آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’اللہ اللہ کر بھیا‘‘ وہ ملی نغمہ ہے، جس کی وجہ سے مجھے دنیا بھر میں شناخت ملی،محمد علی شہکی۔ میرا گایا ہوا قومی نغمہ ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ نوجوانوں میں بے حد مقبول ہوا،حسن جہانگیر۔میرے قومی نغمے ’’سلام پاکستان‘‘ کو بہت سراہا گیا، سلیم جاوید ۔’’اے سرزمین‘‘ وہ قومی گیت ہے، جس کی وجہ سے مجھے لندن اور پاکستان میں پہچان ملی، سائرہ پیٹر

تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے
راحت فتح علی خان

جب بھی 14؍اگست ، جشنِ آزادی کا موسم آتا ہے، گلی گلی، کوچے کوچے، شاہ راہوں پر ملی نغمے جدید سائونڈ سسٹم پر چلائے جاتے ہیں اور منچلے نوجوان ہاتھوں میں پاکستانی سبز ہلالی پرچم لے کر خوشی سے جھومتے نظر آتے ہیں۔ جشن آزادی کے رنگوں میں سب سے زیادہ حصہ گلوکاروں کا نظر آتا ہے۔ سوہنی دھرتی اللہ رکھے، تیرا پاکستان ہے، یہ میرا پاکستان ہے، دل دل پاکستان، جیوے جیوے پاکستان، اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں، ساتھیوں، مجاہدوں جاگ اٹھا ہے سارا وطن اور ایسے ہی دوسرے ملی اور قومی نغموں سے سارا وطن گونج اٹھتا ہے۔ قومی گیت گانے والوں کو شاذونادر ہی سرکاری سرپرستی حاصل ہوئی ہو ، وہ اپنی مدد آپ کے تحت اپنی آواز اور موسیقی کے ذریعے پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کرتے رہے ہیں۔ 2018ء میں بھی نئی نسل کے گلوکاروں نے وطن کی محبت میں کیے نئے نغمے تیار کیے ہیں اور وہ مختلف ٹی وی چینلز پر نشر کیے جارہے ہیں۔ فلموں میں بھی ملی نغموں نے بہت مقبولیت پائی، لیکن غیر فلمی قومی نغموں نے سب سے زیادہ نوجوانوں کے دلوں کو چُھوا۔ جُنید جمشید مرحوم کا گایا ہوا نغمہ ’’دِل دِل پاکستان‘‘ کئی برس پہلے ریلیز ہوا تھا، لیکن آج بھی مقبولیت میں بہت آگے ہے۔ 

تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے
سائرہ پیٹر

یکم اگست سے 14؍اگست تک ’’دِل دِل پاکستان‘‘ بچوں، نوجوانوں کی زبان پر ہوتا ہے۔ ملکہ ترنم نور جہاں،ناہید اختر، مہدی حسن،نیرہ نور، امجد حسین، استاد نصرت فتح علی خان، راحت فتح علی خان، جنون گروپ، محمد علی شہکی، عالمگیر، حسن جہانگیر، سلیم جاوید، علی حیدر، فاخر محمود، شہزاد رائے، جواد احمد، اسٹرنگز گروپ وغیرہ نے کاوشوں اور تخلیقی صلاحیتوں سے اپنی حب الوطنی کا اظہار اپنے دل چُھولینے والے قومی گیتوں میں کیا۔ امسال جشن آزادی کے موقع پر پاکستان کے مشہور گلوکار آزادی کے پروگراموں میں حصہ لینے کے لیے زیادہ تر بیرون ملک گئے ہوئے ہیں، جن میں علی حیدر، ابرارالحق، استاد راحت فتح علی خان وغیرہ شامل ہیں۔ ہم نے جشنِ آزادی کے نغمے گانے والے چند مشہور گلوکاروں سے بات چیت کی، جس کی تفصیل نذرِقارئین ہے۔

گلوکار محمد علی شہکی نے بتایا کہ میں نے درجنوں سپرہٹ ملی نغمے پاکستان کے لیے گائے ہیں اور دُنیا بھر میں اپنی ملی موسیقی کا پرچار کیا۔ ’’اللہ اللہ کر بھیا‘‘ وہ ملی نغمہ ہے، جس کی وجہ سے مجھے دنیا بھر میں شناخت اور پہچان ملی۔ آج بھی کسی پروگرام میں جاتا ہوں تو سامعین و ناظرین فرمائش کرکے یہی نغمہ سُنتے ہیں۔ مجھے 1981ء میں پہلی بار پی ٹی وی ایوارڈ ملا تھا۔ میں نے نامو ر ہدایت کار شعیب منصور کے ساتھ بھی بہت کام کیا۔ میرے گائے ہوئے دیگر مقبول نغموں میں سپنا ہوگا، سایہ ہوگا، نظارے ہمیں دیکھیں گے، میری آنکھوں سے اس دنیا کو دیکھو وغیرہ شامل ہیں۔ مجھے سب سے زیادہ پہچان پاکستان کے ملی نغموں سے ملی۔ مجھے منتخب حکومت سے بہت امیدیں ہیں کہ وہ فن کار برادری کے لیے کچھ اقدامات کرے گی۔ بیرون ملک رہائش اختیار کرنے کی کئی پیش کشیں ہوئی، لیکن مجھے پاکستان سے عشق ہے اور میں کبھی پاکستان نہیں چھوڑ سکتا۔ اس ملک نے مجھے شناخت دی ہے۔ گلوکار حسن جہانگیر نے بتایا کہ میں نے کئی ملی نغمے گائے اور ان کی ویڈیوز بھی بنائی ہیں۔ میرا گایا ہوا قومی نغمہ ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ نوجوانوں میں بے حد مقبول ہوا۔ ہمارے گلوکاروں نے بہت شان دار اور سماعتوں میں رس گھولنے والے ملی نغمے پیش کیے ہیں۔ اگر انہیں حکومتی سرپرستی حاصل ہوجائے تو وہ مزید عالمی سطح پر کام کرسکتے ہیں۔ میں پرائیویٹ اداروں سے بھی درخواست کروں گا کہ وہ ایسے فن کاروں کی سرپرستی کے لیے آگے بڑھیں جو ملک کا نام روشن کرنا چاہتے ہیں۔ میرا ایک گانا ’’ہوا ہوا‘‘ بھارت کی 20؍فلموں میں کاپی کیا گیا۔ بہ حیثیت پاکستانی مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوتی ہے۔ حال ہی میں نامور گلوکار میکا سنگھ نے بھی ’’ہوا ہوا‘‘ نئے انداز سے گایا۔ مہدی حسن، نصرت فتح علی اور امانت علی خان کے گائے ہوئے ملی نغموں کی آج بھی گونج سنائی دیتی ہے۔ ہمیں اپنے فن کاروں کی قدر کا کلچر پروان چڑھانا ہوگا۔ گلوکار سلیم جاوید کئی برسوں سے موسیقی سے منسلک ہیں۔ انہوں نے ’’جُگنی‘‘ کو نئے انداز سے گا کر دُنیا کے مختلف ممالک میں شہرت حاصل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے درجنوں ملی نغمے گائے ہیں اور کچھ خود بھی پروڈیوس کیے ہیں۔ میرا گایا ہوا نغمہ ’’سلام پاکستان‘‘ کو بہت سراہا گیا۔ سُننے والوں کی جانب سے جو پیار ملتا ہے، وہ مزید گانے تیار کرنے پر مجبور کردیتا ہے، ورنہ حکومتوں نے تو کبھی قومی گیت گانوں والوں کو پزیرائی نہیں دی، جب عمران خان نے ورلڈ کپ جیتا تھا، اس وقت میں نے ان کے لیے ایک گانا گایا تھا، جو بہت مقبول ہوا تھا۔ ان سے بہت توقعات ہیں۔ گلوکار جواد احمد کا کہنا ہے کہ جتنی پزیرائی میرے گائے ہوئے ملی نغموں کو ملی ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔ مجھے سب سے زیادہ خوشی اس وقت ہوتی ہے، جب بیرون ملک مداح مجھ سے ملی نغموں کی فرمائش کرتے ہیں۔ گلوکار علی حیدر نے ٹیلی فون پر ہمیں بتایا کہ امریکا میں رہائش پذیر ہوں۔ اِن دِنوں جشن آزادی کے سلسلے میں امریکا کی مختلف ریاستوں میں شان دار میوزیکل پروگرام منعقد کیے جارہے ہیں۔ اُمید ہے کہ منتخب حکومت فن کاروں کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور اقدامات کرے گی۔ پاکستانی نژاد برطانوی گلوکارہ سائرہ پیٹر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میں پاکستانی ہوں۔ آج کل لندن میں ہوں ، جہاں جشن آزادی کے سلسلے میں پاکستانی ہائی کمیشن میں 14؍اگست کو منعقدہ تقریب میں آواز کا جادو جگارہی ہوں۔ میں نے گزشتہ برس بھی ملی نغمہ ’’اے سرزمین‘‘ ریلیز کیا تھا، جسے بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی تھی، سوشل میڈیا پر بھی اس نغمے نے پسندیدگی کے ریکارڈ قائم کیے۔ اس مرتبہ میں جمیل الدین عالی کے لکھے ہوئے قومی گیت ’’جیوے جیوے پاکستان‘‘ کو نئے انداز سے پیش کررہی ہوں۔ لندن میں جشن آزادی کے کئی پروگرام ہورہے ہیں، ہائی کمیشن نے گزشتہ برس بھی مجھے گانے کے لیے مدعو کیا تھا۔ مجھے صُوفیانہ کلام اور ملی نغموں کی گائیکی میں بہت مزا آتا ہے۔

تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے
سلیم جاوید

جنون گروپ کے علی عظمت اور سلمان احمد موسیقی کی دُنیا کے لیے کچھ نیا کرکے دیتے رہتے ہیں۔ ان دنوں سلمان احمد کراچی آئے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے جنون گروپ نے درجنوں ملی نغمے گائے تھے، جسے آج بھی نئی نسل پسند کرتی ہے۔ اب میوزیکل گروپوں کا زمانہ نہیں رہا، اس لیے سب گلوکار ذاتی حیثیت میں ملی نغمے گا رہے ہیں۔ کراچی میں مقیم محمد رفیع کے شاگرد گلوکار ایم افراہیم نے بتایا کہ مجھے ملی نغمہ ’’زمین کی گود‘‘ سے بہت شہرت ملی۔ کئی دہائیوں سے ملی نغمے گا رہا ہوں، لیکن آج بھی جس تقریب میں شرکت کروں، سب سے پہلے ’’زمین کی گود‘‘ کی فرمائش کی جاتی ہے، اس وقت بہت خوشی ہوتی ہے۔ گلوکار فاخر محمود ملی نغموں کے حوالے سے کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ ان کا گایا ہوا ملی نغمہ ’’تیرے بنا دل نہ لگے پاکستان‘‘ نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔ انہیں صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ الیکشن کے موقع پر انہوں نے ’’جیو نیوز‘‘ کی نشریات کے موقع پر اپنے کئی ملی نغمے پیش کیے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں