اسلام آباد، کراچی (ایجنسیاں، جنگ نیوز)الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے پیش نظر بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کو 25جولائی تک معطل کر دیا، جن میں کنٹونمنٹ بورڈزکے سربراہان بھی شامل ہیں۔ جبکہ فوجی افسروں کو مجسٹریسی اختیارات دے دئیے گئے، فوجی اہلکاروں کو موقع پر سزا دینے کا اختیار ہوگا،صفائی اور دیگر ذمہ داریاں صوبائی حکومتوں کے سپرد ہونگی۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ بلدیاتی اداروں کے سربراہان کی عارضی معطلی کا اقدام الیکشن کوشفاف بنانے کیلئے کیا گیا۔اس سلسلے میں نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا، وفاق اور صوبائی حکومتوں کو بھی مراسلہ ارسال کردیا گیا ہے، سیکرٹری الیکشن کمیشن نے حکام کو ضابطہ اخلاق کی پابندی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن کے مطابق ملک بھرکے تمام میئرز،ڈپٹی میئرز،چیئرمین وائس چیئرمین اور کنٹونمنٹ بورڈزکے سربراہان 25 جولائی تک معطل رہیں گے، اس کے ساتھ ساتھ میٹرو پولیٹن کارپوریشنز، میونسپل کارپوریشنز، میونسپل کمیٹیز، یونین کونسلز کے تمام عہدے دار بھی عام انتخابات تک معطل رہیں گے، بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کی الیکشن تک عارضی معطلی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا، الیکشن کمیشن نے وفاق اور صوبائی حکومتوں کو بھی مراسلہ جاری کر دیا ہے۔ صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس دوران سینی ٹیشن اور صفائی کے کام معمول کے مطابق یقینی بنائیں۔علاوہ ازیں انچارج آفیسر پولنگ اسٹیشنز کے مجسٹریٹ درجہ اول کے اختیارات سے متعلق نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ اسٹیشن پر فوج تعینات ہو گی فوجی اہلکار کسی بھی خلاف ورزی کی اطلاع پریزائیڈنگ افسر کو دینے کے پابند ہونگے، مناسب کارروائی نہ ہونے پر فوجی اہلکار اپنے سینئر افسران کو آگاہ کرینگے، پولنگ اسٹیشنز پر فوجی اہلکار 23سے 27جولائی تک تعینات ہونگے، انچارج پولنگ اسٹیشنز کے پاس 23سے 27جولائی تک مجسٹریٹ درجہ اول کے اختیارات ہونگے۔ دریں اثناء الیکشن کمیشن آف پاکستان نے واضح کیا ہے کہ سیکورٹی اہلکاروں کا انتخابی نتائج کی ترسیل میں کسی قسم کا کوئی کردار نہیں ہوگا ،انتخابی نتائج مرتب کرنے کے بعد اس کی ترسیل پریذائیڈنگ افسر ہی کا اختیار ہے، سیکیورٹی اہلکاروںکا کردار محض اتنا ہے کہ وہ پولنگ اسٹیشنوں پر پرامن ماحول فراہم کریں ۔کمیشن نے 9 جولائی 2018 کو سیکیورٹی دستوں کے انتخابی نتائج کی رسانی میں کردار سے متعلق شائع خبر اور 10 جولائی 2018 کو شائع ہونے والے انگریزی اخبار کے اداریہ بعنوان سیکورٹی فورسز کے لیے انتخابی عمل میں مشکوک کردارکے حوالے سے وضاحت اور تردید جاری کی ہے۔ منگل کو ترجمان الیکشن کمیشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ واضح رہے کہ سیکورٹی اہلکاروں کا انتخابی نتائج کی ترسیل میں کسی قسم کا کوئی کردار نہیں ہے ۔ زیر دفعہ 13(2) الیکشن ایکٹ 2017 پریذائیڈنگ افسر ہی اس بات کا ذمہ دار ہے کہ وہ انتخابی نتائج کو مرتب کرنے کے بعد اس کی ترسیل بذریعہ(RTS) متعلقہ ریٹرننگ افسر اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کو کرے ۔ سیکیورٹی اہلکار ان کے لیے جاری کردہ ضابطہ اخلاق کے پیرا 14 کے مطابق ان کا کردار محض اتنا ہے کہ وہ پولنگ اسٹیشن پر پرامن ماحول فرا ہم کریں گے تا کہ پریذائیڈنگ افسر آسانی کے ساتھ انتخابی نتیجہ کی ترسیل امیدواران یا ان کے ایجنٹس کی موجودگی میں کر سکے۔ لہذا خبر کی سرخی اور اداریہ میں ابھرنے والے اس تاثر کی سختی سے تردید کی جاتی ہے کہ سیکیورٹی اہلکاروں کا انتخابی نتائج کی ترسیل میں کسی قسم کا کوئی کردار ہو گا۔ دریں اثناء سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب فتح نے صوبائی الیکشن کمیشن کے دفتر میں عام انتخابات سے متعلق اجلاس میں شرکت کی۔ جس میں صوبائی الیکشن کمشنر اور اعلی افسران نے شرکت کی۔ انہوںنے انتخابات کے حوالے سے سندھ میں جاری کام کو تسلی بخش قرار دیا۔ ترجمان صوبائی الیکشن کمیشن کے مطابق سیکرٹری الیکشن کمیشن نے تمام حکام کو ضابطہ اخلاق کی پابندی کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔