے چراغ جلتے ہیں۔ میری شاعری گداز دلوں کو گرماتی ہے نہ کہ مٹی کے ڈھیروں کو۔ جاؤ قوم میں خودی بیدار کرو اور لوگوں کو سمجھاؤ کہ تمہارا مقدر تمہارے اپنے ہاتھوں میں ہے اور جب تک تم اپنا مقدر بدلنے کا تہیہ نہیں کرو گے اور یقین محکم اور عمل پیہم سے حالات کی زنجیریں توڑ کر نئی صبح، نئی دنیا اور نیا جہاں پیدا نہیں کرو گے تمہاری حالت نہیں بدلے گی کیونکہ خدا نے آج تک اس قوم کی حالت کبھی نہیں بدلی جس میں اپنی حالت کے بدلنے کا شعور اور آرزو موجزن نہ ہو۔ تمہارا شکوہ جائز سہی لیکن میرے جواب شکوہ پر بھی غور کرو اور میرا پیغام پاکستان کے ہر شہری تک پہنچا دو کہ ان کا مقدر ان کے اپنے ہاتھوں میں ہے …!!
وطن کی فکر کر ناداں! مصیبت آنے والی ہے
تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں