• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کسی ملک کی اسٹاک مارکیٹ اس کی معاشی صورت حال کا آئینہ دار ہوتی ہے، اس اصول کو مدنظر رکھ کر دیکھا جائے تو پاکستان کی معیشت اس وقت غیر معمولی دبائو میں ہے جسے اس مشکل سے نکالنے کے لئے غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کی جو شدید لہر آئی ہوئی ہے اس کا تقاضا ہے کہ ہماری حکومت، پالیسی ساز ادارے اور ماہرین معیشت سنجیدگی سے اس کے اسباب پر غور کریں اور اقتصادی بحالی کے لئے ٹھوس اقدامات تجویز کریں جنہیں انتخابات کے بعد آنے والی حکومت مزید سوچ بچار کرکے ان پر عملدرآمد کرے۔ سال ڈیڑھ سال پہلے اسٹاک ایکسچینج کا ہنڈرڈ انڈیکس 52ہزار پوائنٹس کی حد عبور کر گیا تھا جو بعد کے عرصے میں آنے والی مسلسل مندی کے باعث پیر کو 39288 پوائنٹس کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔ بازار حصص کے اعداد و شمار کے مطابق صرف ایک روز میں ہنڈرڈ انڈیکس میں مجموعی طور پر 996پوائنٹس کی کمی آئی، کل12کروڑ 35لاکھ حصص کا کاروبار ہوا توانائی، بینکاری اور کیمیکل سیکٹر کی 30کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، صرف 8کمپنیوں کے کاروبار میں استحکام رہا جبکہ 288کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں گر گئیں جس سے سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑاحصص کی قیمتوں میں کمی سے کاروبار کی مجموعی مالیت بھی غیر معمولی طور پر کم ہو گئی نقصان سے دو چار ہونے والی کمپنیوں کی اتنی بڑی تعداد ظاہر کرتی ہے کہ ملک کے معاشی معاملات پر فوری توجہ نہ دی گئی تو آگے چل کر صورت حال مزید بگڑ سکتی ہے۔ ملکی معیشت کے نباض اور مالیاتی ماہرین اسٹاک مارکیٹ میں اس تنزلی کی بڑی وجہ ملک میں غیر یقینی سیاسی صورت حال، سیاسی جماعتوں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف بلاثبوت سنگین مالی اور اخلاقی الزامات کی بھرمار، بڑھتا ہوا سیاسی تنائو، کشیدگی اور افراتفری، بعض سیاسی لیڈروں کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمات، بعض بینکوں کے صدور دیگر عہدیداروں اور اکائونٹس ہولڈرز کے خلاف ایف آئی اے کی کارروائی، بعض بروکروں، مقامی میوچل فنڈز، انشورنس کمپنیوں، آرگنائزیشنز اور غیرملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے سیلنگ پریشر بتاتے ہیں جس سے ملکی سرمایہ کاروں میں مایوسی پھیلی ہوئی ہے۔ اسٹاک مارکیٹ کی خراب صورت حال کے علاوہ ملکی معیشت پرکئی دوسرے دبائو بھی ہیں جو تسلسل سے میڈیا میں رپورٹ ہوتے رہتے ہیں ان میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی مسلسل گرتی ہوئی قدر، زرمبادلہ کے ذخائر میں تشویشناک حد تک کمی، درآمدی و برآمدی تجارت میں بڑھتے ہوئے عدم تفاوت کی وجہ سے تجارتی خسارہ جو14ارب ڈالر سے بھی بڑھ گیا ہے۔ بیرونی قرضوں میں اضافہ، زرعی شعبے میں ترقی کی مطلوبہ شرح حاصل نہ ہونا۔ سرکاری کمپنیوں اور اداروں کا خسارے میں چلنا، گردشی قرضوں میں اضافہ، کرپشن اور منی لانڈرنگ، چالیس سال سے ایک بھی ڈیم کا نہ بننا اور حکومت کے بڑھتے ہوئے غیر ترقیاتی اخراجات شامل ہیں۔ ان اسباب کی وجہ سے عوام پر ٹیکسوں یوٹیلیٹی بلوں اور مہنگائی کا بوجھ بڑھ گیا ہے۔ سابق حکومت کی کوششوں سے بجلی کی پیداوار میں دس ہزار میگاواٹ کا اضافہ تو ہوا اور سسٹم میں 28ہزار میگاواٹ کی صلاحیت پیدا ہو گئی مگر ٹرانسمیشن لائنوں کا نظام بہتر بنانے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ آج بھی جاری ہے اور لوگوں کا کاروبار متاثر ہو رہا ہے ۔ اس کے باوجود اسٹیٹ بینک کے مطابق پچھلے دس سال میں غربت کی شرح میں کمی ہوئی جو اچھی بات ہے مگر ایک تہائی آبادی اب بھی خط افلاس سے نیچے کی زندگی گزارر ہی ہے۔ ملک کی مجموعی معاشی صورت حال بہتر بنانے کے لئے تمام شعبوں میں بہت کچھ کرنے کی گنجائش ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام لایا جائے طویل و قلیل المدت اقتصادی منصوبے بنائے جائیں۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا جائے اور مہنگائی سمیت عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے پر توجہ دی جائے۔ اس حوالے سے آئندہ منتخب حکومت کو ٹھوس فیصلے اور انقلابی اقدامات کرنا ہوں گے۔

تازہ ترین