• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اس حقیقت سےمفر ممکن نہیں کہ دنیا میں صرف وہی قومیں سرخرو ہوئیں اورکوئی مقام و مرتبہ پایا جنہوں نےاجتماعی سوچ کے ساتھ اپنے مسائل کا ادراک کیا اور پھر اپنی مدد آپ کے جذبے کے تحت متحد و متفق ہو کر اپنے مسائل حل کئے۔ دوسروں کی اعانت سے چلنے والی معیشت کبھی مستحکم نہیں ہوپاتی، البتہ اپنی امدد آپ کے تحت ترقی و خوشحالی کی بےشمار مثالیں ہیں، جن میں نمایاں ترین چین کی ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ وطن عزیز سردست قلت آب کے بحران سے نبرد آزما ہے جو لمحہ بہ لمحہ سنگین تر ہوتا چلا جارہاہے۔ بھارت کی طرف سے دریائے نیلم پر کشن کنگا ڈیم کی تعمیر کے بعد جب ملکی اور بین الاقوامی اداروں نے پانی کے اس بحران کی طرف توجہ دلائی تو ایک بار پھر کالا باغ ڈیم کا معاملہ زیر بحث آگیا۔ عوام نے اس حوالے سے بھی عدلیہ کی طرف دیکھنا شروع کردیا۔ لا ءاینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے زیر اہتمام اجلاس میں کالا باغ ڈیم پر تین صوبوں کے تحفظات کی بنا پر دیامیر، بھاشا ڈیم اور مہمند(منڈا) ڈیم بنانے پر اتفاق ہوا۔ اس سلسلے میں احسن پیش رفت یہ ہوئی کہ ڈیمز کی تعمیر کیلئے چیف جسٹس آف پاکستان نے ایک فنڈ قائم کردیا اور خوداس میں دس لاکھ روپے جمع کرائے۔ اب پاکستان کی مسلح افواج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفورکی طرف سے یہ خوشی کی خبر سامنے آئی ہے کہ پاکستان کی تینوں افواج کے افسران 2دن جبکہ سپاہی ایک دن کی تنخواہ ڈیمز کی تعمیر کیلئے قائم کردہ فنڈ میں دیں گے۔ انہوںنے کہا کہ یہ قدم مسلح افواج نے بحیثیت ادارہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پیغام کے آخر میں ہیش ٹیگ کیساتھ ’’ڈیمز پاکستان کیلئے‘‘لکھا۔ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ اور مسلح افواج کے مذکورہ احسن اقدامات کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ دونوں اداروں کا عمل بلاشبہ لائق تقلید ہے اور من حیث القوم یہ ہر محب وطن پاکستانی کا فریضہ ہے کہ اپنی آنے والی نسلوں کیلئے آبی ذخائر کی تعمیر کیلئے قائم کردہ فنڈ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے۔ دنیا پرثابت کردے کہ ہم ایک باشعور اور غیور قوم ہیں جو اپنے مسائل خود حل کرنا جانتی ہے۔پاکستان کی مسلح افواج کا یہ اقدام لائق صد تحسین ہے ، امید ہے اس کی تقلید کی جائے گی۔

تازہ ترین