لاہور ( رپورٹ :عمران احسان ) جیو فلمز کے زیراہتمام فلم”طیفا ان ٹربل“ 20جولائی کو پاکستان سمیت دنیا کے 25ممالک میں نمائش کے لئے پیش کی جائیگی۔فلم کی پروموشن کرتے ہوئےگذشتہ روز علی ظفر نے میڈیا کو بتایا کہ یہ پاکستان کی پہلی فلم ہوگی جو 25ممالک میں ریلیز کی جائے گی ان ممالک میں روس، سنگار پور، فجی، زیمبیا ،یوگنڈاسمیت دیگر ان شامل ہیں۔ان میں بیشتر ایسے ممالک ہیں جہاں پہلی بار پاکستانی فلم کی نمائش ہوگی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایاسعودی عرب کے ساتھ ساتھ ترکی میں اسے جلد ہی ریلیز کیا جائے گا۔یہ پہلی پاکستانی فلم ہوگی جو پھٹے چک دے گی اور نئے ریکارڈ بنائے گی۔فلم کی موسیقی بہت پسند کی جارہی ہے۔ دو نوں گیتوں میں آئٹم نمبر نہیں کروں گی اور چن وے سب کویو ٹیوب پر کروڑوں لوگ دیکھ چکے ہیں۔فلم بنانی آنی چاہیے نہیں آتی تو اسے سیکھنا چاہیے، دنیا بھر میں فلم اکیڈمیز ہیں جہاں سےلوگ سیکھتے ہیں۔ امیتابھ بچن بھی ابھی تک کہتا ہے میں کام سیکھ رہا ہوں۔نیویارک میں اکیڈمی کیوں ہے ؟ الپاچینو اتنا بڑا ایکٹر ہو کر کیوں فلم کی کلاسز لے رہا ہے؟ وہ ابھی بھی سیکھ رہا ہے۔ بڑے غلام علی خان صاحب کا ایک واقعہ ہے کہ کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ موسیقی کے بارے میں بتائیے تو کہنے لگے کہ جب سمجھ آنی شروع ہوئی تو زندگی کا اختتام پر ہے۔عقل کل کوئی نہیں وہ اللہ تعالی کی ذات ہے اپنے کام سے آپ کو منوانا پڑے گا۔انھوں نے کہا پاکستانی سینما انڈسٹری اپنے قدموں پر کھڑی ہورہی ہے جب تک ہم جدید ٹیکنالوجی پر فلم نہیں بنائیں گے اس کی پذیرائی نہیں ہوسکتی ہے۔ فلم اچھی ہوگی تو بزنس بھی اچھا کرے گی اور کوئی بھی سینما اسے مقررہ وقت سے پہلے نہیں اتارے گا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی پراڈکٹ کو مضبوط کریں ۔ہماری فلم بھی سو کروڑ کا بزنس کرسکتی ہے۔ ہمارے یہاںفلم کی ٹکٹ زیادہ ہے اس وجہ ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں عام فلم بین فلم دیکھنے سے محروم رہ جاتاہے سینماؤں میں ان کے لئے سپیشل شوز چلانے چاہیں۔ فلم کے ٹکٹ کی قیمت اتنی ہونی چاہیے کہ وہ عام آدمی کی پہنچ میں ہو حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ فلم انڈسٹری پر تفریحی ٹیکس ختم کرے تاکہ لوگوں کو تفریح کے مزید مواقع مل سکیں۔اداکارہ مایا علی نے کہا کہ میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ میں پہلی فلم ہی علی ظفر کے ساتھ کروں گی۔ علی ظفر کے ساتھ کام کا تجربہ بہت ہی اچھا اور یادگار رہا۔جہاں بھی مشکل آئی انھوں نے اور ہدائیتکار نے بھرپور سپورٹ کی۔ فلم کی ریلیز سے پہلے ہی بہت اچھا رسپانس مل رہا ہے۔ فلم بینوں کو چاہیے کہ وہ اپنی فلموں کی بھی سپورٹ کریں اور یہ نہ سوچیں کہ فلم لاہور کی ہے یا کراچی کی ،بلکہ یہ کہیں کہ یہ پاکستان کی فلم ہے۔اداکارنیئر اعجاز نے کہا کہ پنجاب نہیں جاؤں گی جوانی پھر نہیں آنی نامعلوم افراد، مہرالنساءوی لب یو، نے اچھا بزنس کیا۔سینما والے بزنس کرتے ہیں فلم اچھی ہوگی تو لوگ جائیں گے اور اسے دیکھیں گے۔سینما والوں کو چاہیے کہ ایک شو سستی ٹکٹ پر عام آدمیوں کے لیے مقرر کردیں۔اس سے ہم اس فلم بین کو بھی فلم کی طرف لے آئیں گے جو اس سے دور چلا گیا ہے۔عام آدمی جو ماضی میں فلم سپرہٹ کراتا تھا آج نہیں ہے کیونکہ وہ اتنی مہنگی ٹکٹ نہیں خریدسکتا جبکہ دوسری طرف سینما والے تو اسے بزنس سمجھ کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ابھی تک لوگوں کو ٹی وی اور فلم کا فرق سمجھ نہیں آرہا اس سے نکل نہیں پا رہے، فلم میں گانا ہوتا ہے فلم کا گانا پکچرائز ہوتا ہے اس کو اچھے طریقے سے پکچرائز کرنا سیکھ لیں تاکہ فلم میں وہ اچھا لگے۔ہمیں اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کو درست کر نے کی ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا کہ جب ہم لاہور میں”طیفا ان ٹربل“ کی شوٹنگ کر رہے تھے کہ فلم کا وہ امیج نہیں آرہا تھا جس پر بنکاک سے ایک ماہر شخص کو بلایا اور فلم کی شو ٹنگ مکمل کی جس پروہ امیج بن گیا جو چاہے تھا۔اسکرین خوبصورت ہوگئی۔معذرت کے ساتھ ہماری فلم کا میوزک کا شعبہ بہت کمزور ہے اس جو بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ ابھی تک فلم نہیں بنا پارہے جو بن گئی وہ ہٹ ہوگئی۔ہمیں گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ مقابلے کے لئے تیار ہونا ہے۔سیمی راحیل نے کہا کہ وہ فلم بنائی جائے جو سینما سے اتر نہ سکے۔جو ملٹی پلیکس لگا رہا ہے اس نے پیسہ کمانا ہے سینما وہ فلم لگائے گا جس سے اس کو فائدہ ہوگا نقصان والا کام کیوں کرے گا۔ فوکس کریں آپ نے ایسی فلم کیسے بنانی ہے جو اتر نہ سکے ۔ سیمی راحیل نے کہا کہ سینما انڈسٹری میں ایک انقلاب آگیا ہے پاکستان میں سو سے زائد سنیما ہال موجود ہیں۔جہاں فلمیں لگائی جاتی ہیںلیکن ہمیں مزید سینماگھروںکی ضرورت ہے ۔فلم ”میں ہوں شاہد آفریدی“ کی ریلیز سے پہلے سیا لکو ٹ میں سینما نہیں تھا لیکن اس کے بعد وہاں کئی سینماگھر بنا ئے گئے ہیں اور یہ سب فلموں کی وجہ سے ہی ممکن ہے۔ پاکستانی سینماؤں کے معاملے کو اسی طرح گرم رکھا جائے اس کے حوالے سے اچھی ڈسکشن ہوتی رہنی چاہئے۔عوام کو فلم دکھانے کے انتظامات ہونے چاہیں ۔ پشاور میں پشتو فلم ریلیز ہوتی ہے اردو یا پنجابی فلم اب ریلیز نہیں ہوتی وہاں پر پاکستانی فلم ریلیز کی جائے ۔پشتو فلم انٹرنیشنل لیول پر ریلیز ہورہی ہے ۔ جو کہ اچھی بات ہے۔