• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اقلیت کی طاقت

آج سےدوروز بعد مُلک میںعام انتخابات ہو رہے ہیں۔ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نئے ہزاریے کے آغاز کے بعد یہ پاکستان کے سب سے جارحانہ، سنسنی خیز اور ہیجان انگیز الیکشنز ہوں گے۔ اس موقعے پر نہ صرف مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابی قواعد و ضوابط کی دھجیاں اُڑائے جانے کی خبریں عام ہیں، بلکہ بے جا ادارہ جاتی حمایت اور مداخلت کے الزمات بھی عروج پر ہیں ، جس کے سبب پاکستان کی نازک جمہوری ساکھ کے لیے لازمی انتخابی عمل بے یقینی کی لپیٹ میں ہے۔ بہرکیف،مُلک کے سیاسی میدان میں یکے بعد دیگرے رُونما ہونے والی ڈرامائی تبدیلیوں کے دوران ہی ایسے اعداد و شمار سامنے آئے کہ جنہوں نے پاکستان کے عام انتخابات میں دِل چسپی رکھنے والے خطّے اوردُنیا کے دیگر ممالک کے ذرایع ابلاغ کی توجّہ بھی اپنی جانب مبذول کروا لی۔ 

رواںبرس مئی کے آخر میںالیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جب رائے دہندگان سے متعلق معلومات جاری کی گئیں، تو اس دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ گزشتہ الیکشن کے مقابلے میں 2018ء میںغیر مسلم یا اقلیتی ووٹرز کی تعداد میں 30فی صد اضافہ ہوا ہے۔ ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت پاکستان میں 30لاکھ 63ہزار غیر مسلم رائے دہندگان ہیں، جب کہ 2013ء کے عام انتخابات کے لیے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد20لاکھ 77ہزار تھی۔ گرچہ 2013ء کی طرح 2018ء میں بھی ہندو ووٹرز کو دیگر اقلیتی رائے دہندگان پر برتری حاصل ہے، لیکن یہ 2013ء کی طرح دوسرے غیر مسلم ووٹرز پر اپنی سبقت برقرار نہ رکھ پائے کہ تب ہندو ووٹرز کی تعداد اقلیتی رائے دہندگان کی مجموعی تعداد کا نصف تھی۔ 

اقلیت کی طاقت

2013ء کے انتخابات میں ہندو ووٹرز کی تعداد 10لاکھ 40ہزار، جب کہ دیگر اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے رائے دہندگان کی مجموعی تعداد 20لاکھ 77ہزار تھی، جب کہ اس وقت ہندو ووٹرز کی تعداد 10لاکھ 77ہزار ہے اور ان کی بڑی تعداد صوبۂ سندھ میں مقیم ہے، جہاں صرف دو اضلاع میں 40فی صد ہندو رائے دہندگان بستے ہیں۔ دِل چسپ بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی دستاویز میں یہودی ووٹرز کا کوئی ذکر نہیں، حالاں کہ 2013ء کی انتخابی فہرستوں میں 809یہودی ووٹرز بھی شامل تھے، جن میں سے 427خواتین اور 382مَرد تھے۔ 

10لاکھ 64ہزار کی تعداد کے ساتھ عیسائی ووٹرز دوسرا بڑا اقلیتی گروہ ہیں اور ان میں سے کم و بیش 10لاکھ صوبۂ پنجاب میں رہتے ہیں۔ ہندو ووٹرز کی نسبت عیسائی رائے دہندگان کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے کہ 2013ء کے عام انتخابات سے قبل مسیحی ووٹرز کی تعداد 10لاکھ 23ہزار تھی۔ اقلیتوں میں شامل قادیانی ووٹرز کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 67ہزار 505ہے۔ ان میں سے زیادہ تر پنجاب، سندھ اور اسلام آباد میں مقیم ہیں، جب کہ 2013ء میں قادیانی ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 15ہزار 966تھی۔ اسی طرح کُل 8ہزار 852سِکھ ووٹرز میں سے زیادہ تر خیبر پختون خوا میں بستے ہیں اور اس کے بعد سندھ اور پنجاب کا نمبر آتا ہے، جب کہ حال ہی میں خیبرپختون خوا میں شامل ہونے والے قبائلی علاقوں میں رہائش پزیر سِکھ رائے دہندگان کی تعداد بلوچستان اور اسلام آباد میں بسنے والے سِکھ ووٹرز کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔ گزشتہ عام انتخابات میں اس اقلیتی گروہ سے تعلق رکھنے والے رائے دہندگان کی تعداد 5ہزار 934تھی۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، پارسی ووٹرز کی تعداد 2013ء میں 3ہزار 650سے بڑھ کر 4ہزار 235ہو گئی ہے اور ان کی اکثریت سندھ اور خیبر پختون خوا میں مقیم ہے۔ بودھ مَت رائے دہندگان کی تعداد 2013ء میں ایک ہزار 452سے بڑھ کر ایک ہزار 884تک جا پہنچی ہے اور بیش تر بُدھسٹ سندھ اور پنجاب میں رہائش پزیر ہیں۔ انتخابی فہرستوں میں بہائی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے مجموعی طور پر31ہزار 543ووٹرز موجود ہیں۔

اقلیت کی طاقت

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کی گئی امیدواروں کی حتمی فہرست کے مطابق، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی کُل 849نشستوں پر کاغذاتِ نام زدگی جمع کروانے والے 21ہزار 482امیدواروں میں سے 11ہزار 855امیدوار 25جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں حصّہ لیں گے۔ ان میں سے 6ہزار سے زاید آزاد امیدوار ہیں، جب کہ مختلف سیاسی جماعتوں نے 5ہزار 500سے زاید امیدواروں کو ٹکٹس دیے ہیں۔ پاکستان تحریکِ انصاف کے امیدواروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اس جماعت نے 769امید واروں کو ٹکٹس جاری کیے ہیں۔ پی ٹی آئی کے بعد سب سے زیادہ امیدوار کھڑے کرنے والی دوسری بڑی جماعت، پاکستان پیپلزپارٹی ہے، جس کے 642امیدوار انتخابات میں حصّہ لے رہے ہیں، جب کہ پاکستان مسلم لیگ (نون)کے امید واروں کی تعداد 639ہے۔ متحدہ مجلسِ عمل نے 583،اللہ اکبر تحریک نے240، تحریکِ لبّیک پاکستان نے556،تحریکِ لبّیک اسلام نے ایک سو،جمعیت علمائے اسلام (نظریاتی) نے25،جمعیت علمائے پاکستان(نورانی) نے بھی 25اور جمعیت علمائے(سمیع الحق) نے 26امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ دِل چسپ بات یہ ہے کہ پاک سرزمین پارٹی نے متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) سے بھی زیادہ امیدوار وں کو ٹکٹس جاری کیے ہیں۔پی ایس پی نے 148امیدوارانتخابی اکھاڑے میں اُتارے ہیں، جب کہ ایم کیو ایم (پاکستان) کے امیدواروںکی تعداد94ہے۔قومی اسمبلی کی272جنرل نشستوںپہ مجموعی طورپر3ہزار459امیدوارمدِمقابل ہیں،جن میں سے 1623پنجاب، 824سندھ، 725خیبر پختون خوا اور287بلوچستان سے حصّہ لے رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق، چاروںصوبائی اسمبلیوں کی کُل 577جنرل نشستوں پرمجموعی طورپر8ہزار396امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں ۔پنجاب اسمبلی کی 297جنر ل نشستوں کے لیےکُل 4ہزار36 امیدوارمیدان میں ہیں، جب کہ سندھ اسمبلی کی 130جنرل نشستوں پر2ہزار252امیدوار ایک دوسرے کے مدِ مقابل ہیں۔ خیبر پختون خوا اسمبلی کی 99جنرل نشستوں کے لیے ایک ہزار 165 اوربلوچستان اسمبلی کی51جنرل نشستوں کےلیے 943امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔ اگر ان اعدادو شمار کا 2013ء کے عام انتخابات میں حصّہ لینے والے امیدواروں کی تعداد سے موازنہ کیا جائے، تو حالیہ امیدواروں کی تعداد میں واضح کمی نظر آتی ہےکہ گزشتہ انتخابات میں امیدواروں کی مجموعی تعداد 15ہزار629تھی، جن میں سے 4ہزار671قومی اسمبلی اور 10ہزار 958صوبائی اسمبلیوں کے امیدوار تھے۔

اگر حالیہ انتخابات میں جنرل نشستوں پر حصّہ لینے والے غیر مسلم امیدواروں کی تعداد کا جائزہ لیا جائے، تو پتا چلتا ہے کہ قومی اسمبلی کے انتخابات میں 44اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں 113اقلیتی امیدوار حصّہ لے رہے ہیں۔ پنجاب اسمبلی کی جنرل نشستوں کے لیے مجموعی طور پر 4ہزار36امیدوار ہیں، جن میں 32غیر مسلم شامل ہیں۔ اس اعتبار سے پنجاب کی صوبائی نشستوں پر حصّہ لینے والے اقلیتی امیدواروں کا تناسب 0.79فی صد بنتا ہے۔ سندھ اسمبلی کی جنرل نشستوں کے لیے 2ہزار 252امیدوار مدِ مقابل ہیں، جن میں 39غیر مسلم شامل ہیں اور ان کا تناسب 1.73بنتا ہے۔ خیبر پختون خوا اسمبلی کی جنرل نشستوں کے لیے مجموعی طور پر ایک ہزار 165امیدوار ہیں، جن میں 20غیر مسلم شامل ہیں اور ان کی شرح 1.71فی صد بنتی ہے۔ بلوچستان اسمبلی کے لیے امیدواروں کی تعداد 943ہے، جن میں 22غیر مسلم شامل ہیں۔ اس صوبے میں غیر مسلم امیدواروں کا تناسب 2.3فی صد بنتا ہے، جب کہ قومی اسمبلی میں اقلیتوں کے لیے مختص 10نشستوں پر 44امیدوار میدان میں ہیں۔ گرچہ 2013ء کے عام انتخابات کے مقابلے میں حالیہ انتخابات میں اقلیتی ووٹرز کی تعداد میں 30فی صد اضافہ ہوا ہے، لیکن قومی اور صوبائی اسمبلیوں دونوں ہی میں گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں غیر مسلم امیدواروں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اگر عام انتخابات 2018ء کا گزشتہ انتخابات سے موازنہ کیا جائے، تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ قومی اسمبلی کے لیے غیر مسلم امیدواروں کی تعداد میں 38فی صد اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے اقلیتی امیدواروں کی تعداد میں 35.4فی صد کمی واقع ہوئی ہے۔ حالیہ انتخابات میں بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کی جنرل نشستوں پر 22غیر مسلم امیدوار ایک دوسرے کے مدِ مقابل ہیں، جب کہ گزشتہ انتخابات میں یہاں سے 37اقلیتی امیدوار مقابلے میں حصّہ لے رہے تھے۔ اسی طرح 2018ء میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختون خوا اسمبلی کی جنرل نشستوں کے لیے 20غیر مسلم امیدواروں کی منظوری دی ہے، جب کہ 2013ء میں 28اقلیتی امیدوار تھے۔ دوسری جانب گزشتہ عام انتخابات میں پنجاب اور سندھ کی صوبائی اسمبلیوںمیں براہِ راست منتخب ہونے کے لیے 55,55غیر مسلم امیدوار ایک دوسرے کے مدِ مقابل تھے، لیکن اس مرتبہ بالترتیب 32اور 39امیدوار انتخابات میں حصّہ لے رہے ہیں۔

تاہم،عام انتخابات 2018ء کی خاص بات یہ ہے کہ صوبۂ سندھ میں غیر مسلم امیدواروں کی ایک قابلِ ذکر تعداد مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے یا آزاد امیدوار کی حیثیت سے ’’بھاری بھرکم سیاست دانوں‘‘ کے خلاف میدان میں اُتر آئی ہے ۔سندھ بَھر سے پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (نون)، عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان تحریکِ انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) نےقومی و صوبائی اسمبلیوں کی جنرل نشستوں پر مجموعی طور پر 10غیر مسلم امیدواروں کو ٹکٹس جاری کیے ہیں، جب کہ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس سمیت دیگر جماعتوں نے بھی جنرل سیٹس پر اقلیتی امیدواروں کو اپنا امیدوار نام زد کیا ہے۔ تاہم، غیر مسلم امیدواروں کی بڑی تعداد آزاد حیثیت سے بھی اپنے حلقوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ’’ایلیکٹ ایبلز‘‘ کا مقابلہ کر رہی ہے۔ سندھ سے انتخابات میں حصّہ لینے والے غیر مسلم امیدواروں کی فہرست پر نظر ڈالی جائے، تو پتا چلتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (نون) کے صوبۂ سندھ کے اقلیتی وِنگ کے صدر، کیسومل کیئل داس این اے، 233،جام شورو سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار، سکندر علی راہو پوٹو اور سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے صدر، جلال محمود شاہ کے مدِ مقابل ہیں۔ کیئل داس کو اپنی پارٹی کی جانب سے اقلیتوں کے لیے مختص نشست کا ٹکٹ بھی دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے قبل کسی بھی اقلیتی نمایندے نے بالخصوص جام شورو کے علاقے، کوہستان میں جاگیر داروں کے خلاف انتخابات میں حصّہ لینے کی جرأت نہیں کی، جہاں با اثر افراد اپنے مخالفین کو اغوا کر لیا کرتے تھے یا ان کے خلاف جھوٹے مقدّمات درج کروا دیا کرتے تھے اور انہوں نے علاقے کی معروف شخصیات کے خلاف الیکشن میں حصّہ لے کر اس جمود کو توڑنے کی کوشش کی ہے۔ کیئل داس کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ (نون) نے این اے، 220،عُمر کوٹ سے نیلم والجی نامی ہندو خاتون کو ٹکٹ دیا ہے۔ اس حلقے میں اُن کا مقابلہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار، نواب یوسف تالپور، پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین، شاہ محمود قریشی اور آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن میں حصّہ لینے والے سابق وزیرِ اعلیٰ سندھ، ارباب غلام رحیم سے ہو گا، جب کہ اسی ضلعے کے حلقے، پی ایس،51سے مریم بائی نامی ہندو خاتون پی ایم ایل (ن) کی امیدوار کے طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کے گزشتہ دَورِ حکومت میں وزیرِ ثقافت کے طور پر خدمات انجام دینے والے پی پی کے امیدوار، سیّد سردار علی شاہ کےمدِ مقابل ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق، این اے، 236،ملیر سے متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کے امیدوار، دیوان چند چائولہ پی پی کے جام عبدالکریم بجار اور پاک سرزمین پارٹی کے امیدوار، اشفاق احمد منگی کے خلاف الیکشن میں حصّہ لے رہے ہیں۔ اسی طرح ایم کیو ایم (پاکستان) کے ایک اور ہندو امیدوار، سنجے پروانی این اے، 218، میر پور خاص سے پاکستان پیپلز پارٹی کے پیر حسن علی شاہ کے خلاف الیکشن لڑ رہے ہیں، جو پیر آفتاب حسین شاہ جیلانی کے صاحب زادے ہیں، جب کہ اسی حلقے میں ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے رُوپ چند آزاد امیدوار کے طور پر قومی اسمبلی کے امیدوار ہیں۔ گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس نے این اے، 216، سانگھڑ سے کِشن چند پروانی کو ٹکٹ دیا ہے، جہاں اُن کا مقابلہ پی پی کی خاتون رہنما، شازیہ مری سے ہو گا، جب کہ ضلع مٹیاری کے حلقے، این اے،223میں پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار، مخدوم جمیل الزّماں کو پاکستان مسلم لیگ (نون) سے پاکستان تحریکِ انصاف میں شامل ہونے والے ڈاکٹر رمیش کُمار وانکوانی کی صورت میں چیلنج در پیش ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی نے کراچی کے علاقے، نارتھ ناظم آباد سے تعلق رکھنے والی اپنی دیرینہ عیسائی کارکُن، صوفیہ یعقوب کو قومی اسمبلی کے حلقے، این اے، 256سے ٹکٹ دیا ہے۔ صوفیہ کے شوہر، یعقوب ایک مقامی چرچ میں پادری ہیں۔ پاپوش نگر، نصرت بُھٹّو کالونی، سخی حسن اور حسین ڈی سلوا ٹائون پر مشتمل اس حلقے میں ان کا مقابلہ ایم کیو ایم (پاکستان) کے امیدوار، عامر چشتی، پی ٹی آئی کے محمد نجیب ہارون اور متحدہ مجلسِ عمل کے امیدوار، ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی سے ہو گا۔ ضلع تھر پارکر میں نچلی ذاتوں سے تعلق رکھنے والے متعدد ہندو مَرد و خواتین نے مسلمان اور اونچی ذاتوں سے تعلق رکھنے والے غیر مسلم امیدواروں کے خلاف الیکشن میں حصّہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایسی ہی ایک امید وار تُلچھی بائی بھی ہیں، جو تھر پارکر کے حلقے، این اے، 222سے اونچی ذات کے ہندو اور پی پی کے امیدوار، مہیش کُمار ملانی کے خلاف آزاد امید وار کی حیثیت سے حصّہ لے رہی ہیں، جب کہ اسی حلقے سے کنور کُمار اور گیان چند نامی دو مزید ہندو جیپ اور سورج مُکھی کے پُھول کے انتخابی نشان پر آزاد امیدوار کی حیثیت سے حصّہ لے رہے ہیں۔ تھر پارکر ہی کی رہائشی سُنیتا پرمار میگھواڑنامی دَلِت خاتون نے صوبائی اسمبلی کے حلقے، پی ایس 56سے آزاد امیدوار کے طور پر حصّہ لے کر مقامی جاگیر دارانہ انتخابی نظام کو دھچکا لگانے کی کوشش کی ہے، جب کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے فراہم کی گئی امیدواروں کی حتمی فہرستوں سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ کشمور کے حلقے، این اے، 197سے راج کُمار اور نریش کُمار پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار، احسان الرحمٰن مزاری کے خلاف انتخابات میں حصّہ لے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں، ویرو لال نامی آزاد امیدوار نے خیر پور میرس کے حلقے، این اے، 208سے پاکستان پیپلز پارٹی کی امیدوار، نفیسہ شاہ اور سندھ کے سابق وزیرِ اعلیٰ، غوث علی شاہ کے خلاف کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا ہے، جب کہ کراچی کے حلقے، این اے، 247سے راج کُمار آزاد امیدوار کی حیثیت پی پی کے عزیز میمن، پی ایس پی کی فوزیہ قصوری، پاکستان تحریکِ انصاف کے عارف علوی اور ایم کیو ایم (پاکستان) کے امیدوار، فاروق ستّار کے خلاف انتخابات میں حصّہ لے رہے ہیں۔اگر سندھ کے علاوہ مُلک کے دیگر صوبوں کی بات کی جائے، تو خیبر پختون خوا کی سِکھ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے اقلیتی امیدوار رادیش سنگھ نے صوبائی حلقے، پی کے، 75سے کھڑے ہو کر مُلکی اور غیر ملکی ذرایع ابلاغ کی توجّہ حاصل کرلی ہے۔

پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروںاور شخصیات کا ماننا ہے کہ غیر مسلم ووٹرز کی رجسٹریشن میں اضافے کا سبب نوجوانوں کی آبادی میں بڑھوتری ہو سکتا ہے، لیکن قابلِ ذکر اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ غیر رجسٹرڈ اقلیتی ووٹرز بھی انتخابی عمل میں شامل ہو رہے ہیں۔ ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے سرگرم افراد اس ضمن میں اندرونِ سندھ کے اضلاع، عُمر کوٹ اور تھر پارکر کی مثال پیش کرتے ہیں کہ جہاں سیاسی جماعتوں، بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی اور مقامی آبادی نے رجسٹریشن میں اضافے کے لیے خاصی تگ و دو کی۔ تاہم، ہندو برادری کے سرکردہ ارکان کا یہ بھی ماننا ہے کہ ووٹ دینے کے لیے اہل اقلیتوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، کیوں کہ مُلک کے صحرائی علاقوں میں کئی خانہ بدوش ہندو خاندان بستے ہیں، جو کہیں مستقل قیام نہیں کرتے، جس کی وجہ سے اُن کے ووٹ رجسٹرڈ نہیں۔یہاں یہ اَمر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اقلیتی ووٹرز کے علاوہ اکثریتی آبادی کےرائے دہندگان کی تعدادمیں بھی اضافہ ہوا ہے اور اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2013ء میں مُلک میں رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد 8کروڑ 61لاکھ تھی، جو 2018ء میں بڑھ کر 10کروڑ 59لاکھ ہو چُکی ہے۔ یاد رہے کہ رجسٹریشن میں اضافے کا تناسب آبادی میں اضافے کی شرح سے زیادہ ہے۔ دوسری جانب ٹیکنالوجی کے استعمال اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے طریقۂ کار میں بہتری بھی تبدیلی کے اس عمل کو تیز کر رہی ہے، جب کہ 2013ء میں پاکستان تحریکِ انصاف کی مقبولیت سے بھی انتخابی عمل میں اقلیتی ووٹرز کی دِل چسپی بڑھی ہے۔ پاکستان کی سیاسی حرکیات پر نظر رکھنے والے بعض ماہرین کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ اگر غیر مسلم رائے دہندگان یومِ رائے دہی پر اپنے ووٹ کاسٹ کریں، تو یہ بعض حلقوں کے نتائج میں تبدیلی کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ پاکستان کا قانون اقلیتوں کو ایک ووٹ، لیکن دُہری نمایندگی کی اجازت دیتا ہے۔ یعنی غیر مسلم نہ صرف تمام حلقوں میں انتخابی امیدواروں کو ووٹ دے سکتے ہیں، بلکہ اس کے ساتھ ہی یہ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں 10،10مخصوص نشستیں بھی حاصل کر سکتے ہیں۔یعنی اگر کوئی سیاسی جماعت قومی اسمبلی میں 27.2نشستیں حاصل کرنے میں کام یاب ہو جاتی ہے، تو وہ ایوانِ زیریں کے لیے اپنے ایک اقلیتی رُکن کا انتخاب کر سکتی ہے۔ تاہم، پاکستان میں مقیم غیر مسلموں کا کافی عرصے سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ انہیں اپنے اقلیتی ارکان کے لیے ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے اور انہیں چُننے کی بہ جائے ووٹ کے ذریعے منتخب کیا جائے، تاکہ وہ اپنی جماعتوں کے زیرِ بارِ احسان رہنے کی بہ جائے اپنی اپنی برادریوں کی ضروریات کے حوالے سے مقامی طور پرزیادہ جواب دہ ہوں۔بہرحال،اقلیتی ووٹرز کی تعداد میں اضافہ اس اعتبار سے خوش آیند ہے کہ پاکستان میں غیر مسلموں کو انتہا پسندی کی صورت دبائو کا سامنا ہے۔

اب ہم 1970ء سے لے کر 2013ء تک کے عام انتخابات میں اقلیتوں کے کردار پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ 1970ء کے انتخابات کا سائنسی تجزیہ کرنے والے پروفیسر ڈاکٹر کریگ باکسٹر اور ڈاکٹر فلپ ای جونز کے مطابق، ان انتخابات کے دوران سیال کوٹ کے حلقے، این ڈبلیو 75میں پی پی کے امیدوار، کوثر نیازی نے اپنی جماعت کے لیے قادیانی ووٹرز کی توجّہ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ ان انتخابات میں وہ مسلم لیگ ا ور بعض مذہبی جماعتوں کے مستند امیدواروں کے مدِ مقابل تھے۔نتیجتاً، اس حلقے سے کوثر نیازی نے 90ہزار ووٹ حاصل کیے، جو پورے پنجاب میں کسی امیدوار کو ملنے والے سب سے زیادہ ووٹ تھے۔ مذکورہ دونوں ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ 1970ء کے عام انتخابات میں سندھ و پنجاب کے عیسائی اور ہندو ووٹرز نے پاکستان پیپلز پارٹی کے ترقّی پسندانہ منشور کی وجہ سے اسے ووٹ دیے۔ تاہم، فلپ ای جونز کا مزید کہنا ہے کہ ’’عیسائی اشرافیہ‘‘ نے قومیانے پر اصرار کی وجہ سے پی پی کے منشور کی مخالفت کرتے ہوئے مسلم لیگ (کونشن) کو ووٹ دیے ۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ غیر منقسم ہندوستان میں بیش تر مسیحی گروہوں نے مسلم لیگ کی حمایت کی تھی۔ ڈاکٹر منیر الانجم اور ڈاکٹر شہناز طارق کی تحریر کردہ تفصیلی دستاویز میں درج ہے کہ پنجاب کی ایک بڑی مسیحی تنظیم، آل انڈیا کرسچین ایسوسی ایشن نے کس طرح قائد اعظم کی الگ وطن کی پکار پر لبّیک کہا۔ علاوہ ازیں، 23جون 1947ء کو جب پنجاب کو پاکستان کا حصّہ بنانے کی قرار داد پیش کی گئی، تو پنجاب اسمبلی کے تمام مسیحی ارکان نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ایک اور غیر مُلکی مصنّفہ، لِنڈا وال بِرج اپنی کتاب،’’ کرسچین آف پاکستان‘‘ میں لکھتی ہیں کہ بُھٹّو کے دَورِ حکومت میں عیسائیوں کی جانب سے چلائے جانے والے تعلیمی اداروں کو قومیانے کے سبب 1977ء کے انتخابات تک پی پی بڑی حد تک مسیحی ووٹ کھو چُکی تھی۔ 1985ء میں ضیاء الحق نے اپنے دَورِ حکومت میں غیر مسلموں کے لیے جداگانہ انتخابی نظام متعارف کروایا، جس کے تحت تمام اقلیتی گروہ صرف اپنے مذہب سے تعلق رکھنے والے امیدواروں ہی کو ووٹ دے سکتے تھے۔یہ سلسلہ 1988ء، 1990ء، 1993ء اور 1997ء میں بھی برقرار رہا اور اس عرصے کے دوران اقتدار میں آنے والی جماعتوں، پی پی اور پی ایم ایل (این) نے بھی یہ نظام تبدیل نہیں کیا اور جب تک یہ سلسلہ جاری رہا، سیاسی جماعتیں مسلم امیدواروں کو اقلیتی ووٹرز کا ووٹ نہ ملنے کے سبب غیر مسلموں کے مفادات کو نظر انداز کرتی رہیں۔ بالآخر پرویز مشرّف کے دَورِ حکومت میں اس نظام کا خاتمہ ہوا اور مشترکہ رائے دہندگان کا سلسلہ دوبارہ متعارف کروایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ 2002ء کے عام انتخابات میں غیر مسلم ووٹرز پی پی اور پی ایم ایل (این) دونوں ہی سے ناخوش تھے۔ 2002ء کے عام انتخابات سے متعلق اپنے تجزیے میں کریگ باکسٹر نے لکھا کہ پنجاب میں عیسائیوں اور ہندوئوں کی اکثریت نے مشرّف کی حمایت یافتہ، پاکستان مسلم لیگ (قاف) کو ووٹ دیے، جب کہ سندھ میں گرچہ پی پی اکثر ہندو ووٹ حاصل کرنے میں کام یاب رہی، لیکن صوبے کے شہری علاقوں میں زیادہ تر ہندو ووٹ یا تو مشرّف کی حمایت یافتہ جماعتوں یا پھر ایم کیو ایم کو پڑے، جس نے کراچی سے بڑی تعداد میں ہندو اور مسیحی ووٹ حاصل کیے۔ 2008ء کے انتخابات میں پی پی پی اور پی ایم ایل (این) ایک بار پھر اقلیتی ووٹ حاصل کرنے میں کام یاب ہوئیں۔ ان انتخابات میں پنجاب میں ہندو اور مسیحی ووٹ پی پی اور پی ایم ایل (این) کے درمیان تقسیم ہو گیا۔ کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر علاقوں میں ہندوئوں کی بڑی تعداد نے پی پی کو ووٹ دیا، جہاں ہندوئوں کی اکثریت نے ایک بار پھر ایم کیو ایم کی حمایت میں ووٹ ڈالے۔ 2013ء کے عام انتخابات سے قبل پنجاب اور سندھ کے96قومی و صوبائی حلقوں میںامیدواروں کی قسمت کا فیصلہ اقلیتی ووٹرز نے کرنا تھا۔ اگر ان حلقوں کے حتمی نتائج کا جائزہ لیا جائے، تو پتا چلتا ہے کہ 2013ء میں پنجاب میں بیش تر ہندو، عیسائی اور سِکھ ووٹ پاکستان مسلم لیگ (نون) کو پڑے ، جب کہ سندھ میں ہندو کمیونٹی نے پاکستان پیپلزپارٹی کے حق میں ووٹ دیے۔ تاہم، 2008ء کے مقابلے میں ان کی تعداد کم تھی۔ اطلاعات کے مطابق، 2013ء کے عام انتخابات میں کراچی میں عمران خان کی جماعت، پاکستان تحریکِ انصاف نے بیش تر مسیحی ووٹ حاصل کیے اور ماضی کی نسبت ہندو اکثریتی علاقوں میں ایم کیو ایم کو پی ٹی آئی کی صورت سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑا۔ بلوچستان میں بیش تر ہندو ووٹرز نے بلوچ قوم پرست جماعتوں کو ووٹ دیے، جب کہ خیبر پختون خوا میں اقلیتی باشندوں کی اکثریت نے پاکستان تحریکِ انصاف کی حمایت کی۔ ایک ایسے وقت میں کہ جب مرکزی دھارے کی جماعتوں کے لیے اقلیتی ووٹرز کے ووٹ بینک میں اضافہ ہو رہا ہے، قادیانی کمیونٹی نے 1974ء میں دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیے جانے کے بعد سے ایک برادری کی حیثیت سے ووٹ کاسٹ نہیں کیا اور انتخابات کا بائیکاٹ کر تی آرہی ہے۔ اس وقت مُلک میں رجسٹرڈ قادیانی ووٹرز کی تعداد سوا لاکھ کے لگ بھگ ہے، جن میں سے زیادہ تر پنجاب میں مقیم ہیں۔ 2013ء کے انتخابات سے قبل پی ٹی آئی کے چیئرمین، عمران خان نے قادیانی کمیونٹی سے متعلق ہم دردی پر مشتمل بیانات دے کر قادیانی ووٹ بینک حاصل کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن اس موقعے پر مذہبی جماعتوں کی جانب سے اُن پر اس قدر تنقید کی گئی کہ انہیں اپنے بعض پارٹی ارکان کے کہنے پر اپنے بیانات واپس لینا پڑے۔

نمایندگی نہیں، تو نگرانی ہی سہی…

فنڈز کی کمی ،نازیبا رویّے کے سبب بیش تر خواجہ سرا میدواردست بردار،نجی تنظیم کو خدمات پیش کردیں

ان دِنوں پاکستان میں خواجہ سرائوں کو چھتری فراہم کرنے کے لیے ’’ٹرانس جینڈرز‘‘ یا ’’ٹی جِیز‘‘کی اصطلاح عام ہے کہ اس تیسری جنس نے اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے ایک طویل جنگ لڑی ہے۔ پاکستان میں موجود دَورِ جدید کے متعدد خواجہ سرائوں کا دعویٰ ہے کہ وہ اُن ہیجڑوں کے جانشین ہیں، جو برِصغیر پر سیکڑوں برس حُکم رانی کرنے والے مغل شہنشاہوں کے دربار میں پَھلے پُھولے اور 19ویں صدی میں انگریزوں نے ان پر پابندی عاید کر دی۔ 2009ء میں پاکستان تیسری جنس کو قانونی طور پر تسلیم کرنے اور انہیں قومی شناختی کارڈ حاصل کرنے کی اجازت دینے والے ممالک کی صف میں شامل ہوا اور ماضی میں کئی خواجہ سرا انتخابات میں بھی حصّہ لے چُکے ہیں۔ اس سال پارلیمنٹ نے ایک تاریخی بِل منظور کیا، جس میں خواجہ سرائوں کو سرکاری دستاویزات میں اپنی جنس کا تعیّن کرنے اور دونوں جنسوں کے مرکّب کے انتخاب کا حق دیا گیا۔ تاہم، 25جولائی کا دِن اس کمیونٹی کے لیے اس اعتبار سے تاریخی ہو گا کہ حُکّام نے امیدواروں کے لیے صنف کے معیار کو ختم کر دیا ہے۔ خواجہ سرائوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم، ٹرانز ایکشن کے مطابق، پاکستان میں تیسری جنس سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد 5سے 20لاکھ تک ہے، جب کہ مُلک بَھر سے 17خواجہ سرائوں نے حالیہ عام انتخابات میں حصّہ لینے کا فیصلہ کیا تھا، جن میں سے 12امید وار فنڈز کی کمی اور شہریوں کے نازیبا رویّے سے مایوس ہو کر دست بردار ہو چُکے ہیں۔

اقلیت کی طاقت

باقی امیدوار سوشل میڈیا اور کارنر میٹنگز کے ذریعے اپنی انتخابی مُہم چلا رہے ہیں۔ خواجہ سرا امیدواروں میں اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی نیلم کشش اور پنجاب سے تعلق رکھنے والی لبنیٰ لال بھی شامل ہیں۔ گرچہ یہ امیدوار اپنی انتخابی مُہم چلانے میں مصروف ہیں، لیکن انہوں نےبھی یہ کہہ کراس مسئلے کی نشان دہی کی کہ ’’ جب ہمارے خاندان ہی نے ہمیں قبول نہیں کیا، تو معاشرہ بھی کیوں تسلیم کرے گا۔‘‘تاہم، عام انتخابات2018ء میں خواجہ سراؤں کو نمایندگی دینے کے لیے ایک غیر سرکاری تنظیم ،ٹرسٹ فار ڈیمو کریٹک ایجوکیشن اینڈ اکاؤنٹیبیلٹی نے انہیں انتخابات کی نگرانی کا موقع فراہم کیا ہے۔ اس بارے میں تنظیم کے پراجیکٹ منیجر، زاہد عبداللہ کا کہنا ہے کہ کُل 375ارکان تمام تر انتخابی عمل کا جائزہ لیں گے جن میں 125خواجہ سرا، 125جسمانی طور پر معذور افراد اور 125خواتین شامل ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ سے 25,25ارکان یہ کام سرانجام دیں گے۔ ان ارکان کو الیکشن کمیشن کی جانب سے کارڈز فراہم کیے جائیں گے، تاکہ یہ بہ ذاتِ خود ہر پولنگ اسٹیشن میں جا کر جائزہ لے سکیں۔یہ ارکان ووٹنگ کے روز صبح 8بجے پولنگ اسٹیشنز پر پہنچیں گے اور وہاں موجود پریزائڈنگ آفیسر کا انٹرویو کریں گے۔اس کے علاوہ وہاں خواجہ سراؤں، خواتین اور جسمانی طور پر معذور افراد کے لیے دست یاب سہولتوں کا جائزہ بھی لیں گے۔بعدازاں ، یہ ارکان تمام تر معلومات سے اپنے ادارے کو آگاہ کریں گے، جو اس حوالے سے الیکشن کمیشن کورپورٹ دے گا۔

تازہ ترین