آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محمد نوید اسلم

انسانی آواز سے پیدا کی جانے والی موسیقی یا غناء کو گلوکاری کہا جاسکتا ہے۔ گلوکار اپنے فن گلوکاری سے گیت، گانے، نغمے وغیرہ جیسے گلوکاری فنون کا مظاہرہ کرتا ہے۔ گلوکاری کی سنگت میں موسیقی کا ہونا ضروری ہے۔ فن موسیقی کے اجزا’’سر‘‘، ’’تال‘‘ کے سہارے موسیقی سازوں کے ساتھ نغمہ بنتا ہے۔ جلوہ کاری، بعید نمائی، فلم اور دوسرے قصہ گوئی وسائل میں ایک اداکار یا اداکارہ جو کسی کردار کی نقشہ کشی اور عموماً کھیل یا لکھے ہوئے متن کو بولتے یا گاتے ہوئے کہانی بیان کرتا ہے، فنکار کہلاتا ہے۔ انڈسٹری چاہے لالی وڈ کی ہو یا بالی وڈ، اداکاروں نے گلوکاری کے میدان میں بھی طبع آزمائی کی اور داد سمیٹی۔ ذیل میں ان کا تذکرہ کیا جارہا ہے۔ 

لالی وڈ میں عنایت حسین بھٹی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔

عنایت حسین بھٹی12 جنوری، 1928کو ضلع گجرات میں پیدا ہوئے۔ ان کی فلمی زندگی کا آغاز بطور گلوکار ہوا اور فلم ہیر، پھیرے، لارے اور شمی وغیرہ میں ان کے گائے ہوئے نغمات بے حد مقبول ہوئے۔1953 میں فلم شہری بابو میں ایک فقیر منش سائیں کا کردار ادا کیا جس پر انہی کا گایا ہوا نغمہ’’ بھاگاں والیو نام جپو مولا نام‘‘ فلم بند ہوا اور پھر یہی نغمہ ان کی شناخت بن گیا۔1955 میں شباب کیرانوی نے اپنی فلم ’’جلن ‘‘میں انہیں مرکزی کردار ادا کرنے کی پیشکش کی۔ اس کے بعد انہوں نے ایک طویل عرصہ تک فلموں میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ان کی بطور اداکار فلموں کی کل تعداد54 تھی جس میں52 فلمیں پنجابی زبان میں بنائی گئی تھیں۔ عنایت حسین بھٹی کی آخری فلم عشق روگ1989 میں نمائش پذیر ہوئی۔ عنایت حسین بھٹی وہ اداکار تھے جنہوں نے گلوکاری کے میدان میں بھی اپنے فن کا سکہ جمایا۔ انہوں نے زیادہ تر پنجابی فلموںمیں کام کیا۔ ان کے معروف گیتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ جن میں’’موہے جوڑے والئے‘‘، ’’بھاگاں والیو‘‘، ’’چن میرے مکھناں‘‘، ’’سدانہ ماں پے حسن جوانی‘‘ خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔ فلم ’’عشق لیلیٰ‘‘ میں عنایت حسین بھٹی نے ایک اردو گانا گایا جسے شاہکار سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بول تھے’’جگر چھلنی ہے دل گھبرا رہا ہے‘‘۔

اداکار ندیم نے بھی گلوکاری کی دنیا میں اپنا نام روشن کیا۔ ان کی پہلی فلم’’چکوری‘‘تھی جس میں ان کا گایا ہوا گیت ’’کہاں ہو تم کو ڈھونڈ رہی ہیں‘‘ بہت مقبول ہوا۔ ندیم کی مشہور فلموں میں ’’چکوری‘‘، ’’بازی‘‘، ’’پرنس‘‘، ’’قربانی‘‘، ’’پلے بوائے‘‘، ’’سنگدل‘‘، ’’شمع‘‘ اور ’’دل لگی‘‘ شامل ہیں۔

عطااللہ عیسیٰ خیلوی بھی ایک فلم ’’سانول‘‘ میں بطور اداکار نمودار ہوئے لیکن بات نہ بن سکی۔ موجودہ دورمیں علی ظفر اور عاطف اسلم نے اپنے آپ کو ایک اچھا گلوکار اور اداکار ثابت کیا ہے۔ علی ظفر کی قابل ذکر فلموں میں ’’چشم بددور‘‘، ’’ٹوٹل سیاپا‘‘ ’’لندن، پیرس، نیویارک‘‘اور‘‘طیفا ان ٹربل‘‘ شامل ہیں۔ ان کے مشہور گیتوں میں ’’چھنو کی آنکھ میں‘‘، ’’حقہ پانی‘‘ اور ’’مستی‘‘ شامل ہیں۔ عاطف اسلم نے فلموں میں اداکاری سے یہ ثابت کیا کہ وہ اچھے اداکار بن سکتے ہیں، ان کی حال ہی میں فلم’’طیفا ان ٹربل‘‘ شامل ہے۔ بطور گلوکار انہوں نے کئی خوبصورت گیت گائے جن میں ’’تیرا ہونے لگا ہوں‘‘ اور ’’جینے لگا ہوں‘‘شامل ہیں۔

بالی وڈ میں کے ایل سہگل نے اداکاری اورگلوکاری کے میدان میں طبع آزمائی کی۔ ان کی مشہور فلموں میں ’’دیوداس‘‘ اور ’’شاہ جہاں‘‘ شامل ہیں۔

کشور کمار نے بطور اداکار اور گلوکار بے مثال شہرت حاصل کی۔ کشور کمار نے کئی فلموں میں کام کیا جن میں ’’بھائی بھائی‘‘، ’’مسٹر ایکس ان بمبے‘‘، ’’نیو دہلی‘‘، ’’مسافر‘‘، ’’ہاف ٹکٹ‘‘ اور ’’چلتی کا نام گاڑی‘‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان کے لازوال گیتوں میں’’ چلتے چلتے‘‘، ’’میرے سپنوں کی رانی کب آئے گی تو‘‘، ’’مسافر ہوں یارو‘‘، ’’میرے نینا ساون بھادوں‘‘ اور ’’یہ جو محبت ہے یہ ان کا ہے کام‘‘ شامل ہیں۔

طلعت محمود نے بھی چند فلموں میں کام کیا لیکن انہیں ایک اوسط درجے کا اداکار کہا گیا۔ ان کی قابل ذکر فلموں میں ’’سونے کی چڑیا‘‘ اور’’ ایک گائوں کی کہانی‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے بے شمار خوبصورت گیت گائے۔ وہ ایک اعلیٰ درجے کے پلے بیک سنگر تھے۔ انہوں نے غزلیں بھی بہت اچھی گائیں۔ ان کے مشہور گیتوں میں ’’تصویر تیری دل میرا بہلا نہ سکے گی‘‘، ’’اے میرے دل کہیں اور چل‘‘، ’’اے غم دل کیا کروں‘‘، ’’جلتے ہیں جس کیلئے‘‘، ’’رات نے کیا کیا خواب دکھائے‘‘، ’’تصویر بناتا ہوں تصویر نہیں بنتی‘‘، ’’ہم درد کے ماروںکا اتنا ہی فسانہ ہے‘‘ اور ’’جھومے رے نیلا امبرجھومے‘‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

اداکاری کے ساتھ ساتھ گلوکاری کرنے والوں میں سب سے پہلا نام امیتابھ بچن کا آتا ہے۔ یہ وہ فنکار ہے جسے ایک زمانے میں ریڈیو آڈیشن میں یہ کہہ کر فیل کردیا گیا تھا کہ ان کی آواز میں کوئی دم نہیں۔ یہ بات شاید ان کے دل میں گھر کرگئی اور انہوں نے اپنے فن میں وہ مہارت پیدا کی کہ ناصرف ان کی مکالمہ ادائیگی دوسرے فنکاروں کے لئے ایک مثال بن گئی بلکہ انہوں نے اپنی آواز سے وہ جادو جگایا کہ لوگ ان سے اداکاری کے ساتھ ساتھ گلوکاری بھی کرانے لگے۔ امیتابھ نے ایک دو نہیں بلکہ ستائیس فلموں کے گانے اپنی آواز میں ریکارڈ کرائے۔ 1979ء میں دو فلموں ’’دی گریٹ گیمبلر‘‘اور ’’مسٹر نٹور لال‘‘میں امیتابھ نے جب اپنی بھاری آواز میں گیت گائے تو شائقین فلم نے ان کی اداکاری کی طرح ان کی صداکاری کو بھی بہت سراہا۔ ’’گریٹ گیمبلر‘‘ کی موسیقی راہول دیو برمن، جبکہ ’’مسٹر نٹور لال‘‘کی موسیقی راجیش روشن نے ترتیب دی تھی۔ فلم ’’مسٹر نٹور لال‘‘کے گیت ’’میرے پاس آ میرے دوستو ایک قصہ سنو‘‘ نے تو امیتابھ کے لئے گیتوں کی لائن لگا دی۔ فلم ’’لاوارث‘‘ میں ان کے گیت ’’میرے انگنے میں تمھارا کیا کام ہے‘‘نے کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کئے۔ اس کے علاوہ امیتابھ بچن نے فلم سلسلہ، مہان، پکار، شرابی، طوفان، جادوگر، میجر صاحب، کبھی خوشی کبھی غم میں بھی گانا گایا۔

عامر خان نے بھی گلوکاری کے میدان میں قدم رکھا۔ فلم’غلام‘‘میں بطور گلوگار عامر خان نے جب ’’آتی کیا کھنڈالا‘‘ گایا تو نوجوانوں کی زبانوں پر یہ گیت ایسا رچ بس گیا کہ اس گیت نے نوجوانوں کی عام بول چال کے حصے کی شکل اختیار کرلی۔ فلم ’’فنا‘‘ میں عامر نے کاجل، سونونگم اور سنیدھی چوہان کے ساتھ گیت ’’میرے ہاتھ میں‘‘گا کر شائقین کے دل جیت لئے۔ ان گیتوں کے بعد عامر کے گیت مقبولیت کی سند حاصل کرنے لگے اور انھوں نے بہت سی فلموں میں سولو گیت بھی گائے۔

نانا پاٹیکر کا شمار بھارت کے مقبول ترین اداکاروں میں ہوتاہے۔

نانا پاٹیکر بھی ایک ایسے ہی ورسٹائل فنکار ہیں، جنھیں جذباتی اداکاری میں ملکہ حاصل ہے۔ انہوں نے اپنی آواز اور موسیقی کے آلات کے ملاپ سے ایک ایسا گیت عوام کو دیا جسے عوامی ہی کہا جا سکتا ہے۔ ’’ایک مچھر‘‘جیسا گیت گا کر نانا نے اداکاری کے بعد سرتال کی دنیا میں بھی اپنے قدم انتہائی مضبوط کئے۔ اس کے بعد ایک اور گیت ’’جو ہوتا اس کو ہونے دے، جو روتا اس کو رونے دے‘‘ نے بھی خاصی مقبولیت حاصل کی۔

بالی وڈ اداکار رنبیر کپور نے اپنی اداکاری سے تو فلم بینوں کو اپنا دیوانہ بنایا ہی تھا مگر ایسا لگتا ہے کہ وہ بالی وڈ میں باقاعدہ گلوگار بننے کے لئے پر تول رہے ہیں۔ اپنی فلم ’’راک سٹار‘‘کی نمائش سے قبل فلم کی پروموشن کیلئے رنبیر کپور نے ممبئی میں کنسرٹ کیا تھا۔ اس کنسرٹ میں رنبیر کے ساتھ فلم کے ڈائریکٹر امتیاز علی اور موسیقار اے آر رحمان بھی شریک ہوئے۔ کنسرٹ میں گلوکاروں نے فلم ’’راک سٹار‘‘کے گانے گائے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں