• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قیامِ پاکستان کے بعد سے ہزاروں خواتین پاکستانی مسلح افواج میں خدمات انجام دیتی آرہی ہیں۔ 2006ء میں خواتین لڑاکا پائلٹ کا پہلا دستہ پاک فضائیہ کے جنگی فضائی مشن کمانڈ میں شامل ہوا۔ حالیہ برسوں میںپاک فضائیہ کی خواتین پائلٹ فائٹرز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ پاک بحریہ میںخواتین سے مقامی و صدر دفاتر میں ملٹری لاجسٹکس،اسٹاف ڈیولپمنٹ اور سینئر انتظامی دفاتر میں خدمات لی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ پاک فوج کے بہت سے شعبوں میں خواتین خدمات انجام دے رہی ہیں، جن میں خواتین پیرا شوٹرز کا دستہ بھی شامل ہے۔ پاک افواج میں خواتین کی خدمات کو سراہتے ہوئے نوجوان لڑکیوں میں بھی بری، بحری اور فضائی فوج میں شامل ہونے کا شوق جاگتا ہے۔ کیڈٹ ویمن کالجز میں خواتین کیڈٹس کی تعداد بڑھ رہی ہے۔حتیٰ کہ مردان کیڈٹ اسکول کی ایک طالبہ کا خواب چیف آف آرمی اسٹاف بننا ہے۔

تحریکِ پاکستان میں شمولیت

1930ء اور1940ء کے ابتدائی دنوں میںجن مسلم خواتین نے تحریک ِپاکستان کی کامیابی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا،ان کا ایک ہی نعرہ تھا کہ عورتوں کی خدمات کے بغیر پاکستان کا حصول ناممکن ہے۔ اسی لیے صفِ اوّل پر ہمیں بیگم مولانا محمدعلی جوہر نظر آتی ہیں ۔ قیامِ پاکستان کے بعدمادرِ ملت فاطمہ جناح، بیگم رعنا لیاقت علی خان اور شیریںجناح نے ملک کی فلاح و بہبود کیلئے اہم کردار ادا کیا۔ عورت ایک ماں ہوتی ہے اور ماں سے بڑھ کر وطن کے بیٹوں کی دیکھ بھال کوئی نہیں کرسکتا۔

رضا کارانہ خدمات

پاکستان کی پہلی خاتونِ اوّل پاکستان بیگم رعنا لیاقت علی خان نےاکتوبر1948ء کو کشمیرپر پہلی پاک بھارت جنگ میں زخمی ہونے والے قیدیوں کے علاج معالجے اور کھانے کی فراہمی کے لیے خواتین کا رضاکارانہ خدمت کا شعبہ قائم کیا۔ یہ شعبہ آگے چل کر خواتین پر مبنی پاکستان آرمی کور آف میڈیکل کے قیام کا موجب بنا، جہاں خواتین کو جنگی تربیت دی جانے لگی،لیکن جنرل فرینک میسوری کی جانب سے ایسی کوششوں کو مسترد کیا گیا۔1949ء میں بیگم رعنا لیاقت علی خان نے جنگی مشقوں کے محدود کورس کے ساتھ آزادانہ طور پراپنا یونٹ پاکستان آرمی ویمن نیشنل گارڈ (WNG) قائم کیا۔یونٹ کی پہلی جنرل آفیسر کمانڈنگ اور چیف کنٹرولر،بریگیڈیئر کے عہدے کے ساتھ بیگم رعنالیاقت علی خان تھیں۔

ترقیاں،عہدے

2002ء میںشاہدہ ملک کو ترقی دیکر میجر جنرل کے عہدے پر فائز کیا گیا۔ وہ پاکستان کی پہلی خاتون میجر جنرل تھیں۔دوسری خاتون شاہدہ بادشاہ تھیں جنہیں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی،جب کہ تیسری خاتون میجر جنرل کا اعزاز بریگیڈیئر نگار جوہرنے پایا، جنہیں2017ء میں ترقی دی گئی، وہ آرمی میڈیکل کور سے تعلق رکھتی ہیں۔پاکستان آرمی میڈیکل کور کی لیفٹیننٹ کرنل شاہدہ اکرم بھرگڑی سندھ کی پہلی خاتون ڈاکٹر ہیں، جنہوں نے پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔

میدان جنگ میں بڑھتی ہوئی ضرورت اور افرادی قلت کے باعث خواتین کو طب اور انجینئرنگ سے متعلق شعبوں میں حصہ لینے کی اجازت ہے۔ تاریخی طور پر پاکستانی فوج میں خواتین کا کردار مختلف تکنیکی اور انتظامی امور تک محدود رہا ہے، تاہم2004ء سےخواتین کو جنگی تربیت دینے کا سلسلہ شروع کیا گیا، جس کا بنیادی مقصدشورش زدہ علاقوں میںاپنی حفاظت کرنا ہے۔ جن خواتین کو اعلیٰ عہدوں پر تعینات کیا جاتا ہے،وہ عام طور پر طبی آپریشن کی منصوبہ بندی میں شرکت کرتی ہیں۔

14جولائی 2013ء کوپاک فوج میں24خاتون افسران، جو زیادہ تر ڈاکٹر اور سوفٹ ویئر انجینئرز ہیں، نے پیراشوٹ ٹریننگ اسکول سے پیراٹروپرز کا کورس مکمل کرکے فوج کی تاریخ میں نئے باب کا آغاز کیا۔

پاکستان ایئر فورس میں خواتین

2003 ء میںپاک فضائیہ نے خواتین کو لڑاکا پائلٹ کے طور پر تربیت کے لیے منتخب کیا۔ 2006ء میں پاک فضائیہ میں خواتین لڑاکا پائلٹس کا پہلا دستہ تیار ہوا۔ انہیںا یف سیون لڑاکا طیارہ اڑانے کی تربیت بھی دی گئی ہے۔

پاک فضائیہ میںشامل خواتین ایک نسائی تنظیم پاکستان ایئر فورس ویمن ایسوسی ایشن (PAFWA) بھی چلا رہی ہیں تاکہ پاکستان ایئر فورس میں لڑاکا پائلٹ کے طور پر شمولیت کے لیے لڑکیوں کو راغب کیا جاسکے، ساتھ ہی پاک فضائیہ میں کام کرنے والی خواتین کی صحت کا خیال رکھا جائے۔22 سالہ مریم مختارپہلی جنگجو پائلٹ تھیں،جو 24 نومبر 2015ء کو میانوالی کے قریب ایک ایئرکرافٹ حادثے میں شہید ہوگئیں۔

’’سسٹرز اِن آرمز‘‘ پاکستان کی خواتین فوجی اہلکار

آئی ایس پی آر کی آفیشل ویڈیو '’سسٹرز اِن آرمز‘، یعنی ’فوج میں شامل بہنیں‘ میں پاک فوج کے مختلف شعبوں میں تعینات خواتین کو دکھایا گیا ہے کہ وہ کس طرح ملکی دفاعی شعبے میں اپنا اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

’سسٹرز اِن آرمز‘ وڈیو کے پہلے حصے میں فوجی خواتین کو ایک عام عورت کی طرح دکھایا گیا ہے، جو امورخانہ داری کی ذمہ داریاں سنبھال رہی ہیں، وہیں دوسرے حصے میں انہی خواتین کو وردی پہنے اپنی ڈیوٹیاں نبھاتے دکھایا گیا ہے۔ 

یہ خواتین ایک پائلٹ کے طور پر جہاز اڑانے سے لےکر اسلحے سے لیس، سرحد پر دشمن کا مقابلہ کرتی ہیں۔ویڈیو پیغام میں ان خواتین اہل کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خواتین بہت بہادر، مضبوط اور سخت جان ہیں، وہ سخت تربیت حاصل کرکے اِن عہدوں تک پہنچی ہیں۔

تازہ ترین