آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر24؍جمادی الاوّل 1441ھ 20؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

گزشتہ دنوں اسلامک بینکنگ پر انسٹی ٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ کے زیر اہتمام چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کیلئے اسلامک بینکنگ کی ضرورت پر ایک کانفرنس منعقد کی گئی جس میں ملک کے ممتاز اسکالرز، بینکرز، معیشت دان اور انسٹی ٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ (IBM)کے ریکٹر، فیکلٹی ممبرز اور ایم بی اے کے طلبا و طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مجھے بھی اس کانفرنس میں پریزنٹیشن دینے کیلئے مدعو کیا گیا تھا حالانکہ اس دن صبح نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے 100 سے زائد اعلیٰ فوجی افسران میجر جنرل عنایت کی سربراہی میں فیڈریشن آئے تھے جس میں انہوں نے ملکی معیشت پر تفصیلی گفتگو کی جو اُن کے وار کورس کا حصہ تھی جس کے بعد میں نے اسلامک بینکنگ کانفرنس میں اپنی پریزنٹیشن دی جو نذر قارئین ہے۔

یہ جاننے کے بعد کہ سودی بینکاری اور کاروبار اللہ تعالیٰ سے جنگ ہے، میں نے اپنے دوست یو ایس ایپرل کے جاوید بھٹی کے مشورے پر سودی نظام سے نجات حاصل کرلی ہے جس سے مجھے کاروبار میں برکت کے علاوہ زندگی میں سکون حاصل ہوا ہے۔ اسلامی بینکاری جسے غیر سودی مالیاتی نظام کہا جاتا ہے، پاکستان سمیت دنیا میں نہایت تیزی سے فروغ پارہا ہے۔ ملائیشیا، سعودی عرب اور مصر میں غیر سودی اداروں کی تحریک چلی جو بعد میں اسلامک ڈویلپمنٹ بینک کے قیام کی وجہ بنی۔ 1975سے 1990تک اسلامی بینکاری کا سفر کچھ اس طرح ہے کہ 70اور 80کی دہائی میں اسلامک بینکنگ اکائونٹ کھولنا، رقم کی منتقلی اور لوگوں کو اسلامی سرمایہ کاری و تجارت کیلئے مشورے دینا شامل تھا۔ 1980سے 1990کے دوران اسلامی بینکنگ میں میوچل فنڈز، تکافل اور اسلامک بونڈز جاری کئے گئے جبکہ 1990سے 2010کے دوران اسلامک بینکنگ کو غیر معمولی فروغ حاصل ہوا اور وینچر کیپیٹل، مائیکرو فنانس، پروجیکٹ فنانس، ایکویٹی فنانس، رئیل اسٹیٹ، کموڈٹی مارکیٹ اور کارپوریٹ بینکنگ جیسی سرگرمیاں عمل میں آئیں۔

آج اسلامی بینکاری کا دخل مالیات کے ہر شعبہ میں ہے۔ دنیا کے ہر بڑے بینک نے اسلامی بینکاری کا علیحدہ شعبہ قائم کر رکھا ہے۔ ملائیشیا نے اپنے یہاں اسلامی اور غیر اسلامی دونوں نظام معیشت رکھے ہوئے ہیں۔ دنیا میں اسلامک بینکنگ کی گروتھ کا جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ غیر سودی نظام دنیا میں تیزی سے ترقی کررہا ہے۔ دنیا کے 56ممالک میں اسلامک بینکنگ کی گروتھ پر اسلامک فنانس ڈویلپمنٹ رپورٹ 2018کے مطابق اسلامک فنانس انڈسٹری دنیا میں 11فیصد گروتھ کے ساتھ 2.4کھرب ڈالر کے اثاثوں تک پہنچ گئی ہے۔ 70سے زائد ممالک میں 90اسلامک بینکوں کی 1200سے زائد برانچیں، مضاربہ اور میوچل فنڈز قائم ہیں۔ دنیا میں اسلامک بینکنگ کی مجموعی مالیت 16.3کھرب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے۔ دنیا کے 131ممالک میں اسلامک بینکاری میں ایران پہلے نمبر پر، ملائیشیا دوسرے، سعودی عرب تیسرے اور پاکستان چوتھے نمبر پر ہے۔

پاکستان میں اسلامک بینکاری کا نظام 1980میں شروع ہوا اور آج موجودہ بینکاری نظام میں اسلامک بینکنگ کا حصہ 15فیصد ہے۔ اس وقت ملک میں 6 اسلامک بینک ہیں جن کی ملک بھر میں 200سے زائد شاخیں کام کررہی ہیں جن کے مجموعی اثاثے 2.8 کھرب روپے اور ڈپازٹس 2.2کھرب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامک بینکنگ میں ایس ایم ایز، ایگریکلچرل، ایکسپورٹ اور مائیکرو فنانسنگ میں نئے پروڈکٹس متعارف کرائے جائیں کیونکہ غریب کاشتکار اب بھی مڈل مین سے 30سے 35فیصد شرح سود پر فصل گروی رکھواکر قرضے لے رہا ہے اور اس کی تمام آمدنی قرضوں اور سود کی ادائیگی میں ختم ہوجاتی ہے۔میں نے مائیکرو فنانس کے تحت چھوٹے قرضوں کیلئے بنگلہ دیش کے شریعہ اصولوں پر قائم گرامین بینک کا حوالہ دیا جس میں 5لوگوں کے گروپ کو ایک دوسرے کی گارنٹی دینے پر قرضے دیئے جاتے ہیں جو نہایت کامیاب ہے جبکہ افریقہ اور لاطینی امریکہ میں مائیکرو فنانس کے ماڈل ’’ویلیج بینک‘‘ میں 30سے 35افراد کے گروپ کو آپس کی ضمانت پر قرضے دیئے جاتے ہیں۔ مائیکرو فنانس کا تیسرا ماڈل کریڈٹ یونین ہے جو ایشیااور سری لنکا میں مقبول ہے جبکہ انڈونیشیا میں اسے ’’بیت المال‘‘ کہا جاتا ہے۔ مائیکرو فنانس کا چوتھا ماڈل سیلف ہیلپ گروپ ہے جو بھارت میں مقبول ہے جس میں 10سے 15افراد اپنی جمع پونجی آپس میں جمع کرکے مشترکہ سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ میں نے اس بات پر زور دیا کہ اسٹیٹ بینک چھوٹے درجے کی صنعتوں کیلئے اسلامک بینکوں کو فنانسنگ کے اہداف دے تاکہ ایس ایم ایزکو فروغ دیا جاسکے۔

میرا یہ ذاتی مشاہدہ ہے کہ میرے وہ تمام بزنس مین دوست جنہوں نے سودی بینکاری سے نجات حاصل کرکے اسلامی بینکاری نظام اپنایا ہے، اللہ تعالیٰ نے اُن کے رزق اور کاروبار میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ خیر وبرکت عطا فرمائی ہے۔ قارئین سے میری درخواست ہے کہ وہ روایتی سودی بینکاری نظام سے جلد از جلد نجات حاصل کرکے اسلامک بینکاری نظام اپنائیں کیونکہ یہ انصاف اور برابری کے بنیادی اصولوں کے مطابق ہے جبکہ اسکے برعکس سودی بینکاری کے سبب آج امریکہ، یورپ اور یونان جیسے ممالک مالیاتی بحران کا شکار ہیں۔ اگر آج آپ نے اسلامک بینکاری نظام اپنالیا تو اللہ تعالیٰ نہ صرف آپ کے رزق میں خیر و برکت عطا فرمائے گا بلکہ آپ کا یہ عمل اللہ اور رسولﷺ کی خوشنودی کا سبب بھی بنے گا۔

ادارتی صفحہ سے مزید