کراچی (ٹی وی رپورٹ)پیپلز پارٹی کے رہنما تاج حیدرنے کہا ہے آصف زرداری اور فریال تالپور پر مقدمات کی بڑی وجہ پارٹی کی ڈی جی ایف آئی اے کیخلاف شکایت تھی ،کسی جمہوری عمل میں عمران خان کا ذکر کرنا زیادتی کی بات ہے۔وہ جیو کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں ن لیگ کے رہنما ڈاکٹر مصدق ملک،تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری اور پیپلز پارٹی کی رہنما ڈاکٹر نفیسہ شاہ سے بھی گفتگو کی گئی۔مصدق ملک نے کہا کہ جیپ کے نشان سے متعلق سوال الیکشن کمیشن سے کیا جانا چاہئے، پی ٹی آئی کی جیپ کے مالکان سے دوستی ہے، پی ٹی آئی میں الیکٹ ایبلز کیسے آئے کون لایا یہ ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔شیریں مزاری نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مخالف جیپ ہو یا ن لیگ ہمیں الیکشن لڑنا ہے، دہشتگردی کیخلاف جنگ کا کریڈٹ فوج کے ساتھ تمام سیاسی جماعتوں کو بھی دینا چاہئے، فوجی ڈکٹیٹر کے ساتھ این آر او پی ٹی آئی نے نہیں پیپلز پارٹی نے کیا تھا۔ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کو مختلف حربوں سے روکا جارہا ہے،جی ڈی اے کے امیدوار لینڈ گریبرزاور لون ڈیفالٹرز ہیں ان کیخلاف کیس کیوں نہیں کھولے جارہے، پیپلز پارٹی تمام کیسوں کا سامنا کرے گی۔تاج حیدر نےکہا کہ آصف زرداری اور فریال تالپور پر مقدمات کی بڑی وجہ پارٹی کی ڈی جی ایف آئی اے کیخلاف شکایت تھی کہ ان کے بھائی سندھ سے الیکشن لڑرہے ہیں جہاں وہ لوگوں پر اثرانداز ہورہے ہیں، آصف زرداری کو پہلے بھی گیارہ سال جیل میں رکھا پھر باعزت بری کردیا گیا،پیپلز پارٹی کیلئے قانونی طریقہ گرفتاری، تحقیقات، مقدمہ اور بری کرنے کا ہے اس دفعہ مہربانی ہے گرفتار نہیں کیا گیا۔تاج حیدر کا کہنا تھا کہ روٹی ، کپڑا اور مکان پیپلز پارٹی کے منشور کی اساس ہے ،مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کشمیریوں کو متحد کرنے کیلئے سماجی و اقتصادی روابط مضبوط کرنا چاہتے ہیں، منشور میں ملک کو درپیش بحرانوں اور ان کا حل پیش کیا گیا ہے۔ تاج حیدر نے کہا کہ عمران خان کا جمہوری مائنڈ سیٹ نہیں ہے، کسی جمہوری عمل میں عمران خان کا ذکر کرنا زیادتی کی بات ہے، این آر او کی وجہ سے بہت سے قائدین کی واپسی ممکن ہوئی اور ڈکٹیٹر کو باہر کا راستہ دکھایا گیا۔مصدق ملک نے کہا کہ ن لیگ کے منشور میں تسلیم کیا گیا ہے کہ دہشتگردی پر فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں سے قابو پایا گیا ہے،وفاقی وصوبائی حکومتوں اور فوج کے ساتھ سیاسی جماعتوں کو بھی دہشتگردی کیخلاف جنگ کی کامیابی کا کریڈٹ جاتا ہے، سویلین حکومتوں نے دو تین لاکھ کومبنگ آپریشن کیے جن میں ایک لاکھ 60افراد کو گرفتار کیا گیا ، تمام مدارس کے ساتھ مل کر مدرسوں کی جیو ٹیگنگ کی گئی۔ مصدق ملک کا کہنا تھا کہ ای او بی آئی کیس اور سندھ میں ہاؤسنگ اسکینڈل میں ملوث لوگ الیکشن لڑرہے ہیں مگر کسی کو نہیں پکڑا گیا، انجینئر قمر الاسلام کو پہلے کلیئرنس دی گئی لیکن جس دن انہیں پارٹی ٹکٹ ملا صبح اٹھالیا گیا، جیپ کے نشان سے متعلق سوال الیکشن کمیشن سے کیا جانا چاہئے، پی ٹی آئی کی جیپ کے مالکان سے دوستی ہے، جیپ کے علاوہ یہ بھی حسین اتفاق ہے کہ ن لیگ چھوڑنے والا جاتا پی ٹی آئی میں ہی ہے، پی ٹی آئی میں الیکٹ ایبلز کیسے آئے کون لایا یہ ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔مصدق ملک نے کہا کہ نیب میں اصلا حا ت ہونی چاہئے تھیں جو ہم نے نہیں کیں مگر اگلی حکومت میں کرنی ہیں، نیب کو نہ سیاسی جوڑ توڑ میں ملوث ہونا اور نہ کسی کو سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنانا چاہئے،ن لیگ نے منشور میں غریب آدمی کو تحفظ دینے کا وعدہ کیا ہے، تعلیم ،فنی تربیت اور پھر قرض حسنہ کی اسکیم کے ذریعہ غریبوں کو بااختیار بنانے کا طریقہ اختیار کریں گے۔ مصدق ملک کا کہنا تھا کہ منشور میں بیرون ملک جیل میں ہر پاکستانی قونصلیٹ سروس فراہم کریں گے اس میں عافیہ صدیقی بھی آتی ہیں، انصاف کا نظام لوگوں کی دہلیز تک لے کر جائیں گے، عوامی عدالتیں بنائی جائیں گے جہاں افسروں کو پیش کیا جائے گا۔