آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 20؍ربیع الاوّل 1441ھ 18؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ڈاکٹر راحت جبین

سہیل آج بھی اسکول جاتے ہوئے برگد کے پیڑ تلےرک گیا اور اپنا بستہ ایک طرف رکھنے کے بعد درخت پرچڑھنے لگا ۔اوپر پہنچ کر اس نے ٹہنی کے اوپر سےجھانک کر دیکھا ،جہاں ایک چڑیا کا خوبصورت گھونسلہ تقریبا تیار ہوچکا تھا ۔ اسے ایک انجانی سی خوشی محسوس ہوئی، اس کا تو جیسے سوا سیر خون بڑھ گیا۔وہ خوشی خوشی بستہ اٹھا کر اپنے اسکول کی سمت چل پڑا۔

سہیل شہر سےمتصل ایک گاؤں میں اپنے والدین کے ساتھ رہتا تھا۔ یہ ایک مضافاتی علاقہ ہے، جہاں گھنے جنگلات اور سرسبز میدان نےاس علاقے کی خوبصورتی میں چار چاند لگا دیے تھے۔اس علاقے کی زیادہ تر زمینیں چودھری رحمت علی کی ملکیت تھی۔اس نےیہاں ایک خوبصورت فارم ہاؤس بھی بنا رکھا تھا ۔شہر سےاکثر لوگ پکنک منانے فیملی سمیت یہیں آتےتھے۔ لوگوں کے یہاں پکنک پر آنے کی ایک خاص وجہ اس خوبصورت جنگل کا شہر کو ملانے والی سڑک تھی۔

سہیل کے والد اسلم ایک مزارع تھے۔ وہ ان کا اکلوتا بیٹا تھا ۔اسلم کو اپنے بیٹے کو پڑھانےکا اورڈاکٹر بنانے کابہت شوق تھا۔سہیل کا اسکول جنگل کےدوسری پار تھا۔ کچھ دن پہلے جب وہ یہاں سے گزر رہا تھا تو عین اسی وقت ایک پتنگ برگد کے درخت پر آکر اٹک گئی تھی ۔وہ پتنگ لینے کے لیے اس درخت پر چڑھا اور سامنے ایک چڑیا کو گھونسلہ بناتے دیکھا۔چڑیا گبھرا کر اڑ گئی ،مگر سہیل کے دل میں ایک شوق پیدا ہوا کہ اس نے ہر حال میں چڑیا کا مکمل گھر بنتے ہوئےدیکھنا ہے۔

اس طرح پچھلے کئی روز سے اس کا معمول تھا کہ ہر دو یا تین دن کے بعد ضرور ایک نظر اس پیڑ پر چڑھ کر دیکھتا تھا ۔اکثر اوقات تو وہ رک کر اس چڑیا کا انتظار بھی کرتا تھا جو اپنے لیے آشیانہ بنا رہی تھی۔ چند روز بعد اس نے اسکول سے واپسی پر یہاں سےگذرتے ہوئے چڑیا کے بچوں کی چہچہاہٹ سنی تو تجسس کے باعث درخت پر چڑھ گیا۔ اسے گھونسلے میں چڑیا کے چنےمنے بچے نظر آئے ۔ یہ دیکھ کر تو س وہ بہت خوش ہوا ۔ وہ جلدی جلدی اپنے گھر کی طرف بڑھا کہ امی کو یہ خوشخبری دے سکے۔

دن اسی طرح گذرتے رہے. اک دن یہاں سے گزرتے ہوئے سہیل کی نظر گاؤں کے زمیندار پر پڑی جو کچھ شہری لوگوں کے ساتھ کھڑا تھا وہ ان لوگوں کو ہاتھ کے اشارے سے زمینیں دکھا کر کچھ کہہ رہا تھا ۔دور ہونے کی وجہ سےاسے کو سمجھ نہیں آیا کہ کیا مسئلہ ہے،مگر دو دن بعد پورے گاؤں میں یہ بات مشہور ہوگئی کہ زمیندار نے اپنی یہ زمین فیکٹری بنانے کے لیے بیچ دی ہے۔

ایک دن اس کی امی کی طبیعت اچانک ناساز ہوگئ تو وہ والد کے ساتھ ان کو لے کر علاج کے غرض سے شہرگئے، جہاں اس کے تایا ابو برسوں پہلے روزگار کی تلاش میں شفٹ ہوگئے ۓ تھے۔والدہ کے آپریشن کے بعد تقریبأََ ایک مہینہ آرام کی وجہ سے انہیں شہر میں ہی رکنا پڑا ۔گرمیوں کی چھٹیوں کی وجہ سےسہیل کی پڑھائی کا حرج نہیں ہوا۔ 

 اس کا دل بھی وہاں لگ گیا کیونکہ شاہنواز جو اس کا تایازاد ہونے کے ساتھ اس کا ہم عمر بھی تھا .اس کی سنگت نےاسے بور ہونے نہیں دیا ۔ ایک ماہ بعد جب اس کی والدہ بالکل شفایاب ہوگئیں تو انہوں نےواپسی کے لیے رخت سفر باندھا۔

اگلے ہی دن وہ گاؤں کی طرف روانہ ہوئے۔یہ لوگ گاڑی سے اترکر پیدل گھر کی جانب چل پڑے۔ جب جنگلات والی جگہ پر پہنچے تو ششدر رہ گے ۔کیونکہ وہاں کا تو حلیہ ہی بدلہ ہوا تھا ۔درختوں کی جگہ جلے ہوئے پیڑ تھے۔ فیکٹری بنانے کی آڑ میں اس علاقے کے تمام درختوں کو نذر آتش کیا جا چکا تھا ۔اچانک یہ منظر دیکھ کر وہ انتہائی دکھی ہوئے۔ 

اچانک سہیل کے ذہن میں برگد کا بڑا پیڑ آیا تو وہ اپنے والدین کو رکنے کا کہ کر اس جگہ گیا، جہاں وہ درخت تھا،مگر وہ درخت ادھ جلا زمین پر پڑا تھااور چڑیا کے بچے جل کر مرگئے تھے ۔سہیل کا تو جیسے ضبط ٹوٹ گیا ۔وہ وہیں پر بیٹھ گیا اور چڑیا کے بچوں کو ہاتھ میں اٹھاکر رونے لگا ۔اسلم بیوی کو رکنے کا کہہ کراس کے پیچھے گیا۔ اسے زارو قطار روتادیکھ کروہ بھی آبدیدہ ہوگیا اور اپنے بچے کو تسلیاں دے کر گھر لے آیا۔

چھ سال بعدآج جب سہیل شہر سے ایم بی بی ایس کی ڈگری لے کر واپس گاؤں میں داخل ہوا تو اسے برگد کا پیڑ اور جلی ہوئی چڑیا کی یاد آئی ،مگر اب اس پورے علاقے میں کپڑے بنانے والی فیکٹری بن گئی تھی۔سہیل نے ایک کلینک کھولا۔

کچھ ہی دنوں میں کلینک پر لوگوں کا تانتا بندھ گیا۔اس گاؤں کے زیادہ تر لوگ دمے کی بیماری میں مبتلا تھےاور ان میں چودھری صاحب کی اہلیہ اور ایک بیٹا بھی شامل تھا ۔ سہیل کے ذہن میں برگد کا جلا ہواپیڑ ،چڑیوں کا آشیانہ اورننھے منے چڑیوںکی ادھ جلی لاشیں یاد آتیں اور ساتھ ہی فیکٹری اور دھویں کا غبار بھی جو یہاں کے لوگوں کی سانسوں سے ہوکر پھیپھڑوں تک جا رہا تھا۔

خدارا درخت کاٹنے سے پہلے یہ مد نظر رکھو کہ یہ ماحول کو خوبصورت اور آلودگی سے پاک رکھنے کے علاوہ بارشوں کا بھی ذریعہ ہیں اور گرمی کی شدت کو بھی کم کرنے کا سبب ہیں ۔ساتھ ہی یہ کسی پنچھی کا مسکن بھی ہوسکتے ہیں ۔جو دن بھر رزق کے لیے تگ و دو کرتے ہیں اور رات کو اپنے آشیانے میں آرام کرتے ہیں۔