کراچی (نیوز ڈیسک ) پشاور خودکش حملے میں شہید ہونے والے ہارون بلور کے بیٹے دانیال نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد نے انہیں جلسے میں آنے سے منع کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ عموماً وہ اپنے والد کے ساتھ جلسے میں ہوتے تھے تاہم اس مرتبہ ان کے والد نے انہیں ایک دوست کے زریعے سے پیغام پہنچایا کہ وہ جلسے میں نہ آئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ میں راستے ہی میں تھا کہ مجھے دھماکے کی اطلاع موصول ہوئی ۔ عوامی نیشنل پارٹی کی کارنرمیٹنگ جاری تھی سابق سینیٹر الیاس بلور سٹیج پر بیٹھے تھے کہ اس دوران ہارون بلور کارنر میٹنگ میں شرکت کے لئے آئے تواس کے ساتھ ہی زوردار دھماکا ہو گیا اور ہر طرف اندھیرا چھا گیا ۔ خودکش دھماکئ کے عینی شاہد اے این پی کے مقامی رہنما ءنے جنگ کو بتایا کہ دھماکے کے وقت اے این پی کی کارنر میٹنگ کی تقریب جار ی تھی دھماکے سے چند لمحے قبل ہارون بلور نے کارنر میٹنگ میں شرکت کی اطلاع دی تھی اس دوران انہوں نے غلام احمد بلور کو بھی کارنر میٹنگ میں شرکت کی اطلاع دی تو انہوں نے بتایا کہ وہ شیخ آباد میں ایک کارنر میٹنگ میں شریک ہیں جس کے بعد وہ آرہے ہیں ۔ فون بند کرنے کے بعد اسے اطلاع ملی کہ ہارون بشیر بلور تقریب میں شرکت کے لئے پہنچ گئے ہیں وہ فوراً ہارون بلور سے ملنے گئے ان سے ملنے کے بعد وہ دوبارہ اسٹیج سنبھالنے کے لئے پہنچ گئے تو دیکھا کہ ہارون بلور کارکنوں کے درمیان موجود تھے جبکہ کارکن آتش بازی کررہے تھے اس دوران ایک زور دار دھماکا ہو گیا جس کے بعد ہر طرف اندھیرا چھا گیا، اس نے جائے وقوعہ پرپہنچ کر دیکھا تو ہارون بلور شدید زخمی حالت میں زمین پر پڑے تھے، ان کیساتھ درجنوں کارکن خون میں لت پت پڑے تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آتش بازی کے دوران خودکش حملہ آورہارون بلور کے قریب پہنچ گیا تھا۔