آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 22؍ صفر المظفّر1441ھ22؍ اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

حکومت سے نجات او رمعاشی استحکام کیلئے فضل الرحمٰن کا دھرنا اہم ہوگا، پرویز رشید

لندن(ودود مشتاق) مسلم لیگ(ن) کے رہنماسینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ عدالتوں اور اداروں کی طرف سے انصاف کی عدم فراہمی کے بعد ملک گیراحتجاج کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا ہے جبکہ پاکستان کے سیاسی اور معاشی استحکام اور حکومت سے چھٹکارے کےلئے مولانا فضل ارحمٰن کا دھرنا اہم کردار ادا کرے گا،وفاقی وزیرداخلہ کی جانب سےمقدمات کو سیاسی تسلیم کئے جانے کے بعدنوازشریف کو قید رکھناغیرقانونی ہے۔وہ گزشتہ روز اپنی رہائش گاہ پر جنگ اور جیو سے خصوصی گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی سیاست کا محور میاں نواز شریف اور انکی جماعت کی قیادت کے گرد گھوم رہا ہے اس لئے اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ میاں نواز شریف کو جیل میں بند کرکے عوام کو ان کے نظریے اور فکر سے دور رکھا جا سکتا ہے تو یہ خام خیالی ہوگا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ججز کا میاں نواز شریف کے مقدمے میں دبائو تسلیم کرنا، وزیرِ داخلہ اعجاز شاہ کی طرف سے میاں نواز شریف کے خلاف تمام مقدمات کو سیاسی و انتقامی کارروائی قرار دیناجبکہ چیف

جسٹس کی طرف سے پاکستان میں پولیٹیکل انجینئرنگ کے اقرار کے بعد میاں نواز شریف کو جیل میں قید رکھنا غیر آئینی ،غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی میاں نواز شریف ہی اس ملک کو بحرانوں سے نجات دلوا سکتے ہیں۔سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ مسلم لیگی قائدین رانا ثنا اللہ، شاہد خاقان عباسی خواجہ برادران، مفتاح اسمٰعیل اور دیگر رہنماوں کو پارلیمنٹ اور عدالتوں کے ذریعے رہائی نہیں دلوائی جا سکی تو ایسے حالات میں سوائے حکومت کو گھر بھیجنے کےلئے احتجاجی تحریک چلانے کے اور کوئی راستہ نہیں بچا جس کےلئے انکی جماعت تیار ہے۔ انہوں نے ایک سوال پرانہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف اس ملک کےلئے اپنا سب کچھ کھو چکے ہیں انکے پاس اب مزید کھونے کو کچھ نہیں اسلئے انہیں دنیا کی کوئی طاقت جھکنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ پرویز رشید نے کہ تمام آئینی ،جمہوری اور سیاسی ادارے اپنے حدود میں رہے تو پاکستان جدید ترین مملکت بن سکتا ہے۔ان کا کہنا تھاکہ تاریخ گواہ ہے کہ کوئی تحریک یا عمل محض تقریروں سے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا اسکےلئے میدانِ عمل میں اترنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری آج بھی پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں ،ان کی امید کو ختم ہونے سے قبل عملی اقدامات کئے جائیں۔

یورپ سے سے مزید