نیب نے ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس 8 ستمبر2017ءکو دائرکیا،مقدمے کی کل 107 سماعتیں ہوئیں، احتساب عدالت نے فیصلہ 3 جولائی کو محفوظ کیا تھا۔
ریفرنس میں الزام لگایا گیا کہ نواز شریف نے عوامی عہدے پر رہتے ہوئے اپنے زیر کفالت بچوں کے نام پر جائیدادیں بنائیں۔
نواز شریف نے اپنی صفائی میں موقف اپنایا کہ جائیدادیں ان کے مرحوم والد میاں محمد شریف نے براہ راست اپنے پوتوں کو منتقل کیں اور وہ عوامی عہدے پر فائز ہونے سے پہلے خاندانی کاروبار سے علیحدہ ہوگئے تھے۔
اس ریفرنس میں پہلی سماعت گزشتہ سال 14 ستمبر کو ہوئی ،18گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئےجس میں پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا بھی شامل تھے ۔
مزید شواہد کے دعوے کے ساتھ نیب نے 22جنوری کو ضمنی ریفرنس دائر کیا، مقدمے کی کُل107سماعتیں ہوئیں ، نواز شریف کی78 ، مریم نواز 80 اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی 92 پیشیاں ہوئیں ۔
11 جون 2018کو حتمی دلائل کی تاریخ سے ایک دن پہلے نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کیس سے الگ بھی ہوئے تاہم انہوں نے 19جون کو مقدمے سے دستبرداری کی درخواست واپس لے لی۔
عدالت نے 3جولائی کو سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا ،احتساب عدالت نے اس کیس میں حسن اور حسین نواز کو پیش نہ ہونے پر اشتہاری قرار دے رکھا ہے اور ان کا ٹرائل بھی الگ کر دیا گیا ہے ۔