• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
حرف بہ حرف … رخسانہ رخشی،لندن
(گزشتہ سے پیوستہ)
مرنے کے بعد کے مراحل کی دلچسپ ترین بات چل رہی تھی کہ مولانا صاحب فرمارہے تھے کہ انسان کی اوقات خاک کا پیوند ہونا ہے یا پھر جل کر راکھ ہونا ہے۔ دراصل دونوں ہی اشکال میں یا پھر پارسیوں کی طرح خود کو مرنے کے بعد درندوں پرندوں کی نذر کردینا وغیرہ ان سب میں انسان کی اوقات ظاہر ہوتی ہے کہ اس کی وقعت کچھ نہیں ہے۔ دیکھئے کہیں تو مرنے کے بعد مردے کو ٹھکانے لگانے کا اہتمام کیاجاتا ہے چاہیے کتنا بھی عزیز دلبر دنیا سے چلاجائے اسے روکا نہیں جاتا اپنے اپنے طریقے سے اسے ٹھکانے لگا کر جان چھڑائی جاتی ہے مگر معلوم ہوا کہ کچھ قبیلوں میں مردے کیساتھ زندوں جیسا سلوک کیاجاتا ہے اور کہیں پر بہت برا سکوک بھی سننے کو ملا، سنا ہے کہ انڈونیشیا کے کسی گائوں میں علاقائی لوگ اپنے فوت ہونے والے عزیز واقارب کو دفن ہی نہیں کرتے بلکہ زندہ انسانوں کی طرح ان کی خدمت اور خاطر مدارت کی جاتی ہے۔ انہیں کھانا دیا جاتا ہے اور سگریٹ بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ انڈونیشیا کے گائوں ’’ نوراجان‘‘ کے باشندوں کا کہنا ہے کہ وہ موت پر یقین ہی نہیں رکھتے، کہتے ہیں کہ ان کا طرز عمل نیا نہیں بلکہ نسل درنسل چلا آرہا ہے۔ مرنے والوں کو زندہ ہی سمجھا جاتا ہے لیکن مردوں کی نقل وحرکت اور بول چال بند ہوجائے تو وہ لوگ انہیں بیمار تصور کرتے ہیں ان کا عقیدہ ہے کہ مردہ بے شک دنیاوی رابطے میں نہیں ہے مگر وہ پھر بھی اس کے جنازے کا اہتمام کرتے رہتے ہیں۔ ان کی ضروریات کی چیزیں خریدنے کے علاوہ اس کی بھوک اور دیگر جسمانی حاجات بھی پوری کرتے ہیں، حیرت ہے یہ لوگ سال ہا سال مردوں کیساتھ رہتے ہیں فوت ہونے والے افراد کے جسم کو گلنے سڑنے سے بچانے کے لئے ایک سفوف جس کا نام فارمولین ہے وہ استعمال کرتے ہیں۔ فارمولین ہر گھر میں وافر مقدار میں پایاجاتا ہے۔ یہ اچھے فلسفے کیساتھ کہ مردے بھی زندہ رہتے ہیں اور زندہ رہنے والے ان کی جدائی بھی برداشت نہیں کرتے، یعنی بچھڑنے کا دکھ واذیت بھی نہیں سہنا پڑتا، ایسے مردوں کے خاص مزے ہیں نہ جلنے کا ڈر اور نہ ہی قبر کے حشرات کا ڈر اور نہ ہی میت کو کسی مینار خموشاں اور جنگل میں چھوڑکے گدھ اور پرندے ودرندوں کے کھائے جانے کا ڈر، وہ تو مزے سے مرتا ہوگا کہ مرنے کے بعد اسی گھر میں رہ کر اس کی خوب خدمت ہوتی رہے گی۔ یہ تو انڈونیشیا کا قصہ ہے مگر ملائیشیا کے ایک جزیرے میں مردوں کو حنوط کرکے دور افتادہ پہاڑوں پر محفوظ کردیتے ہیں پھر اپنی مخصوص تقریبات پر ان کی ممیوں کو اٹھا کر گھروں میں لے آتے ہیں اور رسومات کے خاتمے پر یہ واپس پہاڑوں پہ رکھ آتے ہیں۔ افریقہ کے کچھ قبائل میت پر خوب جشن مناتے ہیں ناچ کود کر آخری رسومات ادا کرتے ہیں۔ جبکہ جین مت، بدھ مت، سکھ اور ہندو ارتھی کو شمشان گھاٹ لا کر آگ میں جلادیتے ہیں، روم اور یونان میں دفنانا جلانا دونوں عمل رائج ہیں، کہتے ہیں کہ عیسائیت نے زور پکڑا تو دفنانے کا رواج زور پکڑا، مگر عیسائیت میں بھی ہماری طرح کئی فرقے ہیں۔ کیتھولک مزاحمت کرتے ہیں لاش کو Cremateکرنے کی مگر دوسرے بڑے فرقے پروٹسٹنٹ نے لاش کو Cremate کرنے کی اجازت دیدی۔ اسی لئے بہت سے مسلمان جن کی شادی کسی عیسائی فرقے کی پروٹسٹنٹ خاتون سے ہوتی ہے وہ انہیں اپنے عقیدے کے مطابق لاوارث جان کر انہیں نذرآتش کردیتے ہیں۔ ظاہر ہے بچے بھی ماں کے عقیدے کے فرمانبردار ہوتے ہیں وہ کہاں  مزاحمت کرینگے کہ باپ کو اسلام کے مطابق دفن کیاجائے ایک واقعہ تو ہمارے سامنے کا ہے کہ ایک شاعر و لکھاری کی جرمن بیوی نے ان کی لاش کو Cremation Centreبھیج دیا۔ ہماری ایک معصوم شاعرہ وادیبہ مرحومہ ان کی موت کی خبر سن کر اپنی طرف سے اچھا سا کھانا بریانی رائتہ وغیرہ کے بھئی میت کا گھر ہے اس لئے بے چاروں کو اپنی ہوش نہ ہوگی تو وہ ان کی بہن کے گھر نہایت اہتمام سے لے گئیں البتہ وہاں جاکر انہیں دفنانے کی بجائے جلانے کی چہ مگوئیاں سن کر انہیں اپنے بریانی رائتے کے اہتمام ومحنت پر پانی پھرتا محسوس ہوا وہ بے چاری یہ قصہ سبھی کو رازداری سے سناتی رہی مگر ہمارے برطانوی اردو ادب کے جد امجد عظیم لکھاری امجد مرزا کوکئی کتابیں لکھنے اور باقاعدہ ادبی محافل کا اہتمام کرنے کی وجہ سے ہم انہیں  برطانوی ادب کے جدامجد کہتے ہیں۔ بہر حال انہیں جب معلوم پڑا کہ انہیں نذر آتش کردیا گیا ہے تو امجد مرزا افسوس سے کہنے لگے کہ مجھے معلوم ہوتا اگر کہ انہیں جلایا جائے گا تو میں پھر ڈیڑھ سو لوگوں کو اکٹھا کرکے ان کی روح کے ایصال ثواب اور فاتحہ کا جوانتظام کیا تھا وہ نہ کرتا۔ ویسے عطاالحق قاسمی کے بقول کہ ساقی فاروقی کی قبر پر صلیب یعنی کراس کا نشان ہے تو اس لحاظ سے توڈاکٹر جاوید شیخ نے ان کیلئے قرآن خوانی بھی کرائی تھی۔ پھر اسی حساب سے ہمارے محترم ہم عصر عظیم شعرا ارشد لطیف، یشب تمنا اور دوسرے ساقی صاحب کے قریبی دوست احباب وہ انہیں  اسلامی اور شرعی طریقے سے یاد کرتے ہیں، ثواب پہنچانتے ہیں۔ بہر حال دفن ہونے والے مسلمانو سن لو ذرا کہ عرب ممالک میں بھی عارضی طور پر میتیں دفنائی جاتی ہیں پھر کیمیکل سے لاش ڈی کمپوز کرکے ہڈیاں سمندر میں پھینک دی جاتی ہیں تو اندازہ ہوگیا کہ موجودہ صورتحال میں جب زمین کم پڑ جائے تو سوائے اسلام کے باقی تمام مذاہب میں کسی حد تک Cremtionکو قبول کرنے کا رحجان نظر آرہا ہے۔ لاکھوں آلودگی اور دھویں سے پاک Modern Cremation Centreبن رہے ہیں جہاں لاش کو راکھ ہوتے دیر نہیں لگتی، ویسے بھی زمانہ کونسا ہے جلنے یا دفن ہونے سے کیا ہوتا ہے جن کے ضمیر مر جائیں وہ بھی زندہ لاش ہیں خواہ جلیں یا نذر آتش ہوں کیا فرق پڑتا ہے اصل بات روح کی ہے کہ وہ کتنی پاکیزہ ہوکر افق کے اس پارجاتی ہے جہاں فرشتے خدا کی طرف سے انہیں خوش آمدید کہتے ہیں، باقی خدا سب جانتا ہے۔
تازہ ترین