آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 17؍ذیقعد 1440ھ21؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اولڈ ٹریفورڈ، مانچسٹر (عبدالماجدبھٹی،نمائندہ خصوصی / اےپی پی) کرکٹ ورلڈ کپ میں آج پاک بھارت کرکٹ ٹیموں کے درمیان مانچسٹر میں مقابلہ ہوگا۔دونوں ممالک میں عوام پرجوش ہے۔ورلڈ کپ میں پاکستان کا ریکارڈ خراب ہے۔جب کہ پوائنٹس ٹیبل میں بھارت چوتھے ، پاکستان نویں نمبر پرموجود ہے۔تفصیلات کے مطابق،شائقین کرکٹ کی انتظار کی گھڑیاں اب ختم ہونے والی ہیں۔ورلڈ کپ کے سب سے بڑے ٹاکرے کے لئے روایتی حریفوں کے درمیان گھمسان کا رن پڑنے کا امکان ہے ۔پاکستان کا ورلڈ کپ میں ریکارڈ خراب ہے۔لیکن سرفراز احمد اس ریکارڈ کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔اتوار کو پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ ہورہا ہے۔ورلڈ کپ میں اب تک پاکستان نے چار میں سے ایک میچ جیتا ہے دو ہارے ہیں اور ایک میچ بارش سے منسوخ ہوا ہے۔بھارت نے تین میں سے دو میچ جیتے ہیں اور ایک میچ بارش کی نذر ہوا ہے۔ ورلڈ کپ میں پوائنٹس کے حساب سے بھارت کی ٹیم چوتھے اور پاکستان کی ٹیم نویں نمبر پر ہے ۔ جبکہ آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں بھارت کا دوسرا اور پاکستان کا چھٹا نمبر ہے

۔پاکستان نے ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف چھ میچ کھیلے اور تمام چھ میچوں میں پاکستانی ٹیم کو شکست ہوئی ہے۔بھارت کو میچ کے لئے فیورٹ قرار دیا جارہا ہے لیکن پاکستانی ٹیم جس میں اکثریت نوجوان کھلاڑیوں کی ہے وہ روایتی حریف کو اپ سیٹ کے لئے پرعزم ہے۔میچ کی اہمیت کے پیش نظر پاکستان جارحانہ حکمت عملی اور پانچ ریگولر بولروں کے ساتھ میچ کھیلنا چاہتا ہے۔ٹیم انتظامیہ میچ میں اپنے سب سے تجربہ کار بیٹسمین شعیب ملک سے اسپیشل کارکردگی کی توقع کررہی ہے۔شعیب ملک نے اس ٹورنامنٹ میں انگلینڈ کے خلاف 8اور آسٹریلیا کے خلاف کوئی رن نہیں بنایا تھا۔عامر،حسن علی اور وہاب ریاض کے ساتھ دواسپنرز کھیلیں گے۔شاداب خان ،شاہین شاہ آفریدی جبکہ عماد وسیم ،آصف علی کی جگہ کھیلیں گے۔شعیب ملک کی خراب فارم پر سب کو تشویش لاحق ہے لیکن انہیں ایک اور لائف لائن دی جاسکتی ہے۔پاکستانی ٹیم بھارت کے خلاف چار ریگولر اور ایک نان ریگولر بولر کو کھلانے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتی۔سابق کپتان شعیب ملک کو انگلینڈ میں خراب ریکارڈ کے باوجود ورلڈکپ کے لئے پاکستان ٹیم میں شامل کیا گیا۔شعیب ملک ابھی تک ٹورنامنٹ میں اپنی کارکردگی سے انصاف نہیں کرسکے ہیں۔ایسے وقت میں جبکہ آسٹریلیا کے خلاف سنچری بنانے والے حارث سہیل باہر بیٹھے ہیں ۔پاکستان اپنے چار صف اول کے بیٹسمینوں سے بھی میچ وننگ کارکردگی کی توقع کررہا ہے۔شکست کی صورت میں پاکستانی ٹیم ٹورنامنٹ سے باہر نہیں ہوگی لیکن اس کے امکانات کم ہوجائیں گے۔اگلے چار میچوں میں پاکستان کو تمام میچ جیتنا ہوں گے۔ پاکستانی ٹیم کو ٹورنامنٹ میں اپنی بقا کی جنگ لڑرہی ہے۔پاکستانی کرکٹ کے کپتان سرفراز احمد کو میچ کی اہمیت کا اندازہ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کے خلاف ہم تینوں شعبوں میں ناکام رہے تھے۔کوشش کریں گے بھارت کے میچ میں مزید غلطیاں نہ دہرائی جائیں۔کیوں کہ اب ہماری ٹیم مزید غلطیوں کی متحمل نہیں ہوسکتی۔میچ میںکامیابی کی صورت میں پاکستان کا سفر آسان ہوجائے گا لیکن اگر بھارت نے پاکستان کو شکست دے دی تو پاکستانی ٹیم کے لئے ورلڈ کپ میں آگے جانے کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے سے پہلے ٹوٹ سکتا ہے۔پاکستانی ٹیم میں کم از کم دو تبدیلیاںکا امکان ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم انتظامیہ بھارت کے خلاف میچ میں دو اسپنرز عما د وسیم اور شاداب خان کو کھلانے پر غور کررہی ہے تاکہ پانچ ریگولرز بولروں کے ساتھ میچ کھیلا جائے۔بھارت شیکھر دھون کی عدم موجودگی میں کےآ رراہول کو کھلائے گا۔راہول ،روھت شرما کے ساتھ اننگز شروع کریں گے۔شکھر دھون کا انگلی پر چوٹ کے باعث ٹیم سے باہر ہونا ہے۔ شکھر دھون اور روہت شرما کی جوڑی گذشتہ کئی سالوں سے بھارت کی فتوحات کا ایک اہم جز رہی ہے۔راہول پاکستان کے خلاف پہلا میچ کھیلیں گے۔پاکستان اہم ترین میچ میں چار بولروں اور ایک نان ریگولر بولر کے ساتھ جانے کا آپشن استعمال نہیں کرنا چاہتا۔سرفراز احمد کہتے ہیں کہ ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم نے زیادہ غلطیاں کیں جس کی وجہ سے اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔آسٹریلیا کے میچ میں یٹسمین اپنی اننگز کو بڑے ا سکور میں تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ اگر محمد حفیظ اور امام الحق کی بڑی پارٹنر شپ قائم ہو جاتی تو صورتحال مختلف ہوتی۔ اگر بیٹسمین سیٹ ہو کر اپنی اننگز کو طول نہیں دیں گے تو بہت مشکل ہو جائے گی۔ پندرہ گیندوں پر تین وکٹوں کا گرنا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔پاکستان کو ریکارڈ کو تبدیل کرنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانا ہوگی۔اب تک ورلڈ کپ مقابلوں میں یہ دونوں ٹیمیں چھ مرتبہ آمنے سامنے آئیں ہیں لیکن پاکستان اب تک ان میں سے کوئی میچ نہیں جیت پایا۔دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلے گئے چھ میں سے پانچ ورلڈ کپ مقابلوں میں پاکستان نے چھ میں سے پانچ میچ ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے ہارے ہیں۔ورلڈ کپ مقابلوں میں آج تک پاکستان کا بھارت کے خلاف سب سے زیادہ مجموعی سکور 273 رہا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان اولڈ ٹریفورڈمیں اس سے پہلے ایک ہی میچ کھیلا گیا ہے اور اتفاق سے یہ سنہ 1999 کے کرکٹ ورلڈ کپ کا وہ میچ تھا جس میں بھارت نے پاکستان کو 47 رنز سے شکست دی تھی۔دونوں ٹیموں کے درمیان اب تک کھیلے گئے 131 میچوں میں پاکستان نے 73 جبکہ بھارت نے 54 میچوں میں فتح حاصل کی ہے جبکہ چار میچ بےنتیجہ رہے۔فاسٹ بولرمحمد عامر ٹورنامنٹ میں 10 وکٹوں کے ساتھ سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر ہیں۔ عامر کے لیے انگلینڈ میں کھیلنا جذباتی اہمیت بھی رکھتا ہے اور وہاں کی کنڈیشنز بھی ان کی بولنگ کے لیے سازگار ثابت ہوتی ہیں۔اولڈ ٹریفورڈ میں میچ سے ایک دن پہلے دوپہر کو بارش شروع ہوگئی اور پاکستان ٹیم نے انڈور میں پریکٹس کی ۔صبح ابرآلود موسم رہا اور ہلکی دھوپ بھی نکل آتی تھی ۔گراونڈاسٹاف پچ کی تیاری میں مصروف رہا۔پچ سے گھاس صاف ہےاور بظاہر پچ بیٹنگ کے لئے سازگار دکھائی دے رہی ہے۔بارش شروع ہوتے پچ کو کورکر دیا گیا ہے۔ پاک بھارت ورلڈکپ میچ کیلیے سخت سیکیورٹی انتظامات کر لیے گئے جب کہ مسلح پولیس اہلکاروں کو بھی تعینات کیا جائے گا۔میچ کے ٹکٹوں کے مانگ بڑھ گئی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں