• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کرگس کا جہاں شاہیں کا جہاں ...چوراہا …حسن نثار

اقبال کے اس خوبصورت خیال پر انسان جتنا غور کرے اتنا ہی نہال یا نڈھال ہوتا چلا جاتا ہے ۔
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک جہاں میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
نسیم حجازی مارکہ مخصوص اور محدود مائینڈ سیٹ اس شعر کو پڑھ کر کیا محسوس کرتا ہے ؟ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ سب اپنی پرفارمینس پر غور کئے بغیر یہ فرض کر لیتے ہیں کہ اقبال نے انہیں ہی شاہین قرار دیا ہوگا حالانکہ ایسا ہر گز نہیں … کون کیا ہے ؟ اس کا تعلق اس کے ”جہان “ سے ہے کہ ہر کسی کی پہچان دراصل اس کے جہاں ہی سے ہوتی ہے جس کی سینکڑوں نہیں ہزاروں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں لیکن بہتر ہو گا کہ خود کو کرگس اور شاہین کے جہانوں تک ہی محدود رکھیں۔
کرگس کوتاہ اندیش
شاہین دور اندیش
کرگس مردار خور
شاہین اپنا شکار خور
کرگس پستی
شاہین بلندی
کرگس کنفیوژڈ
شاہین فوکسڈ
کرگس خرافات، واہیات، توہمات
شاہین صرف” شکاریات“
دور سے دیکھئے تو بظاہر دونوں ایک جیسے لگتے ہیں لیکن اصل میں پھر وہی بات کہ کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور جیسے دیکھنے میں سب انسان ایک جیسے ہی لگتے ہیں کہ کبھی کہیں چار ٹانگوں یا چھ بازوؤں والے انسان پیدا نہیں ہوئے … کسی کی کھوپڑی میں دو دماغ نہیں رکھے گئے … کسی کو ماتھے پر تیسری آنکھ عطا نہیں ہوئی… کسی کے جسم پر سونے، چاندی یا پلاٹینم کی کھال نہیں ہوتی کہ کالی ہو یا گوری پیلی ہو یا بھوری کھال تو کھال ہی ہوتی ہے اور ایسا بھی کبھی نہیں ہوا کہ کسی انسان کا خون سنہری یا روپہلی ہو، پیلا یا جامنی ہو یعنی دیکھنے میں کرگسوں اور شاہینوں کی طرح سب ایک جیسے ہی ہوتے ہیں لیکن ان کے جہان ان کی پہچان بنتے اور بتاتے ہیں کہ بظاہر ایک جیسے دکھائی دینے والے … ایک جیسے ہرگز نہیں ہر جہان کی اپنی اپنی پہچان ۔
میں یہ سوچ کر اکثر بہت حیران ہوتا ہوں کہ دنیا کی تاریخ میں پہلی ایمبولینس اور پہلی فائر بریگیڈ مغرب میں ہی کیوں متعارف ہوئی ؟ باقی ساری دنیا میں کسی اور ”نابغے “ اور ”مشاہیر “ کو یہ سادہ سا خیال کیوں نہیں آیا کہ مریض کو کم سے کم وقت میں معالج تک لیجانے اور کہیں اچانک بھڑک اٹھنے والی آگ کو جلد سے جلد بجھانے کا کوئی تیز رفتار انتظام ہونا ضروری ہے ؟ کیا مغرب کے علاوہ پورے کرہ ارض پر اور کہیں آگ نہ لگتی تھی یا مریض نہیں ہوتے تھے ؟ یہاں یہ جاننا بھی انتہائی ضروری ہو گا کہ ابتدائی ایمبولینس اورفائربریگیڈ کا کسی ”ٹیکنالوجی “ سے قطعاً کوئی تعلق نہیں تھا ۔ گھوڑا گاڑیوں پر ہی سارا بندوبست ہوتا تھا اور تب بھی سائبیریا کے سکیموز سمیت دنیا کے ہر ملک اور معاشرہ میں ٹانگہ، رتھ، بگھی، گدھا یا رینڈیر و بیل گاڑیاں، اونٹ گاڑیاں عام استعمال ہوتی تھیں لیکن مجال ہے جو اشرف المخلوقات میں سے کسی اور قوم ، قبیلے یا ملک کو اس کا خیال آیا ہو تو آخر اس کی وجہ کیا ہے ؟؟؟
کہتے ہیں کہ ”ضرورت “ ایجاد کی ماں ہے تو سچ یہ کہ کسی اور نام نہاد انسانی معاشرہ نے ایمبولینس اور فائر بریگیڈ کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی اور یہ اس لئے ہوا کہ اپنی ذات سے بالاتر ہو کر کسی اور کے بارے سوچنے اور محسوس کرنے والا کنسرن (CONCERN)اور کلچر ہی کہیں موجود نہ تھا ۔ معاشرے ”I FOR MY SELF“ قسم کے خود غرض یعنی SELFISHمعاشرے تھے ورنہ کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی تو ضرور سوچتا کہ کچھ تیز رفتار بگھیاں ں مریضوں کو لیجانے اور پانی کے ڈرم رکھ کر آگ بجھانے کیلئے مخصوص کر دی جائیں ۔ یہ کوئی عقل کا معاملہ نہیں بلکہ ATTITUDE اور BEHAVIOR کی بات تھی اور اب تک ہے کہ یہی دو چیزیں، یہی دو رویے، یہی ڈھنگ اور انداز فکر وعمل اس بات کا تعین کرتا ہے کہ شاہیں کا جہاں کیا ہے…کرگس کا جہاں کیا؟
اہم نوٹ : گزشتہ کالم کا عنوان تھا ”عش عش سے اش اش تک “ جسے ”عشق عشق سے اش اش تک “ بنا دیا گیا۔
تازہ ترین