آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر18؍ذیقعد 1440ھ22؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حمیرا مختار

شیکسپیئر کے بقول، ’’کچھ انسان پیدائشی عظیم ہوتے ہیں اور کچھ اپنی محنت، لگن، جدوجہد اور کارناموں سے خود کو عظیم بنالیتےہیں‘‘۔ دیکھا جائے تو انسان کی عظمت اور بڑائی اس کے کارناموں جدوجہد کی داستانوں، مسلسل محنت اور لگن کے ساتھ اس کی ظاہری شخصیت پر بھی موقوف ہے۔ ایک پروقار اور پرکشش شخصیت کاحامل فرد اپنی محنت، لگن اور جدوجہد سے جو مقام حاصل کرسکتا ہے وہ ایک کمزور شخصیت کا حامل شخص کبھی حاصل نہیں کرسکتا۔

علم نفسیات کی رو سے شخصیت دراصل فردکے ذہنی و جسمانی اوصاف کے مجموعے کا نام ہے۔ عام الفاظ میں اس سے مراد انسان کی ظاہری صفات، نظریات، اخلاقی اقدار، افعال، احساسات و جذبات ہیں۔ ایک اچھے کردار کے حامل فرد میں بہت سی خصوصیات ہوتی ہیں اور یہ خوبیاں یا خصوصیات ہی اسے دوسروں سے ممتاز اور معتبر بناتی ہیں جس کی بدولت فرد ایک آئیڈیل بنتا ہے۔ ایک ایسی سحر انگیز شخصیت کہ دوسرے بھی اس کی تقلید اور پیروی کرنا پسند کرتے ہیں، مگر یہ خصوصیات اور خوبیاں انسان میں یوں ہی نہیں پیدا ہوجاتیں بلکہ اس کے لئے مستقل مزاجی کے ساتھ مسلسل محنت درکار ہے، جس کی کمی آج کل کے نوجوانوں میں ہے۔ ذیل میں نوجوانوں کے لیے چند مشورے ہیں، جنہیں اپنا کر وہ اپنی شخصیت میں نکھار پیدا کرسکتےہیں۔

٭… سیلف ڈسپلن:

سیلف ڈسپلن سے مراد وہ نظم و ضبط ہے کہ انسان کس طرح اپنے معاملات کو ترتیب دیتا ہے۔ کس طرح اپنے مسائل کو سلجھاتا ہے؟ اپنے جذبات کو کس طرح کنٹرول کرتا ہے؟ شخصیت کے نظم و ضبط سے انسان میں ایسی صلاحیتیں پیدا ہوتی ہیں کہ وہ آنے والےوقت اور اس کے تقاضوں سے پریشان نہیں ہوتا بلکہ اس وقت کو بہتر بنانے کے لئے منصوبہ بندی کرتا ہے۔

نظم و ضبط پید اکرنے کے لئے درج ذیل عادتیں اپنائی جائیں۔

1۔ اپنی تمام چیزوں کو ان کی مخصوص جگہ پر رکھنے کی عادت ڈالیں۔

2۔ فارغ وقت میں والدین، بہن بھائیوں یا دوستوں کے ساتھ مل کر کسی کام کی ابتداء کریں اور اس کے لئے باقاعدہ پلاننگ کے ساتھ آپس میں ذمہ داریاں بانٹیں۔ اس سے آپ میں مینجمنٹ اور احساس ذمہ داری پیدا ہوگا۔

3۔ اپنے تمام معاملات کا ٹائم ٹیبل بنائیں اور کوشش کریں کہ جس کام کے لئے جو وقت مقرر کیا ہے اس کام کو اسی وقت میں مکمل کریں۔

٭…خود اعتمادی

زندگی کےہر مقام پر خود اعتمادی ضروری ہے، بالخصوص نوجوانوں کو ہر جگہ پر خود اعتمادی کا بھرپور مظاہرہ کرنا چاہئے۔ اپنے آپ پر بھروسہ، اپنی صلاحیتوں کا ادراک، اپنی قابلیتوں کا یقین۔ یہ وہ نسخے ہیں جو آپ کو پر اعتماد بناتے ہیں اور آپ کی یہ خود اعتمادی آپ کی شخصیت کو پرکشش اور پر وقار بناتی ہے، خود اعتمادی پیدا کرنے کا سب سے کارگر نسخہ یہ ہے کہ گھر والوں کے ساتھ مل کر بیٹھیں اور ہر طرح کی گفتگو میں حصہ لیں۔ اس سے آپ میں خود اعتمادی نہ صرف پیدا ہوگی بلکہ پھلے پھولے گی بھی۔

٭… تعصب اور نسل پرستی

بحیثیت مسلمان اور بحیثیت پاکستانی ہم سب آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ یہ احساس اور یہ جذبہ ہمیں ایک دوسرے سے محبت کرنے اور ایک دوسرے کی مدد پر ابھارتا ہے لیکن ہمارا المیہ یہ ہےکہ آج ہم بالخصوص نوجوان نسل تعصب کا شکار نظر آتی ہے۔ مذہبی اور سیاسی گروہوں میں بٹ کر ہمارے نوجوان اپنے ہی بھائیوں کے دشمن بنتے جارہے ہیں۔ نفرت اور وحشت کا یہ احساس جہاں ان کے ذہن پر اثر انداز ہو رہاہے وہیں ان کی شخصیت کو بھی بری طرح متاثر کررہا ہے۔ نوجوان اپنی شخضیت کو سحر انگیز بنانا چاہتے ہیں تو انہیں نفرت، دہشت، فرقہ واریت، نسل پرستی اور تعصب جیسے جذبات کو اپنے دل و دماغ سے نکالنا ہوگا اور اس کی جگہ محبت، ہمدردی، ایثار اور ایک دوسرے کی مدد جیسے جذبات و احساسات کو پروان چڑھانا ہوگا۔ اس کے لئے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ مختلف رنگ و نسل اور مذہب کے لوگوں سے ملاقات کریں، ان سے دوستی اور تعاون کریں، ان سے مختلف موضوعات پر گفتگو کریں۔ اس کے علاوہ ایسی کتابوں کا مطالعہ کریں جن میں مختلف علاقوں، رنگ و نسل، مذہب اور قومیت پر معلومات ہوں۔ خود کو وسیع النظر بنانا بھی ضروری ہے۔ کسی کے لباس، شکل و صورت، رنگ و انداز کا مذاق نہ اڑائیں بلکہ سب کی عزت و احترام کریں۔ یاد رکھیں جب آپ دوسروں کی عزت کریں گے تو دوسرے بھی آپ کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھیںگے۔

٭… مستقل مزاجی

یہ کسی بھی شخص کی شخصیت میں نکھار اور وقار پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے۔ اگر نوجوان اپنی شخصیت کو با اثر اور معتبر بنانا چاہتے ہیں تو مستقل مزاجی کی عادت اپنائیں، جو بھی کام کریں اسے تسلسل کے ساتھ انجام دیں، کوشش کریں کہ ایک وقت میں صرف ایک ہی کام کا بیڑا اٹھائیں، تاکہ آپ اپنی پوری توجہ اس پر مرکوز رکھ سکیں۔ ایک وقت میں کئی کام، آپ کی صلاحیت، قابلیت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اور توجہ منتشر ہونے کے باعث کوئی ایک کام بھی قابل تعریف انجام نہیں ہو پاتا۔ اپنے مقصد کا تعین کریں اور کوشش کریں کہ پوری دلچسپی اور سنجیدگی کے ساتھ اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے لئے محنت اور جدوجہد کریں۔ یاد رکھیں جب تک آپ اپنے لئے کسی منزل یا مقصد کا تعین نہیں کریں گے اس کے حصول کی کوشش نہیں کریں گے آپ خود کو مستقل مزاجی کا عادی نہیں بناسکیں گے۔

٭… لباس اور خوراک کا خیال رکھیں

لباس شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ قابل تعریف شخصیت کے لئے ضروری ہے کہ آپ کا لباس نہ صرف صاف ستھرا ہو بلکہ آپ کی شخصیت، رنگ اور جسم کے عین مطابق ہو۔ موسم کی مناسبت سے لباس کا انتخاب آپ کی شخصیت کو جاذب نظر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی متوازن غذا استعمال کریں، بھرپور نیند لیں، ورزش کو اپنا معمول بنائیں۔

اس کےعلاوہ اپنی معلومات بڑھائیں، فارغ اوقات میں کتاب بینی کی عادت ڈالیں۔ اچھی اور معیای کتابیں پڑھیں۔ اس سے آپ ہر شخص سے باسانی ہر طرح کی گفتگو کرسکیں گے۔علاوہ ازیں جرات و بہادری، نرم مزاجی، ملنساری، ہمدردی، عزت و احترام یہ وہ اوصاف ہیں جو شخصیت کو مضبوط بنیادوں پر پروان چڑھاتے ہیں اور ایک موثر اور بااثر شخصیت کا حامل بناتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں