آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار15؍محرم الحرام 1441ھ 15؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’نواز شریف کیلئے کیا نیا میڈیکل بورڈ بنانا ہے؟‘‘

اسلام آباد ہائی کورٹ میں العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی سزا کی معطلی کی درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے نوازشریف کے وکیل سے دریافت کیاکہ کیا کوئی نیا میڈیکل بورڈ بنانا ہے؟

العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں نواز شریف کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بنچ کر رہا ہے۔

نواز شریف نے 26 جنوری کو اپنے وکیل خواجہ حارث کے ذریعے طبی بنیادوں پر سزا معطلی کی درخواست دائر کی ہے، سابق وزیر اعظم کی 17 جنوری کی اسپیشل میڈیکل بورڈ کی رپورٹس بھی سزا معطلی کی درخواست کے ساتھ جمع کرائی گئی ہیں۔

نواز شریف کے وکلاء کی جانب سے درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ سابق وزیراعظم کی صحت غیر تسلی بخش ہے، لہٰذا ان کی درخواست ضمانت پر العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسوں کی اپیلوں سے پہلے فیصلہ سنایا جائے۔

درخواست کے متن میں استدعا کی گئی ہے کہ العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سزا معطل کرکے نواز شریف کو طبی بنیادوں پر ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کیا جائے۔

درخواست کے متن میں کہا گیا ہے کہ نوازشریف عارضہ قلب میں مبتلا ہیں جبکہ انہیں گردے کا مرض بھی لاحق ہے جو تھرڈ اسٹیج تک پہنچ چکا ہے۔

درخواست میں نیب، احتساب عدالت اور سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل کو فریق بنایا گیا ہے۔

خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہ نواز شریف کی سزا معطلی کی اس درخواست میں نئے گراؤنڈ ہیں۔

جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا کہ کیا جیل میں صحت کی سہولتیں نہیں مل رہیں؟کیا کوئی نیا میڈیکل بورڈ بنانا ہے؟

جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف کے خاندان کو ان کی صحت کی بہت فکر ہے، جو رپورٹس میڈیکل بورڈ نے دیں وہ عدالت طلب کر لے، وہ میڈیکل ٹیسٹ کی رپورٹس ہمیں نہیں دی گئی ہیں۔

عالیہ عالیہ نے خواجہ حارث کی استدعا قبول کرتے ہوئے نواز شریف کی تمام میڈیکل رپورٹس طلب کرلیں۔

دوسری جانب عدالت نے نیب اور سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے سماعت 6 فروری تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کا چند روز قبل جیل میں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے طبی معائنہ کیا تھا جس میں امراض قلب کے ماہرین بھی شامل تھے، ان کے نمونے بھجوا کر جناح اسپتال میں مختلف میڈیکل ٹیسٹ بھی کیے گئے تھے۔

ڈاکٹروں کے مشورے پر نواز شریف کا پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) میں دل کے میڈیکل ٹیسٹ کیے گئے، خون کے نمونے لیے گئے اور ساتھ ہی دل کے 3 ٹیسٹ ای سی جی، ایکو اور تھیلیم کیے گئے، ایکو کی رپورٹ میں نواز شریف کے دل کا سائز معمول سے بڑا پایا گیا جب کہ دل کے پٹھوں کے موٹے ہونے کی بھی نشاندہی کی گئی تھی۔

یہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے ایک بیان میں کہا تھا کہ میڈیا رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے والد نواز شریف کی بیماری بڑھ رہی ہے اور ان کی زندگی کو خطرہ بھی ہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے العزیزیہ ریفرنس میں احتساب عدالت سے ملنے والی 7 سال قید کی سزا کی معطلی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے، جس کی آئندہ سماعت 18 فروری کو ہوگی۔

قومی خبریں سے مزید