آخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ میمو گیٹ اسکینڈل کے بطن سے جنم لینے والی سازشوں اور دباؤ نے پیپلز پارٹی کو ایک نئی زندگی دیدی ہے۔ اس نئی زندگی کے آثار 27 دسمبر کو گڑھی خدا بخش میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی چوتھی برسی پر واضح نظر آ رہے تھے۔ پیپلز پارٹی جب بھی اقتدار میں آتی ہے تو اپنے کئی کارکنوں اور جیالوں کو ناراض کر لیتی ہے لیکن اس مرتبہ گڑھی خدا بخش میں جیالوں کی بڑی تعداد اپنی ناراضگیاں بھلا کر موجود تھی بلکہ اکثر جیالے ایک نئی لڑائی کے لئے تیار تھے۔ یہ انفرادیت بھی صرف پیپلز پارٹی میں ہے کہ یہ پارٹی پچھلے تین سال سے اقتدار میں موجود ہونے کے باوجود اس وقت ایک اپوزیشن پارٹی کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ 2008ء میں پیپلز پارٹی کو حکومت کو دیدی گئی لیکن کئی ریاستی اداروں نے اس حکومت کو دل سے تسلیم نہیں کیا تھا اور وہ موقع کی تاک میں تھے کہ کب کوئی بڑی غلطی ہو اور پیپلز پارٹی کو حکومت سے نکالا جائے۔ یہ ادارے اس مخصوص سوچ کے اثر سے باہر نہیں آ سکے جو جنرل ضیاء الحق کے گیارہ سال اور جنرل پرویز مشرف کے آٹھ سالہ دور آمریت میں مضبوط ہوئی۔ پیپلز پارٹی نے آصف علی زرداری کی قیادت میں اس سوچ کا مقابلہ کرنے کی بجائے اس سوچ سے سمجھوتہ کر لیا لیکن پھر بھی بات نہ بنی۔ جیسے ہی میمو گیٹ اسکینڈل کے طوفان نے کچھ گرد و غبار اڑائی تو آصف علی زرداری کو ایوان صدر سے نکالنے کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ وہ علاج کی خاطر چند دن کے لئے دبئی گئے تو کہا گیا وہ واپس نہیں آئیں گے۔ میمو گیٹ اسکینڈل صرف آصف علی زرداری کے لئے نہیں بلکہ پوری قوم کے لئے باعث رحمت ثابت ہوا ہے۔ اس اسکینڈل نے کئی چہروں سے نقاب ہٹا دیئے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ اس اسکینڈل پر عدالت میں بات ہو یا قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی میں تحقیق ہو اگر فیصلہ واقعی منصفانہ ہوا تو قوم کو نقصان نہیں بلکہ بہت فائدہ ہو گا۔ میمو گیٹ اسکینڈل سے آصف علی زرداری کو جو فائدہ ہوا وہ 27دسمبر کو گڑھی خدا بخش میں سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
اس اسکینڈل نے سیاست اور میڈیا میں آصف علی زرداری کے کئی مخالفین کی ساکھ کو تباہ کر دیا ہے۔ وہ جو کہتے تھے کہ آصف علی زرداری فالج و لقوہ کا شکار ہو گیا اور قوت گویائی سے محروم ہو گیا انہوں نے جھوٹا ثابت ہونے کے بعد یہ کہا کہ آصف علی زرداری کسی ذہنی بیماری کا شکار ہو چکے ہیں اور 27دسمبر کے جلسے میں وہ فوج اور عدلیہ کے خلاف اعلان جنگ کر کے اپنی بیماری کا ثبوت دیدیں گے۔ 27دسمبر کو ان کی تقریر واقعی اہم تھی لہٰذا یہ خاکسار بھی لاہور سے جناب منو بھائی، جناب مجیب الرحمن شامی، جناب عارف نظامی اور جناب پرویز شوکت کے ہمراہ گڑھی خدا بخش کے لئے روانہ ہوا تاکہ آصف علی زرداری کی بیماری کو ذرا قریب سے دیکھیں۔ لاہور سے بذریعہ ہوائی جہاز سکھر تک کا سفر تو بڑا آرام دہ تھا لیکن پھر سکھر سے لاڑکانہ تک عارف نظامی صاحب اور منو بھائی کے درمیان پھنس کر بیٹھنا ایک ایسا تجربہ تھا جس نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا کہ آج جو بھی گڑھی خدا بخش پہنچے گا اس کا اصل رشتہ کسی حکومت یا آصف علی زرداری کے ساتھ نہیں بلکہ ان دو شخصیات کے ساتھ ہے جن کی لاشیں راولپنڈی سے سندھ بھیجی گئیں۔ پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت نے اپنی ناقص کارکردگی سے اس رشتے کو کمزور کرنے کی بہت کوشش کی لیکن مخالفین کی بھونڈی سازشیں بار بار اس رشتے کو زندہ کر دیتی ہیں۔
رش اتنا زیادہ تھا کہ گاڑی پر گڑھی خدا بخش کے اندر داخل ہونا ممکن نہ تھا۔ ہمیں کافی فاصلہ پیدل طے کرنا پڑا۔ پیدل سفر کے دوران ایک سندھی نوجوان نے مجھے شکایت بھرے لہجے میں کہا کہ آپ ہماری شہید رانی کی برسی میں شرکت کے لئے نہیں آئے بلکہ صرف یہ دیکھنے آئے ہیں کہ آصف علی زرداری ٹھیک طرح بول سکتا ہے یا نہیں؟ اُس نے کہا کہ ہم زرداری کی حکومت سے اتنے خوش نہیں ہمیں مسلسل دو سیلابوں نے تباہ کر دیا ہے اور حکومت ہماری مناسب مدد نہیں کر سکی لیکن ہم چاہتے ہیں کہ آپ زرداری کو پانچ سال پورے کر نے دو اگر آپ اسے وقت سے پہلے نکالو گے تو پھر ہم اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ میں خاموشی سے نوجوان کی بات سنتا رہا اور کئی کلو میٹر تک ٹریفک کے رش میں پیدل چلتا رہا۔ میرے ساتھ نوجوانوں کا ایک قافلہ بن چکا تھا جو مجھ سے سوال پر سوال کئے جا رہے تھے۔ ایک نوجوان نے کہا کہ آپ نے پشاور میں عمران خان کے دھرنے میں شرکت کی اور پوری رات اس کے ساتھ سڑک پر گزاری تھی کیا آپ آج رات ہمارے ساتھ شہید بی بی کے مزار پر گزاریں گے؟ میں نے نوجوان کو یاد دلایا کہ عمران خان کا دھرنا ڈرون حملوں کے خلاف تھا کوئی سیاسی جلسہ نہیں تھا اگر آپ بھی کوئی دھرنا دیں گے تو میں صحافی کے طور پر آپ کا دھرنا دیکھنے ضرور آؤں گا۔ جواب میں نوجوان نے جو کہا اس میں صوبائی کی بُو تھی۔ یہ نوجوان اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے میڈیا سے بہت ناراض تھے۔ گڑھی خدا بخش میں ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے خاندان کے قبرستان کے سامنے ایک احاطے میں جلسہ گاہ بنائی گئی تھی۔ جلسہ گاہ لوگوں سے بھری ہوئی تھی لیکن جتنے لوگ جلسے میں تھے اس سے زیادہ لوگ باہر سڑکوں پر تھے اور شہید بی بی کے مزار پر فاتحہ خوانی کر کے واپس جا رہے تھے۔ یہ لوگ لاکھوں میں تھے لیکن غیرمنظم تھے۔ پیپلز پارٹی کے کارکن پورے ملک سے آئے تھے لیکن 90فیصد لوگ سندھ کے تھے۔ صدر آصف علی زرداری مقررہ ووقت سے پہلے جلسے میں آ گئے جس کے باعث مخدوم شہاب الدین، امتیاز صفدر وڑائچ، رضا ربانی، جہانگیر بدر اور مخدوم امین فہیم تقریر نہ کر سکے تاہم صدر زرداری نے اپنے بعد اعتزاز احسن کو تقریر کی دعوت دے کر سب کو حیران کر دیا۔ صدر زرداری نے اپنی تقریر میں برما کی اپوزیشن لیڈر آنگ سان سوکئی کا ذکر کیا جو کئی سال سے فوج کے خلاف مزاحمت کر رہی ہے۔ فوج کا نام لئے بغیر فوج کو پیغام دیا گیا کہ ہم لڑنا نہیں چاہتے اگر لڑو گے تو ہم آنگ سان سوکئی جیسی استقامت کے ساتھ لڑیں گے۔ امریکا کا نام لئے بغیر کہا کہ ہم کسی جنگ کے تھیٹر میں داخل نہیں ہوں گے جس سے مرضی گیس لیں گے۔ پیغام واضح تھا کہ ایران کے خلاف جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے اور امریکی دباؤ کے باوجود ایران سے گیس بھی لیں گے۔ صدر زرداری نے عدلیہ پر کوئی بڑا حملہ نہیں کیا البتہ یہ ہیڈ لائن ضرور دیدی کہ جسٹس افتخار صاحب! بے نظیر کیس کا کیا ہوا؟ یہ تو وہ سوال ہے جو ہم بار بار صدر زرداری سے پوچھتے ہیں۔ اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ صدر صاحب یہ بات نہ کہتے تو بہتر تھا۔ صدر زرداری سے گزارش ہے کہ اور کچھ کریں نہ کریں کم از کم شہید بی بی کے قاتل تو پکڑ لیں۔ اگر قاتل بہت طاقتور ہیں اور صدر زرداری ان کے مقابلے پر کمزور تو کوئی بات نہیں، قاتلوں کے نام ہی بتا دیں اور ان کے چہروں سے بھی نقاب ہٹا دیں جنہوں نے قتل کی سازش تیار کی۔ یہ قرض آپ کو ہر صورت چکانا ہے۔ بہتر ہو گا حکومت میں رہتے ہوئے چکا دیں بعد میں کوئی آپ کا یقین نہ کرے گا۔