آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ مادی اور انسانی وسائل عطا کیے ہیں اور ہر آزمائش کی گھڑی میں ہماری قوم نے حیران کن اور بے مثال کردار ادا کیا ہے لیکن افسوس کہ اس کا کوئی ادارہ ایسا نہیں جو مسائل اور بحران کا شکار نہ ہو اور بحیثیت مجموعی ہماری قوم اور خصوصاً نوجوان نسل فکری، اخلاقی اور عملی انحطاط و انتشار کا شکار ہے اس کی بے شمار وجوہات میں سے سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارا نظام تعلیم ایسا ناقص اور فرسودہ ہے کہ نہ تو قومی و ملکی ضروریات کو پورا کر رہا ہے اور نہ ہی آئینی و نظریاتی تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ یہ بے سمت بھی ہے اور طبقاتی بھی۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے تعلیمی مقاصداور تعلیمی معاملات کو ایسے ماہرین ِتعلیم کے ذریعے درست کرنے کی کوشش کریں جو پیشہ ورانہ اہلیت و صلاحیت اور تجربے کے ساتھ قومی سوچ، ملی جذبہ، حب الوطنی، اچھی شہرت، اورمضبوط اخلاق و کردار کے حامل ہوں۔ ’’گردش ایام‘‘کے انہی کالموں میں پہلے بھی میں نے عرض کیا تھا کہ پاکستان کے تمام مسائل کا حل قرآن و سنت کے نظام میں ہے۔ تحریک رحمت کے سربراہ خواجہ محمد اسلم نے بھی ملک کوموجودہ درپیش مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے مجھے اپنا خط بھجوایا ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا تھا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ آج تک وطن عزیز میں

اسلامی نظام کا نفاذ نہیں ہوسکا۔اس وقت پاکستان چاروں طرف سے خطرات میں گھرا ہوا ہے۔ خواجہ محمد اسلم ملک کے نامور اسکالر ہیں اورقرآن وسنت کی تعلیمات کو عام کرنے کے حوالے سے ان کی بڑی خدمات ہیں۔ وہ اپنے خط میں لکھتے ہیں کہ ’’آئو کہ سر اٹھا کے چلیں‘‘۔ سلک روٹ کے زیر تعمیر ہونے کی وجہ سے ہم ایک بہت بڑی خون ریز جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ کامیابی کے لیے ہمیں قرآن وسنت کے نظام کو اپنانا ہوگا۔ اگر موجودہ حالات پر قابو پانا اور پاکستان کے خلاف سازشوں کو ناکام بنانا ہے تو فقط ایک ہی راستہ ہے کہ آدمی کے بنائے ہوئے آئین کی جگہ قرآن حکیم کو پاکستان کا آئین قرار دیا جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔ ہاں! پاکستان کے تعلیمی مسائل پر بات ہورہی تھی، اسی سلسلے میں گزشتہ ہفتے ایوان اقبال لاہور میں تنظیم اساتذہ پاکستان کی عظیم الشان آٹھویں قومی تعلیمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ مجھے بھی اس کانفرنس میں مدعو کیا گیا تھا۔ تعلیمی کانفرنس سے ایک روزقبل لاہور کے ایک ہوٹل میں تنظیم اساتذہ پاکستان کے مرکزی صدر پروفیسر میاں محمد اکرم نے پروفیسرالطاف حسین لنگڑیال اور پروفیسر ڈاکٹر محمد رضوان کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے اس اہم پروگرام کی غرض وغایت بھی بیان کی۔ قومی تعلیمی کانفرنس تعلیمی دنیا کے مسائل کے حوالے سے منعقد کی گئی تھی اور یہ تقریب اپنی مثال آپ تھی۔ ایوان اقبال لاہورمیں تعلیمی کانفرنس سے اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال اور ملک بھر سے آئے ہوئے ماہرین تعلیم نے خطاب کیا۔ تنظیم اساتذہ پاکستان اس سے قبل 7قومی تعلیمی کانفرنسوں کا انعقاد کرچکی ہے۔ یہ اُس کی جانب سے لاہور میں 8ویں کانفرنس تھی۔ قومی تعلیمی کانفرنس میں تعلیمی دنیا کے مسائل پر مختلف قراردادوں کی متفقہ طور پر منظوری دی گئی۔ ان سفارشات میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان قرآن کریم کی تعلیم لازمی قرار دینے پر حکومت وقت کو مبارک باد پیش کرتا ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر تعلیم انجینئر میاں بلیغ الرحمان کی مساعی نہایت قابل قدر ہیں۔ قرآن حکیم کی تعلیم کو لازمی قرار دینے کا مسئلہ تنظیم اساتذہ پاکستان کا دیرینہ مطالبہ تھا اور اس سلسلہ میں قرآن حکیم کے ایک ترجمے پر قوم کے تمام مسالک کے علماء کو متفق کرنے کا کام بھی وفاقی سطح پر تنظیم اساتذہ کے ذمہ داران کی ذاتی دلچسپی اور کوشش کے نتیجے میں انجام پذیر ہوا تھا۔ اب یہ ایوان حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ایک توقرآن حکیم کی تدریس کے لئے قابل، اہل اور راسخ العقیدہ مسلمان اساتذہ کے تقرر اور تربیت کے لئے مستقل بنیادوں پر سنجیدگی سے اقدامات کرے ۔اگر ایسا نہ کیا گیا تو ڈر ہے کہ یہ اہم ترین اقدام کہیں بازیچہ اطفال نہ بن کر رہ جائے اور جیسا کہ قوم جانتی ہے کہ سقوط ڈھاکہ کااہم سبب یہ بھی تھا کہ وہاں اسلامیات کا مضمون ہندو اساتذہ پڑھاتے تھے جنہوں نے طلباء کے ذہنوں کو پراگندہ کیا چنانچہ قرآن حکیم کی تدریس میں ابھی سے یہ بنیادی اقدام اٹھانا از بس ضروری ہے۔ دوسرے قرآنِ حکیم کی تدریس کے اس مستحسن اقدام کو گلگت بلتستان اور آزاد جموں کشمیر سمیت پاکستان کے چاروں صوبوں کے نصاب تعلیم کا حصہ بنا کر رائج اور نافذ کیا جائے۔ اسی طرح تعلیم کو ترجیح اول بنا کر کل قومی آمدنی کا 5فیصد تعلیمی بجٹ کے طور پر مختص کیا جائے۔ سرکاری اداروں میں تعلیمی سہولتیں اور انفراسٹرکچر بہتر بنا کر ان کو عالمی معیار کے برابر لایا جائے۔ جیسا کہ معلوم ہے کہ تعلیم ایک مقدس فریضہ اور انسانی اخلاق، رویوں اور سوچ کی اصلاح کا عظیم مشن ہے۔ بد قسمتی سے اٹھارویں ترمیم میں، اس عظیم مشن اور مقدس فریضے کا قبلہ تبدیل کرکے، اسے انڈسٹری اور مال کمانے کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک نئی ترمیم لاکر اسے انسانیت کی اصلاح اور فلاح و بہبود کا ذریعہ بنایا جائے۔ دوسرے اسی اٹھارویں ترمیم میں تعلیم کو مرکز سے لیکر صوبوں کے حوالے کرکے قومی سوچ اور یکجہتی کو شدید خطرات سے دوچار کردیا گیا ہے، جس کے عملی مظاہر صوبائیت اور لسانیت کی صورت میں سامنے آرہے ہیں۔ تعلیم کو ایک اور ترمیم لا کر، وفاق کی ذمہ داری قرار دیا جائے اور اسے صوبوں سے لیکر مرکز کے کنٹرول میں پھر سے دیا جائے، اور اس طرح قومی وحدت اور یکجہتی کو فروغ دیا جائے۔ جس طرح پوری علمی دنیا میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ قوم کے نونہال اپنی قومی زبان میں بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں، اور تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ ہماری قومی زبان اردو، جو دنیا میں سب سے زیادہ سمجھی اور بولی جانے والی زبان ہے، اور ہر لحاظ سے تعلیم دینے کے لئے موزوں اور اہل ہے، یہی آئینِ پاکستان اور عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ اور مطالبہ بھی ہے کہ پاکستانی بچوں کو قومی زبان اردو میں تعلیم دیکر انہیں قومی شناخت دی جائے، اور انہیں مزید ذہنی اور فکری غلامی سے نجات دی جائے۔ علاوہ ازیں قومی افکار و نظریات اور اخلاق واقدار اور ضروریات پر مبنی نئی تعلیمی پالیسی وضع کی جائے، اسے غور و فکر کیلئے مشتہر کیا جائے۔ اس میں تمام اسٹیک ہولڈرز، یعنی پرائمری، سیکنڈری، کالجز اور یونیورسٹی، ہر سطح کے اساتذہ اور طلبہ تنظیموں اور والدین کے نمائندوں کی آرا و تجاویزکو شامل کیا جائے۔ کسی بھی سطح پر غیر ملکی ماہرین کو شامل نہ کیا جائے اور غیر ملکی دباؤ سے اسے مکمل آزاد رکھا جائے، تاکہ یہ حقیقی معنوں میں قومی تعلیم پالیسی کہلائی جا سکے۔ قومی تعلیمی پالیسی پر عملدرآمد کے لئے ایک آزاد اور خود مختار تعلیمی کمیشن بنایا جائے، جو نہ صرف خامیوں کی نشاندہی کرے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ عملدرآمد کے لئے تجاویز اور لائحہ عمل تیار کرے اور ان کے نفاذ کو اپنی نگرانی میں یقینی بھی بنائے ۔نیزتعلیم کے اندر سیاسی اور بیرونی مداخلت کو روکنے کیلئے قانون سازی کی جائے۔ میرٹ اور معیار پر داخلوں اور بھرتیوں کو یقینی بنایا جائے۔ پنجاب کے کچھ اضلاع کے تعلیمی اداروںمیں حالیہ ایام 1تا 4اسکیل کی خالی اسامیوں پرایم پی ایز اور ایم این ایز کے ذریعہ بھرتی کرنے کا پروگرام بنایاگیا ہے جو سراسر میرٹ کی خلاف ورزی ہے، ایسے تمام اقدامات کو ختم کرکے میرٹ کی بالا دستی قائم کی جائے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں