آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ8؍ ربیع الثانی 1441ھ 6؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بھارتی تنظیموں کی جانب سے لیبر کو بلیک میل نہیں کیا جانا چاہئے، نذیر گیلانی

لندن (مرتضیٰ علی شاہ) جموں و کشمیر کونسل فار ہیومن رائٹس کے صدر ڈاکٹر سید نذیر گیلانی نے لیبر پارٹی کے چیئرمین ایان لیوری ایم پی پر زور دیا ہے کہ اگلے ماہ کے عام انتخابات میں برطانیہ میں بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ افراد کی فرقہ وارانہ اور کمیونل بنیادوں پر مداخلت کی کوششوں سے لیبر کو بلیک میل نہیں کیا جانا چاہئے۔ ڈاکٹر سید نذیر گیلانی نے لیبر چیئر کےنام یہ خط برطانیہ کے عام انتخابات میں بھارتی حکومت کی اوورسیر فرینڈز آف بی جے پی کےذریعے مداخلت کی کوششوں کے الزامات سامنے آنے کے بعد لکھا، جس کا مقصد کم از کم 50 لیبر ایم پیز کو نشستوں سے محروم کرنا ہے۔ بھارت کی جانب سے یہ کوشش رواں سال کی لیبر پارٹی کانفرنس میں کشمیر ایمرجنسی موشن کی منظوری کے ردعمل میں کی جا رہی ہے۔ لیبر چیئر نے 11 نومبر 2019 کو انڈین آرگنائزیشنز کو خط بھی لکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری اچھے کمیونٹی تعلقات کے سوال پر انڈین ڈیاسپورا کے خیالات کا احترام کرتے ہیں لیکن یہ مساوات کی بنیاد پر ہوناچاہئے نہ کہ

سیاسی بلیک میلنگ کی قیمت پر۔ انہوں نے لکھا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ بھارتی ڈیاسپورا کے یہ گروپ آر ایس ایس کے ہندوتوا کے پروگرامز کو آگے بڑھا اور کشمیر کی صورت حال کو غلط انداز میں پیش کر رہےہیں۔ کمیونٹی ہم آہنگی پر ان کی تشویش کیموفلاج ہے اور آپ کو لیبر پارٹی کے بارے میں ان مذموم اداروں کو جانچنے پر غور کرنا چاہئے۔ درحقیقت یہ خط کمیونٹی ہم آہنگی کیلئے آفنس ہے اور ہمارے جیسے لوگ، جو حقوق انسانی کے فروغ اور تحفظ کیلئے کام کر رہے ہیں، یہ سمجھتے ہیں کہ کشمیر کی صورت حال کو غلط انداز میں پش کرنا انتہائی آفنسیو ہے۔ گیلانی نے مزید کہا کہ بھارت نے 5 اگست 2019 کو ہمارے بھائیوں، بہنوں اور بوڑھوں کو دوبارہ جارحیت کر کے قید کر دیا ہے۔ بھارتی فوج کی چار باہمی اور اقوام متحدہ کی تین رسٹیرینز کی اپنی تعداد رویئے اور لوکیشن کے حوالے سے خلاف ورزیاں کر رہی ہے۔ کشمیری عوام کے ساتھ 900000 بھارتی فوجی جنگ میں مصروف ہیں۔ جن کو اقوام متحدہ گزشتہ 72 برسوں سے جانتی ہے اور انہیں جموں و کشمیر کے عوام قرار دیا جاتا ہے جو کہ آرادانہ محفوظ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے اپنے حق خود اردایت کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ لیجنڈ عوام ہیں، برف سے ڈھکے پہاڑوں، خوبصورت وادیوں اور زندگی فراہم کرنے والے پانیوں کی کہانیاں اور گیت ہیں۔ جے کے سی ایچ آر کے صدر نے مزید کہا کہ میں برطانیہ کے کشمیری، پاکستانی، بنگلہ دیشی اور انڈین اوریجن کے ووٹرز دوسرے ملکوں سے تعلق رکھنے والے وسیع تر حلقہ انتخاب کے ووٹرز کے ساتھ شامل ہوں جو کشمیری عوام کے آلام و مصائب اور مشکلات سے ہمدردی رکھتے ہیں اور وہ برٹش پارلیمنٹ، یورپین پارلیمنٹ، یو ایس کانگریس میں اس کی گواہی دیتے ہیں اور وہ دسمبر میں ہونے والے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کیلئے اچھی خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔ مہربانی کر کے بطور انٹرنیشنل پارٹی اس روایت کو جاری رکھیں اور اس موقف کا دفاع کریں جو کہ کلیمنٹ ایٹلی اور برطانوی حکومت نے کشمیر پر اختیار کیا ہے۔ لیبر چیپئر کو لکھے گئے خط کی کاپی لیبر لیڈر جیرمی کوربن، ایم پیز، ہائی کمشنر آف ہیومن رائٹس، پیلس ڈی نیشنز جینیوا، ہائی کمشنر آف پاکستان لندن اور یو کے الکٹورل کمیشن کو بھی بھیجی گئی ہے۔

یورپ سے سے مزید