آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل25؍جمادی الاوّل 1441ھ 21؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اتوار۔ گھر داری کے ساتھ محلے داری کا دن

اچھا لگتا ہے اتوار جلدی جلدی آجاتا ہے۔

آپ کو مجھے اپنی اولادوں کے ساتھ بیٹھنے باتیں کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ اب تو کراچی میں بھی ہلکی ہلکی سردی شروع ہوگئی ہے۔ صبح فجر پڑھنے جائیں تو مسجد کا ٹھنڈا ٹھنڈا صحن بہت بھلا لگتا ہے۔ اسی خنک فضا میں سیر چمن اور زیادہ لطف دیتی ہے۔ اب تو بچوں سے ملنے ملانے کا اتوار کا سلسلہ بہت پھیل گیا ہے۔ آج کل کی اصطلاح میں وائرل ہوگیا ہے۔ محسوسات وہی ہوتے ہیں۔ اصطلاحات بدل جاتی ہیں۔ آدمی اندر سے اتنا ہی نفیس یا کمینہ ہوتا ہے لیکن اس کے القاب بدل جاتے ہیں۔ خیر ہم اس بے نتیجہ بحث میں کیوں پڑیں۔

آپ یقینا آج اپنے بیٹوں بیٹیوں پوتوں پوتیوں نواسوں نواسیوں کے ساتھ بیٹھے ہوں گے۔ یہ بتائیے کہ ان کے ساتھ ناشتہ کرتے ہیں یا دوپہر کا کھانا۔ اتوار کو حلوہ پوری۔ چنوں کا ناشتہ کراچی میں بھی پھر مقبول ہوگیا ہے۔ ناشتے کے لیے صبح سویرے اٹھنا ضروری نہیں ہے۔ بارہ ایک بجے تک یہ ناشتہ چلتا رہتا ہے۔ چار ستارہ۔ پانچ ستارہ ہوٹل اسی تاخیری ناشتے کو ’برنچ‘ کا نام دیتے ہیں۔ بے چارے غریب تو ہر روز ہی برنچ کرتے ہیں۔ دو وقت کی روٹی کے لیے محنت کرتے ہیں۔ ناشتہ۔ دوپہر۔ رات کا کھانا ان کے ہاں تصوّر نہیں ہے۔ آپ کے علم میں ہی ہوگا کہ عام طور پر بڑے ہوٹلوں میں بستر کے ساتھ ناشتہ منسلک ہوتا ہے۔ یعنی ناشتے کا بل نہیں لیا جاتا۔ ہم نے دیکھا ہے بڑے بڑے ارب کھرب پتی ناشتہ خوب جم کر کرتے ہیں۔ انواع و اقسام کی اشیا دستر خوان پر موجود ہوتی ہیں۔ پھر انہیں لنچ کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس لیے کم آمدنی والوں کو احساس کمتری میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ امیر کبیر بھی دو وقت کی روٹی پر ہی گزارا کرتے ہیں۔

کراچی میں کتاب میلہ سجا ہوا ہے۔ بچے بزرگ خواتین مائیں بہنیں۔ وہیل چیئرز والے۔ بچہ گاڑیوں میں ننھے پاکستانی۔ ہزاروں کی تعداد میں آرہے ہیں۔ ایکسپو کے تینوں ہال بھرے ہوئے ہیں۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے ہمت کی اور مہمان خصوصی کی حیثیت سے اس کا افتتاح کیا۔ کتاب سے اپنے تعلق کی داستانیں سنائیں۔ این ای ڈی یونیورسٹی میں زیادہ سے زیادہ 2کتابیں مستعار لی جاسکتی تھیں۔ اور ڈگری کے حصول کے وقت لائبریرین سے این او سی لیے بغیر ڈگری نہیں مل سکتی تھی۔ امریکہ کی یونیورسٹی میں اسی تاثر کے تحت وہ لائبریرین سے پوچھنے لگے۔ کتنی کتابیں لے سکتے ہیں۔ اس نے ترنت جواب دیا۔ جتنی اٹھا سکتے ہو۔ اس یونیورسٹی سے پچاس ساٹھ کتابیں انہوں نے نکلوالی تھیں۔ وہاں ڈگری کے حصول کے لیے لائبریرین سے این او سی کی شرط نہیں تھی۔ ڈگری مل گئی۔ مگر انہوں نے وہ کتابیں اپنے طور پر واپس کردیں۔ بک سیلرز پبلشرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عزیز خالد نے میرے حوالے سے سندھ کی لائبریریوں کی زبوں حالی کا ذکر کیا۔ اس کا وزیر اعلیٰ نے واضح جواب نہیں دیا۔ پنجاب میں سرکاری لائبریریوں کی صورت حال بہتر بتائی جاتی ہے کہ وہاں اچھی کتابیں چار سے پانچ سو تک لائبریریاں خرید لیتی ہیں۔ بعض پبلشر اس لیے کتابوں کی قیمتیں زیادہ بھی رکھ لیتے ہیں ۔ سندھ میں کتابوں کی خریداری بہت کم ہے۔ بلکہ کتابیں خریدنے پر مامور اپنے طور پرکچھ کتابیں چھاپ کر انہیں فہرست میں شامل کروالیتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ اگر یہ کالم پڑھتے ہیں تو اس طرف توجہ دیں کہ کتابیں منتخب کرنے کے لیے مصنّفوں۔ اساتذہ کی ایک کمیٹی بنادیں۔ وہ کتابیں پڑھ کر منظوری دیں۔ تینوں ہالوں میں رونقیں لگی ہوئی ہیں۔ بہت اچھا لگتا ہے ۔ اسکولوں کی ننھی منی بچیاں۔ کالجوں کے منہ زور لڑکے۔ یونیورسٹیوں کے عشاق کتاب۔ دینی مدارس کے سر پر ٹوپی۔ کندھے پر رومال لٹکائے کتابوں کی ورق گردانی کرتے ہوئے۔ یہ سب اس نعرے کی تردید کررہے ہوتے ہیں۔ کہ کتابیں نہیں بکتیں۔

اس بار میں اتوار کے لیے آپ کی ایک اور مصروفیت تجویز کرنا چاہتا ہوں کہ صبح صبح یا دوپہر کو تو اپنی اولادوں سے مل لیں۔ ان کے سوالات سنیں۔ تسلی بخش جواب دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آج کے دن کو اپنے محلے داروں سے ملنے کا دن بھی بنائیں۔ آپس میں ملیں۔ ایک دوسرے کا درد جانیں۔ آج صرف اپنے بچوں اور محلے داروں سے ملیں۔ عمران خان۔ میاں محمد نواز شریف۔ آصف علی زرداری۔ بلاول زرداری۔مولانا فضل الرحمٰن سے ان کے محلے والے باتیں کریں۔ ان کی باتوں کے لیے ہفتے کے چھ دن کافی ہیں۔ آج محلے والوں سے ملیں۔اپنے محلے کے معاملات درست کریں۔ مل جل کر فیصلہ کریں کہ اپنے محلے کے حقوق حاصل کرنے ہیں ۔ جن کی بھی ذمہ داری ہے۔ ان سے ملیں گے زور دیں گے۔ محلے کی حفاظت۔ صفائی۔ اچھا ماحول۔ سبزہ۔درخت سب مل جل کر اس کے لیے پروگرام بنائیں۔ محلے میں اگر کوئی لینڈ مافیا۔ واٹر مافیا۔ ٹرانسپورٹ مافیا ہے ۔ وہ محلے میں بدمعاشی کرتے ہیں ۔ یا شہر والوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں تو محلے والے مل کر ان کا حقہ پانی بند کریں۔ ان کے خلاف متحد ہوجائیں۔ ملنے کے لیے اگر کوئی کمیونٹی ہال ہے تو وہاں اکٹھے ہوں۔ کسی پارک میں مل لیں۔ ورنہ مسجد تو ہوگی۔ نماز عصر کے بعد وہاں بیٹھ جائیں۔ ایک دوسرے کے مسائل جانیں۔ کوئی بیمار ہے تو اس کے لیے صرف دُعا پر اکتفا نہ کریں۔ گھر جاکر تیمارداری کریں۔ علاج میں کوئی رکاوٹ ہے اسے دور کریں۔ جاتے ہوئے پھل وغیرہ لے جائیں۔ کوئی تھانہ کچہری میں پھنسا ہوا ہے اس کی معاونت کریں۔ یقین جانیے یہ محلے داری آج کے مشینی دَور کی تنہائیوں۔ بے کسیوں۔ بلڈ پریشر۔ بے بسی کا بہترین تدارک ہے۔ محلے والے آپس میں مل کر اپنے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ کونسلر۔ افسر سے ملیں گے تو یقینا ان پر دبائو بڑھے گا۔ وہ غفلت اور بے حسی ترک کریں گے۔ آپ کے محلے میں سیاسی پارٹیوں کے دفاتر ہیں تو ان سے بھی ملیں اور جب الیکشن کا ناقوس بجے تو محلے والے مل کر فیصلے کریں کہ کس کا ساتھ دینا ہے۔ اور کونسے مسائل حل کروانے ہیں۔ ہاں یہ تو بتائیں آپ کے محلے میں کوئی لائبریری ہے ؟

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)