اسلام آباد (احمد نورانی) پاناما کیس کی تحقیقات کیلئے قائم کردہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے اپنی حتمی رپورٹ کے والیم 8؍ میں بھرپور سفارش کی تھی کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی والدہ 85؍ سالہ مسماۃ شمیم اختر کیخلاف رائیونڈ میں گھر تعمیر کرنے کے معاملے پر کرپشن ریفرنس قائم کیا جائے لیکن اس کے باوجود نیب نے اب تک یہ کیس نہیں کھولا۔ جے آئی ٹی نے اپنی حتمی رپورٹ میں کہا تھا کہ مالی حالات کو دیکھتے ہوئے شریف فیملی نے لاہور کے رائیونڈ میں یہ عمارتیں تعمیر کرائیں اور یہ کرپشن اور کرپٹ اقدامات کے زمرے میں آتا ہے۔ چونکہ مسماۃ شمیم اختر رائیونڈ میں قائم شریف فیملی کے گھر کی مالکن ہیں لہٰذا جے آئی ٹی نے سفارش کی کہ ’’ٹھوس شواہد‘‘ کو دیکھتے ہوئے نیب کو ان کے اور ان کے بیٹے نواز شریف کیخلاف کرپشن ریفرنس نمبر 7؍ برائے 2000ء کھولنا چاہئے۔ جے آئی ٹی نے نیسپاک (مشرف کے تحت) کے ماہرین کی رپورٹ کا بھی حوالہ پیش کیا جس میں ان عمارتوں کی تعمیر کیلئے لاکھوں کروڑوں روپے کے اخراجات کا تخمینہ پیش کیا گیا تھا۔ صرف یہی نہیں، نیب پاناما جے آئی ٹی کی سفارش پر مری میں قائم شریف فیملی کے گھر کے حوالے سے بھی کرپشن کیس کھولنے سے گریزاں ہے۔ اسی موقع پر نیب نے رائیونڈ میں گھر کی تعمیر کیلئے اور زرعی مقاصد کیلئے زمین کے حصول کی تحقیقات کیلئے بھی تحقیقات شروع نہیں کی حالانکہ جے آئی ٹی نے اس معاملے میں بھرپور سفارش کی تھی۔ جو باتیں سامنے آئی تھیں ان کو دیکھتے ہوئے جے آئی ٹی نے والیم 8؍ میں بتایا تھا کہ شریف فیملی بھکاریوں کی طرح تھی اور ان کے پاس یہ تمام جائیدادیں خریدنے اور سرمایہ کاری کرنے کیلئے کچھ نہیں تھا کیونکہ ان کے تمام کاروبار یا تو بند ہو چکے تھے یا انہیں نقصانات کا سامنا تھا۔ پاناما جے آئی ٹی نے اس والیم میں بھرپور سفارش کی تھی کہ تمام زیر التوا ریفرنس، تحقیقات اور انکوائریاں دوبارہ کھولی جائیں کیونکہ ان معاملات میں ٹھوس شواہد موجود ہیں لیکن نیب نے ناقابل تشریح وجوہات کی بنا پر کارروائی شروع نہیں کی۔ مسماۃ شمیم اختر کے خلاف ریفرنس کے حوالے سے جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ شریف فیملی (میاں محمد شریف، مسماۃ شمیم اختر، میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف، میاں عباس شریف اور خاندان کے دیگر ارکان) کیخلاف انوسٹی گیشن کی اجازت چیئرمین نیب نے دی تھی، ان پر الزام تھا کہ انہوں نے معلوم ذرائع سے زیادہ اثاثے بنائے ہیں (لاہور کے رائیونڈ میں شمیم فارم میں محل نما گھر، دیگر عمارتوں کی تعمیر کیلئے سرمایہ کاری)۔ اس سلسلے میں انوسٹی گیشن مکمل ہو چکی تھی اور احتساب عدالت میں تین ملزمان میاں محمد شریف، شمیم اختر اور نواز شریف کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کی جانے والی تھی۔ چیئرمین نیب نے ریفرنسز کی منظوری دی اور 7/2000 ریفرنس احتساب عدالت اٹک فورٹ میں دائر کیا گیا۔ انوسٹی گیشن میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ 401؍ کنال زمین میاں محمد شریف اور مسماۃ شمیم اختر نے حاصل کی تھی جسے بعد میں محل نما گھر کی تعمیر اور دیگر متعلقہ عمارتوں کی تعمیر کیلئے استعمال کیا گیا۔ ریکارڈ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مذکورہ زمین میاں شریف اور شمیم اختر کے نام پر ہے جس کے گرد چار دیواری قائم کی گئی ہے۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس چار دیواری کے اندر اور باہر کئی عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں جن پر ملزمان کا قبضہ ہے۔ یہ عمارتیں 1992ء سے 1999ء کے درمیان تعمیر کی گئیں۔ نیسپاک کی ٹیم، جو تحقیقات میں شامل تھی، نے سروے کیا اور بتایا کہ عمارت اور اس پر کیے گئے اخراجات کا تخمینہ 247.352؍ ملین روپے (24؍ کروڑ 73؍ لاکھ روپے سے زائد) ہے، اس میں سے 171.130؍ ملین (17؍ کروڑ 11؍ لاکھ سے زائد) روپے نواز شریف نے اپنے اور اپنے بھائی شہباز شریف کے گھر کی تعمیر کیلئے بطور حصہ ادا کیے۔ 1992ء سے 2000ء کے درمیان ملزمان کے ٹیکس ریٹرنز کے مطابق ان کی مجموعی آمدنی 4؍ کروڑ 11؍ لاکھ 90؍ ہزار (41.190 ملین) روپے تھی۔ جبکہ عمارتوں کی تعمیر پر آنے والے مجموعی اخراجات 247.352؍ ملین روپے (24؍ کروڑ 73؍ لاکھ روپے سے زائد) تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ رائیونڈ کی عمارتوں کی تعمیر پر آنے والے اخراجات اور رائیونڈ کی زمین کے حصول کے اخراجات ملزمان کی آمدنی سے میل نہیں کھاتے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ احتساب عدالت اٹک فورٹ میں ریفرنس 27؍ مارچ 2000ء کو دائر کیا گیا تھا۔ اس وقت نواز شریف زیر حراست تھے۔ انہیں بعد میں 10؍ دسمبر 2000ء کو سعودی عرب جلا وطن کر دیا گیا۔ ملزمان کی عدم دستیابی اور ان کی بیرون ملک موجودگی کی وجہ سے ایڈیشنل پراسیکوٹر جنرل نیب کی درخواست پر یہ کیس 12؍ اپریل 2001ء کو ملتوی کر دیا گیا۔ 25؍ اگست 2007ء کو پراسیکوشن کی درخواست پر عدالت نے میاں شریف کا نام ریفرنس سے خارج کر دیا کیونکہ ان کا انتقال ہو چکا تھا۔ ایک مرتبہ پھر کیس کی سماعت 21؍ اگست 2008ء کو ملتوی کر دی گئی۔ چیئرمین نیب نے 17؍ جولائی 2012ء کو کیس کھولنے کیلئے درخواست دی۔ اس دوران شریف فیملی کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ میں انوسٹی گیشن ختم کرنے کیلئے درخواست دائر کی گئی۔ چونکہ یہ فیصلہ اختلافی تھا اسلئے یہ معاملہ تیسرے جج کو بھیج دیا گیا جنہوں نے 11؍ مارچ 2014ء کو ریفرنس ختم کرنے کا فیصلہ سنایا اور کہا کہ نیب اس کیس کی دوبارہ انوسٹی گیشن نہیں کر سکتا۔ نیب نے سپریم کورٹ میں اس سلسلے میں کوئی اپیل دائر نہیں کی۔ پاناما جے آئی ٹی نے اس کیس کی تفصیلی تحقیقات کے دوران پانچ نتائج اخذ کیے، ۱) کیس کا ٹرائل احتساب عدالت میں کبھی نہیں چلایا گیا، ۲) ملزمان ٹرائل میں حصہ لے کر اپنے مشاہدات پیش کر سکتے تھے، ۳) انوسٹی گیشن کی خامیاں جرم کے گہرائی پر پردہ نہیں ڈال سکتیں اور اس کیس میں ظاہر کردہ آمدنی اور لگائے گئے سرمایے میں بہت بڑا فرق ہے، جس کی وضاحت ریکارڈ پر آنا باقی ہے، ۴) معلوم ذرائع سے زیادہ اثاثے رکھنے کا معاملہ اب بھی موجود ہے اور انوسٹی گیشن کے دوران حاصل ہونے والے شواہد کے بعد ضروری تھا کہ ٹرائل ہوتا اور اگر انوسٹی گیشن میں کوئی خامی سامنے آتی تو معاملہ دوبارہ انوسٹی گیشن کیلئے بھجوایا جاتا، ۵) ریکارڈ پر ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ آئی ایس آئی، ایم آئی، اسٹیٹ بینک، سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، نیب اور ایف آئی اے کے ارکان پر مشتمل 6؍ رکنی جے آئی ٹی نے پانچ تجاویز پیش کیں: ۱) یہ فیصلہ 11؍ مارچ 2014ء کو سنایا گیا تھا لیکن نیب نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کو ترجیح نہیں دی، ۲) اس معاملے کی مزید تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ شریف فیملی کے مزید ذرائع آمدنی کا پتہ لگایا جا سکے کہ انہوں نے پراپرٹی کی تعمیر پر کتنا پیسہ لگایا ہے، ۳) مزید تحقیقات کے نتیجے میں شریف فیملی تحقیقات کے عمل میں شامل ہوگی اور انہیں آمدنی کے ذرائع کے حوالے سے جواز پیش کرنے کا موقع ملے گا۔ لہٰذا، تجویز ہے کہ معاملہ مزید تحقیقات کیلئے دوبارہ کھولا جائے، ۴) نیب میں ایک اور تحقیقات 29؍ فروری 2000ء سے جاری ہیں جس میں شریف فیملی پر الزام ہے کہ انہوں نے دھونس اور دبائو کے تحت رائیونڈ میں اور اس کے گرد معلوم ذرائع سے زیادہ مالیت کی زمین حاصل کی۔ تجویز ہے کہ اس انوسٹی گیشن کو بھی کھولا جائے، ۵) نیب کو یہ ہدایت دی جائے کہ کیس کا جائزہ ہے اور سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرے تاکہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو نیسپاک کی رپورٹ اور شریف فیملی کے ذرائع آمدنی اور ان کی جانب سے جمع کرائے گئے ٹیکس ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے کالعدم قرار دیا جائے۔ اس کے علاوہ اگر دوبارہ انوسٹی گیشن کی ضرورت ہو تو نیب میں موجود اسی موضوع پر دیگر کیسز کو اس کیس کے ساتھ ضم کر دیا جائے۔