آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 17؍ذیقعد 1440ھ21؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پچھلے چند دنوں سے معروف دانشور اور براڈکاسٹر اشفاق احمد مرحوم کا ایک واقعہ بڑا وائرل ہوا ہے جس میں وہ اٹلی کی ایک عدالت میں اپنے چالان کے حوالے سے جاتے ہیں اور جب عدالت کو پتہ چلتاہے کہ وہ ایک استاد ہیں تو عدالت کھڑی ہو جاتی ہے، جج صاحب کہتے ہیں۔ ’’ٹیچر ان کورٹ‘‘ اور تمام عدالت احتراماً کھڑی ہو جاتی ہے اور اشفاق احمد کے چالان کی رقم معاف کر دی جاتی ہے۔ یہ قصہ تو ہم نے اس زمانے میں سنا تھا جب وہ اردو سائنس بورڈکے ڈائریکٹر جنرل تھے اور پروفیسر ڈاکٹر مسکین حجازی مرحوم (شعبہ صحافت کے سابق چیئرمین) کے پی ایچ ڈی تھیسس کے نگراں تھے اور ہم اپنے استاد محترم حجازی صاحب کو اکثر اپنی موٹر سائیکل پر بٹھا کر اردو سائنس بورڈ کے آفس اپر مال لے کر آتے تھے اور جب کبھی اشفاق احمد کے پاس وقت ہوتا تو چائے کے ساتھ وہ ہمیں مزے مزے کے قصے بھی سنایا کرتے تھے، ویسے ان کا ایک بیٹا گورنمنٹ کالج لاہور میں ہمارا کلاس فیلو بھی تھا۔

دنیا کے ہر ملک میں استاد کو عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ کبھی ہمارے ملک میں بھی استاد کی عزت ہوتی تھی، آج کل تو استاد کو ہتھکڑی لگا دی جاتی ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ جب نواب آف کالا باغ ملک امیر محمد خان (اس وقت گورنر مغربی پاکستان تھے) نے گورنمنٹ کالج کے نامور پرنسپل ڈاکٹر نذیر احمد کا تبادلہ کر دیا تھا تو گورنمنٹ کالج لاہور کے طلبہ نے پہلی مرتبہ ہڑتال کی تھی چنانچہ حکومت کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا تھا کیونکہ ڈاکٹر نذیر احمداپنے اسٹوڈنٹس میں انتہائی مقبول تھے۔ ہماری ان سے کئی ملاقاتیں رہی ہیں، ہم نے ان کا انٹرویو بھی کیا تھا ’’جنگ‘‘ کے لئے کسی زمانے میں اور ہمارے جنگ فورم میں وہ کئی مرتبہ بطور اسپیکر بھی آئے تھے۔ کوئی تھری پیس سوٹ نہیں پہنا، سائیکل پر پھرتے تھے لیکن ان کا احترام اور عزت ناقابل بیان تھی۔ شام کو اکثر کالج میں جہاں مختلف کھیل ہو رہے ہوتے تھے وہ پہنچ جاتے اور اسٹوڈنٹس کو گائیڈ بھی کیا کرتے تھے۔ گورنمنٹ کالج لاہور کے کئی پرنسپلز کو ہم نے پڑھاتے بھی دیکھا بلکہ پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران کو بھی ہم نے پڑھاتے ہوئے دیکھا، وہ خود وائس چانسلر تھے۔ ہم نے لاہور کالج کی آخری پرنسپل اور پہلی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر بشریٰ متین کو بھی پڑھاتے دیکھا ہے۔ پھر ایک عجیب روایت چل پڑی۔ پرنسپلوں اور وائس چانسلروں نے پڑھانا اور کلاسیں لینا چھوڑد یں، وہ صرف انتظامی کاموں میں مصروف ہوگئے میرٹ پر آنے والے پرنسپل اور وائس چانسلرز کی جگہ اب سفارش کے زور پر ان عہدوں پر لوگ آنے لگے اور جوانہیں پرنسپل اور وائس چانسلر بنواتے تھے وہ ان سے اپنے ناجائز کام کروانے لگے ۔ کئی الیکشنوں میں ہم نے اسکول ماسٹروں کو بے عزت ہوتے دیکھا ہے۔ جرمنی میں اسکول ٹیچر ہو یا کالج/ یونیورسٹی کا ٹیچر اس کی تنخواہ سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ وہاں لوگ استاد بننا پسند کرتے ہیں۔ امریکہ کے سابق وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے ریٹائرمنٹ کے بعد استاد بننا پسند کیا۔

ہمارے ملک میں ایک سابق آئی جی، جو لاہور کے ایس پی سٹی تھے۔ انہوں نے ایک اسکول کے اساتذہ کو اسٹوڈنٹس کو نقل کرانےکے الزام میں اسکول کے احاطے میں مرغا بنا دیا تھا جس پر اس زمانے میں ایک انکوائری بھی ہوئی تھی اور ہم نے بھی ادارہ جنگ کی طرف سے اس انکوائری کمیٹی میں بطور ممبر اپنی رپورٹ دی تھی۔ غالباً اس سابق آئی جی نے اپنا کوئی پرانا بدلا اتارا تھا۔ استاد کی اس قدر تذلیل ہوئی تھی کہ بیان سے باہر۔ کیا اس وقت اس ایس پی سٹی کے خلاف کچھ ہوا تھا؟ کچھ بھی نہیں۔ حالانکہ وہ بھی اسکول ماسٹروں سے ہی پڑھ کر آیا تھا۔ نواب آف کالا باغ ملک امیر محمد خان (جو اس وقت گورنر مغربی پاکستان تھے) نے کے ای میڈیکل کے پرنسپل کو کو میرٹ سے ہٹ کر داخلہ نہ کرنے پر تھپڑ مارا تھا جس پر اس پرنسپل نے استعفیٰ دے دیا تھا، استاد کی اس معاشرے میں بھی عزت ہے۔

کئی برس قبل سرگودھا کے ایک سابق ایم پی اے نے ایک ا سکول ماسٹر کی ٹانگیں توڑ دیں، بعد میں کچھ بھی نہیں ہوا۔ اس ملک میں ماڈل ایان علی، رائو انوار، ایک غیر ملکی کئی دیگر ماڈلز اور کئی بااثر شخصیات جن کے جرائم ڈاکٹر مجاہد کامران، ڈاکٹر محمد اکرم اور پنجاب یونیورسٹی کے دیگر گرفتار شدہ اساتذہ کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ اور بھیانک ہیں، کو کبھی ہتھکڑی لگا کر پیش کیا گیا؟ کیا ان کے ساتھ ایسا توہین آمیز سلوک کیا گیا؟ ان اساتذہ نے کون سا ایسا بڑا جرم کیا تھا جو سب سے بڑا تھا۔ یہ بھلا ہو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا جنہوں نے ان اساتذہ کی ہتھکڑی کھلوائی اور نیب کے ڈی جی کی سرزنش کی۔ دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے حکمراںخود بعض اداروں کو اتنا بااختیار بنا دیتے ہیں جن کا مقصد اپنے مخالفوں کو دبانا اور انہیں تنگ کرنا ہوتا ہے۔ بعد میں جب وہ سیاستدان خود صاحب اقتدار نہیں رہتے تو شور مچاتے ہیں کہ نیب، ایف آئی اے، پولیس اور اس طرح دیگر احتساب کے اداروں کو اس قدر بااختیار نہ کیا جائے۔ حالانکہ (ن) لیگ نے ہی ایسے اداروں کو بااختیار بنایا تھا اور شاید کوئی بھی حکومت ہو جس نے ان اداروں کے ذریعے سے لوگوں کی تذلیل نہ کی ہو۔ آخر ان اداروں کو چلانے والے بھی تو پاکستانی ہیں، ان سے بھی غلطیاں ہو سکتی ہیں، ان کی غلطیوں کو آخر کون چیک کرے گا؟

دوسری طرف استاد نے اپنا مقام خود کھو دیا ہے۔ وہ استاد ، استاد نہیں رہے۔ بعض اساتذہ نے ایسے کام کئے جن سے ان کی عزت میں فرق آیا۔پرچوں کو آئوٹ کرنا، ٹیوشن، اکیڈمیاں، اسکول اور کالج میں محنت سے نہ پڑھانا۔ بعض اساتذہ نے خود ایسے کام کئے جن سے معاشرے میں ان کی عزت نہ رہی اور ہمارے سیاستدانوں نے دیہاتی اسکولوں کی عمارتوں میں اپنی گائے، بھینسیں باندھیں، یہ باتیں اور تصاویر لوگوں کے سامنے ہیں۔ دیہات میں اسکول ماسٹر کی آج بھی تضحیک کی جاتی ہے، ’’اوئے ماسٹر‘‘ کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے۔ آج استاد تھانے، سیکرٹریٹ چلا جائے، اس کی کوئی نہیں سنتا۔ جس معاشرے میں استاد کی عزت اور قدر نہیں ہوگی وہاں ہر شعبے میں کرپشن اور برائی ہی ہوگی۔ کیا ڈاکٹر مجاہد کامران او ڈاکٹر محمد اکرم نے ہزاروں اسٹوڈنٹس کی تعلیم و تربیت نہیں کی تھی؟ کیا آج ان کے اسٹوڈنٹس پوری دنیا میں ملک کا اور اپنا نام روشن نہیں کر رہے؟

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں