آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر16؍محرم الحرام 1441ھ 16؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سائنسدانوں نے مویشیوں کیلئے نیا چارا تلاش کرلیا، ماحول دشمن گیسوں کا اخراج روکنے میں مدد ملے گی

کراچی (نیوز ڈیسک) ماہرین نے مویشیوں کیلئے ایک ایسا چارا تلاش کر لیا ہے جو نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ مویشی اسے خوشی خوشی کھاتے ہیں، مزے کی بات یہ ماحول دشمن گیسوں کے اخراج کا باعث بھی نہیں بنتا۔ سائنس میگزین کی رپورٹ کے مطابق، یہ چارا گرم ساحلی علاقوں میں پیدا ہوتا ہے، گلابی رنگ کا یہ چارا دراصل سمندری جھاڑ (Seaweed) ہے جس کا حیاتیاتی نام Asparagopsis Taxiformis ہے، ماہرین متفق ہیں کہ اس کے فوائد بہت زیادہ ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محققین اس وقت ان کوششوں میں مصروف ہیں کہ اس سمندری جھاڑ کو بڑے پیمانے پر کس طرح پیدا کیا جائے۔ تحقیق کے دوران یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ یہ چارا کھانے کے بعد مویشی جب ڈکار لیتے ہیں کہ ماحول دشمن گیس ’’میتھین‘‘ خارج نہیں ہوتی۔ یونیورسٹی آف سن شائن کوسٹ کے ماہر حیاتیات نک پائول کہتے ہیں کہ جب یہ گلابی رنگ کی سمندری جھاڑ گائے کے چارے میں شامل کی گئی تو میتھین کی پیداوار مکمل طور پر ختم ہوگئی، اس جھاڑ میں وہ کیمیائی مرکبات ہیں جو گائے کے معدے میں موجود بیکٹیریا کو کم کرتے ہیں جس کے باعث ڈکار لینے کے نتیجے میں میتھین گیس پیدا نہیں ہوتی۔ واضح رہے کہ میتھین گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کے مقابلے میں 23؍ گنا زیادہ خطرناک ہے۔ اوسطاً ایک گائے سالانہ 70؍ سے 120؍ کلوگرام میتھین ڈکار لیتے ہوئے خارج

کرتی ہے اور یہی وجہ ہے ماہرین مویشیوں کا چارا تبدیل کرنے پر غور کر رہے تھے کیونکہ 100؍ کلوگرام میتھین کا اخراج 2300؍ کلوگرام کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق، دنیا بھر میں گائے بھینسوں کی تعداد تقریباً ڈیڑھ ارب ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مویشی کس قدر ماحول دشمن گیس خارج کرتے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید