• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وہ تصویر دیکھو... صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود

یہ کوئی کلیہٴ قاعدہ تو نہیں لیکن مشاہدہ اور تجربہ بتاتا ہے کہ عام طور پر سیاستدانوں کے بیانات اور ”اقوال زریں“ کے پس پردہ کوئی نہ کوئی محرک یا مقصد ہوتا ہے۔ سیاستدان ہوا میں بھی تیر چلائیں تو ذہن میں کوئی نہ کوئی نشانہ ہوتا ہے۔ میں نہیں سمجھ سکا کہ موجودہ حالات میں اور قیام پاکستان کے 65 برس بعد قائداعظم کے مذہبی مسلک یا عقیدے کو اچھالنے کا کیا مقصد ہے؟ اگر مقصد اتحاد بین المسلمین اور قوم کو متحد کرنا ہے تو قائداعظم قومی اتحاد کے رول ماڈل تھے اور ہماری تاریخ میں یہ انہی کا اعجاز اور کرامت تھی کہ انہوں نے مذہب و مسلک، رنگ و نسل اور علاقائیت کے حوالے سے منقسم قوم کو اپنی قیادت میں متحد کر کے تاریخی کارنامہ سرانجام دے دیا۔ قائداعظم نہ کوئی مذہبی شخصیت تھے اور نہ ہی ان کے مسلک نے قومی اتحاد کے قیام اور حصول میں کوئی کردار سرانجام دیا۔ اگر ایسا ہوتا تو مسلمان کبھی اتحاد کی بلندیوں پر نہ پہنچ سکتے۔ اگر مقصد یہ بتانا ہے کہ قائداعظم اثناء عشری شیعہ تھے اس لئے مسلک کی بنیاد پر مسلمانوں اور پاکستانیوں کا خون بہانا بند کر دو تو مقصد بلاشبہ نیک ہے لیکن یاد رکھیئے کہ ان جنونی قاتلوں، دہشت گردوں اور مذہب کے نام پر خون بہانے والوں کو قائداعظم سے کوئی غرض نہیں اور نہ ہی قائداعظم کا شیعہ ہونا ان کے عزائم کی راہ میں دیوار بن سکتا ہے۔ البتہ قائداعظم جو زندگی بھر مذہبی مسلک کے جھگڑے سے بلند و بالا ہو کر اپنے آپ کو صرف مسلمان ثابت کرتے رہے، اس مہم جوئی سے ناخوش ہوں گے۔ انہیں قومی اتحاد کے رول ماڈل کے اعلیٰ مقام سے اتحاد کو فرقے بندی میں الجھانا نہ قائداعظم کی خدمت ہے اور نہ ہی پاکستان کی۔ سمجھنے کی بات فقط اتنی سی ہے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق انسان کا قتل انسانیت کا قتل ہے اور مسلمانوں کا قاتل یقینا جہنمی ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری تو اس موضوع پر فتویٰ دیتے ہوئے ضخیم کتاب لکھ چکے ہیں۔ تقریباً سبھی معتبر اور نامور پاکستانی علماء اور سعودی علماء نے بار بار دہشت گردی کے خلاف فتوے دیئے ہیں۔ اس حوالے سے قرآن حکیم کا فیصلہ نہایت واضح ہے۔ اگر قرآن اور حدیث ان قاتلوں کی راہ نہیں روک سکتے تو کیا قائداعظم کا مسلک ان کے ظالم ہاتھوں سے کلاشنکوفیں چھین سکے گا؟ تجربہ بتاتا ہے اور ہماری حالیہ تاریخ اس تلخ حقیقت کی تصدیق کر چکی ہے کہ سنگدل قاتلوں کو فتوؤں اور واعظوں سے نہ بدلاجا سکتا ہے نہ روکا جا سکتا ہے۔ ان پتھر دلوں پر کلام نرم و نازک اثر نہیں کرتی۔ ان سے آہنی ہاتھوں، سخت گیر اقدامات، قانون کے شکنجے اور نہایت اہل انتظامیہ کے ذریعے ہی نپٹا جا سکتا ہے۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات نہیں مانتے، کیا آپ انہیں فتوؤں اور واعظوں کے ذریعے روک سکتے ہیں؟
میرا رب جانتا ہے کہ جب کوئٹہ، کراچی، گلگت، بلتستان یا پاکستان کے کسی شہر میں کسی شخص کو عقیدے کی بناء پر نشانہ بنایا جاتا ہے تو میرا دل غم کے سمندر میں ڈوب جاتا ہے اور میں اندر سے لہولہان ہو جاتا ہوں۔ صورتحال اس قدر اندوہناک اور خطرناک ہو چکی ہے کہ سارے ملک میں ہزاروں شہری دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں اور حکومت پوری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ حکومت کی اپنی بے بسی کا یہ عالم ہے کہ ہر واردات پر وزیراعظم صاحب، صدر صاحب اور وزیر اعلیٰ صاحب بیانات جاری کر کے اپنی حفاظت گاہوں میں چلے جاتے ہیں اور بیانات کی سیاہی خشک ہونے سے قبل دوسرا المیہ خون بہا دیتا ہے۔ جو حکومت اپنے کارکنوں کی حفاظت نہیں کر سکتی وہ دوسرے شہریوں کی کیا حفاظت کرے گی۔ چند روز قبل سندھ حکومت اور پی پی پی کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے بیان دیا کہ سندھ میں پی پی پی کے 150 کارکن مارے جا چکے ہیں اور اس کی ذمہ داری ہمارے اتحادی پر عائد ہوتی ہے۔ اس سے زیادہ بے بسی اور نا اہلی اور عبرت کا مقام کیا ہو گا؟
ملک بھر کے مختلف مسالک کے علماء کو اکٹھا کرنا اور اتحاد بین المسلمین کی کوششیں کرنا نہ ہی صرف دینی اور قومی خدمت ہے بلکہ وقت کا اہم تقاضا بھی ہے۔ علماء کو متحد ہو کر ملک و قوم کو اس سانحے سے بچانے کے لئے اور مذہب کے نام پر قتل و غارت کے پھیلتے سلسلے کو روکنے کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں اور وسائل استعمال کرنے چاہئیں لیکن اصل مسئلہ انتظامیہ کی ناکامی اور نا اہلی ہے۔ یہ گلہ بھی بجا کہ جن دہشت گردوں کو عدالتوں کے کٹہرے میں لایا جاتا ہے وہ وہاں سے رہائی پا جاتے ہیں لیکن مت بھولئے کہ اس رہائی میں بھی نامکمل تفتیش اور پولیس کی بدنیتی یا نااہلی ثابت ہوتی ہے۔ صدر اور وزیراعظم کے رسمی اور ”اشک شوئی“ بیانات اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کا واویلا کہ اس قتل و غارت میں بیرونی ہاتھ کام کر رہا ہے محض حکومتی ڈھانچے کی نااہلی اور ناکامی کا اعتراف ہیں۔ جو حکومت اپنے شہریوں کو احساس تحفظ فراہم نہیں کر سکتی اسے لوگوں پر مسلط رہنے کا کوئی حق نہیں۔ یہ غریب ملک اربوں روپے خفیہ ایجنسیوں پر صرف کرتا ہے جن کا کام ہی ایسی کمین گاہوں اور خطرات کا کھوج لگانا ہے جہاں ایسی وارداتوں کی منصوبہ بندی ہوتی ہے۔ آخر یہ نصف درجن خفیہ ایجنسیاں کیا کر رہی ہیں؟ انتظامیہ اور حکومتی مشینری کا اولین فرض شہریوں کی حفاظت ہے اور اگر حکومتی مشینری اپنے فرائض سرانجام نہیں دے سکتی تو اس میں تبدیلیاں کر کے اسے اہل بنانا اور متحرک کرنا حکومت کا فرض ہے۔ اگر حکومت ایسا نہیں کر سکتی تو جمہوریت کی روح کا تقاضا ہے کہ وہ اقتدار سے الگ ہو جائے۔ آخر خون بہنے اور معصوم شہریوں کے قتل و غارت کا سلسلہ کب بند ہو گا اور کیسے بند ہو گا؟ جب موجودہ سیاسی ڈھانچہ ساڑھے چار سال کے دور حکومت میں اس مرض کا علاج نہیں کر سکا تو مستقبل میں ان حاکموں سے کیا امید رکھی جائے۔
صدر صاحب یہ کہتے نہیں تھکتے کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے اور وہ لوگ جو خدا بنے بیٹھے تھے آج بیرون ملک خوار ہو رہے ہیں۔ بلاشبہ یہ دنیاوی خدا کا یہی انجام ہوتا ہے اور یہ میرے رب کی منشا ہے لیکن جناب صدر جمہوریت کا اصل انتقام جوابدہی کا اصول ہے ورنہ آمر اور دنیاوی خدا تو اپنے آپ کو جوابدہی سے بالا تر سمجھتے ہیں۔ جوابدہی کے فلسفے کی روح یہ ہے کہ اگر حکومت شہریوں کو احساس تحفظ نہ دے سکے تو وہ خود حکومت سے کنارہ کش ہو جائے جس کے طریقے آئین میں موجود ہیں۔ یہی جمہوریت کا اصل انتقام ہے۔ جمہوریت کا انتقام جوابدہی کے اصول سے پھوٹتا ہے جمہوریت کا انتقام جس کا راگ حکمران ہر وقت الاپتے ہیں تقاضا کرتا ہے کہ حکومت اپنی ناکامی کا اعتراف کرے اور مجرموں کی سرکوبی کے لئے موثر اقدامات کرے۔ وزیر داخلہ کی اداکاری، وزیراعظم اور صدر مملکت کا محض اظہار ہمدردی ان خاندانوں کے دکھ کا مداوا نہیں کر سکتا جو اس دہشت گردی کے سبب ویران ہو چکے ہیں۔ اس گھمبیر صورتحال سے گھبرا کر ملک ٹوٹنے کی پشین گوئیاں کرنے والے بھی ذرا احتیاط سے کام لیں اور بھڑکتی آگ پر تیل نہ ڈالیں۔ قوم کو مایوسی کا پیغام دے کر وہ نادانستہ طور پر دشمن کے ارادوں کو کامیاب کر رہے ہیں۔
بات چلی تھی قائداعظم کے مسلک سے اور پھر شب ہجراں کی مانند طویل ہوتی چلی گئی۔ سندھ ہائیکورٹ پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے کہ قائداعظم عملی طور پر سادہ مسلمان تھے اور ان کا تعلق کسی فرقے یا مسلک سے نہیں تھا۔ قائداعظم کی بہن شیریں بائی کے اس مقدمے میں ہائیکورٹ نے قائداعظم کے ساتھیوں، ذاتی سٹاف اور قریبی لوگوں کے بیانات قلمبند کئے، تاریخی مواد کھنگالا اور عرق ریزی کرنے کے بعد یہ فیصلہ دیا جس کے بعد یہ بحث ختم ہو جانی چاہئے تھی لیکن ایم کیو ایم کے قائد جناب الطاف حسین نے اسے پھر زندہ کر دیا ہے۔ جس مذہبی تبدیلی کا وہ ذکر کرتے ہیں اس کا ذکر قائداعظم کے ایک ساتھی نے سندھ ہائیکورٹ کے سامنے بھی کیا تھا اور بتایا تھا کہ محمد علی جناح نے آغا خانی مسلک ترک کر کے اثناء عشری مسلک قبول کر لیا تھا۔ اسے سندھ ہائیکورٹ نے قبول نہیں کیا تھا اور فیصلہ میں لکھا تھا کہ وہ سادہ مسلمان تھے اور مذہبی فرقہ بندی سے بالاتر تھے۔ ان سے جب بھی پوچھا گیا کہ آپ کا مذہبی مسلک کیا ہے تو جواب ملا کہ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مسلک کیا تھا۔ ان کے عملی رویئے پر نگاہ ڈالیں تو سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کی تصدیق ہوتی ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے جب 1918ء میں رتی ڈنشا سے شادی کا فیصلہ کیا تو اسے مشرف بہ اسلام کرنے کے لئے بمبئی کی جامع مسجد کے امام مولانا نذیر صدیقی کے پاس لے گئے۔ نام مریم رکھا۔ مریم نے مولانا صدیقی کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور مولانا نذیر صدیقی نے ہی قائداعظم کا مریم سے نکاح پڑھایا۔ بھلا مولانا نذیر صدیقی کون تھے؟ مولانا صدیقی مولانا شاہ احمد نورانی کے سگے تایا تھے۔ ان کا مذہبی مسلک واضح اور عیاں ہے اور مولانا صدیقی کا کہنا ہے کہ قائداعظم مذہبی راہنمائی کے لئے اکثر ان کے پاس آتے تھے، ان سے متاثر تھے۔ کیا بمبئی میں شیعہ علماء کی کمی تھی؟نہیں ہرگز نہیں۔ قائداعظم کے نکاح کے گواہوں میں شیعہ بھی ہیں اور سنی بھی کیونکہ وہ فرقہ بندی اور مسالک کے خلاف تھے۔ یاد آیا ایک روز میں نے بریگیڈیئر نور حسین سابق اے ڈی سی گورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناح سے پوچھا کہ قائداعظم کا مسلک کیا تھا؟ جواب ملا کیا آپ نے وہ تصویر دیکھی ہے جس میں گورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناح نماز عید کے لئے پہلی صف میں کھڑے ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ وہ تصویر تقریباً ہر کتاب میں موجود ہے۔ کہنے لگے وہ ہاتھ باندھ کر کھڑے ہیں یا ہاتھ چھوڑ کر؟ میں خاموش ہو گیا۔ قائداعظم کے عملی مسلک کو سمجھنا ہے تو وہ تصویر دیکھو۔ اور ہاں یہ تصویر 1947ء کی ہے!!
تازہ ترین