• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
حامد میر
سندھ کی روایات کے مطابق شادی شدہ عورتوں کو موت کے بعد سسرال کے قبرستان میں دفن کیا جاتا ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے بھی شادی کے بعد سندھی عورتوں کی طرح آصف علی زرداری سے وعدہ کیا تھا کہ وہ مرنے کے بعد اس قبرستان میں دفن ہوں گی جہاں ان کے شوہر کو دفن ہونا ہے۔ اس وعدے کے مطابق محترمہ بینظیر بھٹو کو زرداری خاندان کے نواب شاہ میں واقع پانچ سو سال پرانے قبرستان میں دفن ہونا تھا۔ موت سے چند دن پہلے محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے شوہر سے درخواست کی کہ وہ انہیں اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کے پہلو میں دفن ہونے کی اجازت دے دیں۔ شوہر نے اپنی بیوی کی التجا سن کر اسے کہا کہ وہ موت کی باتیں نہ کرے لیکن بیوی نے شوہر سے پھر کہا کہ وہ ہاں یا ناں میں جواب دے۔ آصف علی زرداری نے بیوی کو اپنے والد کے پہلو میں دفن ہونے کی اجازت دے دی لیکن اس کے بعد وہ اپنی بیوی کی زندگی کے بارے میں پریشان رہنے لگے۔ 16 اکتوبر 2007 کو محترمہ بینظیر بھٹو نے صدر پرویز مشرف کے نام خط لکھا اور اس خط میں اپنی زندگی کو درپیش خطرات کے بارے میں انہیں آگاہ کیا۔ اسی دن انہوں نے اپنی آخری وصیت تحریر کی اور اسے بلاول کے حوالے کر دیا۔
دو دن بعد وہ پاکستان پہنچیں تو 18 اکتوبر کو کراچی میں ان کے جلوس پر بم سے حملہ ہوا جس میں ڈیڑھ سو سے زائد لوگ موت کے منہ میں چلے گئے۔ اس واقعے کے بعد آصف زرداری فوری طور پر پاکستان آنا چاہتے تھے لیکن محترمہ بینظیر بھٹو نے انہیں روک دیا۔ آصف زرداری نے دنیا کے سامنے ابھی تک آنسو نہیں بہائے، شاید وہ مخالفوں کے سامنے کمزور نظر نہیں آنا چاہتے تھے لیکن نوڈیرو کے بھٹو ہاؤس میں اس خاکسار کے سامنے اپنی بیوی کی باتیں کرتا ہوا یہ شوہر کئی مرتبہ آبدیدہ ہو گیا۔ رات کے گیارہ بج رہے تھے اور تھکا ماندہ آصف علی زرداری مجھے بتا رہا تھا کہ 25 جنوری کو ان کی بیٹی بختاور کی 18 ویں سالگرہ ہے۔ بختاور کی ماں کو پتہ تھا کہ 25 جنوری 2008 کو وہ زندہ نہیں ہوں گی لہٰذا ماں نے بیٹی کی سالگرہ سے کئی ہفتے قبل ہی اسے سالگرہ کی نیک تمنائیں بلکہ سالگرہ کا تحفہ بھی پہنچا دیا۔ بیٹی کافی حیران ہوئی کہ اس کی ماں سالگرہ سے کئی دن پہلے ہی اسے سالگرہ کا تحفہ کیوں دے رہی ہے لیکن ماں نے بیٹی کو سوال کا موقع دیئے بغیر ہدایت کی کہ وہ اپنی تعلیم پر توجہ دے اور چھوٹی بہن آصفہ کا خیال رکھے۔ آصف زرداری بتا رہے تھے کہ موت سے چند دن قبل محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے کچھ قریبی ساتھیوں کو اس قسم کے اشارے دیئے کہ وہ اپنے والد کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر 5 جنوری کو ان کے ساتھ نہیں ہوں گی۔ ان کی اس قسم کی گفتگو سے آصف زرداری مسلسل پریشان تھے۔ 26 دسمبر کو پشاور میں ہونے والے بم دھماکے نے اس پریشانی کو مزید بڑھا دیا۔ اسی شام آصف زرداری نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو فون کیا اور کہا کہ وہ پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے ایک دفعہ پھر انہیں روکا لیکن اس مرتبہ آصف زرداری واپسی کے لیے ضد کر رہے تھے لہٰذا طے پایا کہ آصف زرداری 28 دسمبر کو پاکستان واپس آئیں گے۔ وہ 28 دسمبر کو پاکستان واپس آ گئے لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو کی انتخابی مہم میں شامل ہونے کے لیے نہیں بلکہ (شاید) انہیں ان کی خواہش کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو کے پہلو میں دفن کرنے کے لیے واپس آئے۔
آصف علی زرداری جانتے ہیں کہ بہت سے لوگ انہیں پاکستان پیپلزپارٹی کا شریک چیئرمین بنائے جانے پر تحفظات رکھتے ہیں۔ آصف زرداری کو یہ بھی احساس ہے کہ وہ بھٹو نہیں ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے کچھ سوچ سمجھ کر ہی پارٹی کی سربراہی میرے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا۔ شاید اس لیے کہ میں نے گیارہ سال جیل میں گزارے اور اس دوران پارٹی کارکنوں سے میرا مسلسل رابطہ رہا، شاید اس لیے بھی کہ مستقبل میں پاکستان کی سلامتی کو درپیش خطرات کا محترمہ بے نظیر بھٹو کو اندازہ تھا۔ وہ جانتی تھیں کہ ان کی شہادت سے ایک بار پھر صوبائی منافرت کو ہوا ملے گی اور انہیں میری صورت میں وہ شخص نظر آیا جو پنجابیوں، بلوچوں اور پختونوں کی دوستی پر ناز کرتا ہے۔ آصف زرداری کہتے ہیں کہ انہوں نے 20 سالہ ازدواجی زندگی کے گیارہ سال جیل میں گزارے، پانچ سالہ اقتدار میں اور چار سال اپوزیشن میں گزارے اور ان کا آئندہ کردار وزیراعظم کا نہیں بلکہ پیپلزپارٹی کے رکھوالے کا ہے۔ وہ وفاق کی سیاست کو قائم رکھنا چاہتے ہیں۔
آصف زرداری کے ساتھ تعزیت کے بعد اگلی صبح میں نوڈیرو سے کچھ فاصلے پر واقع گڑھی خدا بخش پہنچا اور محترمہ بینظیر بھٹو کی قبر پر فاتحہ پڑھی۔ یہاں عجیب و غریب مناظر دیکھنے کو ملے۔ کچھ لوگ قرآن خوانی کر رہے تھے، کچھ لوگ زاروقطار رو رہے تھے اور چوہدری اعتزاز احسن کی اہلیہ گم صم بیٹھیں قبر پر ڈالے جانے والے پھولوں کے پیچھے سے محترمہ بے نظیر بھٹو کا چہرہ تلاش کر رہی تھیں۔ حبیب اللہ شاکر کی سربراہی میں آنے والا ملتان بار ایسوسی ایشن کا وفد جئے بھٹو کے ساتھ عدلیہ کی آزادی کے حق میں نعرے بلند کر رہا تھا۔ پیپلزپارٹی پشاور ڈویژن کے صدر ظاہر علی شاہ گلوگیر لہجے میں بتا رہے تھے کہ کس طرح محترمہ بے نظیر بھٹو نے 16 اکتوبر کو کراچی میں چارسدہ کے رہنے والے خوانچہ فروش دیار خان کی بیوہ سے ملاقات کی خواہش کی۔ کس طرح چارسدہ میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے دیار خان کی بیوی کے ساتھ دو گھنٹے ملاقات کی۔ اس بے گھر عورت کی چھ بچیوں کے لیے مکان کا انتظام کیا اور ظاہر علی شاہ کو اس کا ہمیشہ کے لیے خیال رکھنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ نے کوتاہی برتی تو روز قیامت آپ کا گریبان پکڑوں گی۔ ظاہر علی شاہ کی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسو گڑھی خدا بخش کے ایک مقبرے میں واقع چار قبروں کی کہانی سنا رہے تھے۔ یہ کہانی جمہوریت کے لیے دی جانے والی قربانیوں کے گرد گھومتی ہے۔ ان چاروں قبروں پر فاتحہ خوانی کرنے والوں کا تعلق پاکستان کے چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات سے نظر آتا ہے۔ ان قبروں میں دفن دو سابق وزرائے اعظم بعد از شہادت بھی وفاق کی علامت ہیں۔ پیپلزپارٹی کی قیادت اور کارکنوں کی بڑی اکثریت بدستور وفاق کی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔
پیپلزپارٹی کے امیروغریب کارکن اپنی لیڈر محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد فاتحہ خوانی کے لیے آنے والوں کی ہر ممکن میزبانی میں مصروف ہیں۔ کوئی شک نہیں کہ مہمانوں کی زیادہ تعداد بڑے صوبے پنجاب سے آرہی ہے۔ میں نے سید خورشید شاہ اور ان کے ساتھیوں کو سارا سارا دن پنجاب سے آنے والوں کی خدمت کرتے دیکھا ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ اسی خورشید شاہ سے کئی سندھیوں نے پوچھا کہ ان کے لیڈروں کی لاشیں بار بار پنجاب سے کیوں آتی ہیں تو وہ صبر کی تلقین کرتے رہے اور جب سوال کرنے والوں کے لہجے سخت ہو گئے تو شاہ صاحب نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ اللہ کے واسطے شہید بھٹو اور شہید بے نظیر کا راستہ مت چھوڑنا۔ ان دونوں نے پاکستان کے لیے جان دی اور ہمیں بھی پاکستان کے لیے جان دینی ہے۔ مخدوم امین فہیم سے نثار کھوڑو تک اور آفتاب شعبان میرانی سے صفدر عباسی تک پیپلزپارٹی کے سندھی لیڈروں کو روزانہ ایسے نوجوان ملتے ہیں جو پوچھتے ہیں کہ انہیں انصاف کب ملے گا؟ سکھر، نوڈیرو اور لاڑکانہ میں گزارے گئے تین دنوں میں مجھے کچھ ایسے نوجوان بھی ملے جو پنجابیوں کے حق میں بیان دینے پر آصف زرداری سے ناراض تھے۔ ان نوجوانوں نے مجھے محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ہونے والی لوٹ مار اور ہنگاموں کے متاثرین سندھیوں سے ملوایا۔ ان میں کئی سندھی پیپلزپارٹی کے کارکن تھے لیکن مشتعل کارکنوں کو روکنے کی کوشش میں اپنی املاک سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ شکارپور سے نوڈیرو جانے والی سڑک کے دونوں اطراف مسلم لیگ (ق) کے امیدوار برائے قومی اسمبلی غوث بخش مہر کے بینرز اور بورڈز بھی سلامت ہیں لیکن انہیں میڈیا نے اہمیت نہیں دی اور صرف جلاؤ گھیراؤ دکھایا۔ سندھی نوجوانوں کا غصہ اور شکوے شکایتیں ایک سیاسی حقیقت ہیں اور اس حقیقت کو محسوس کرنے کے لیے پنجاب کے صحافیوں کو اندرون سندھ کا دورہ ضرور کرنا چاہیئے۔ اندرون سندھ کے دورے سے احساس ہوتا ہے کہ جس پیپلزپارٹی کے مخالفین اس پر پاکستان توڑنے کا الزام لگاتے رہے آج پاکستان بچانے کے لیے وہ پیپلزپارٹی کتنی ضروری ہو چکی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سندھیوں کے لیے ایک گہرا زخم تھا۔ بے نظیر بھٹو اس زخم کا مرہم تھیں۔ اب یہ مرہم بھی نہیں رہا اور زخم مزید گہرا ہو گیا ہے۔ اس سے پہلے کہ زخم بگڑ کر ناسور بن جائے پنجاب کو اس زخم کا مرہم بننا ہو گا۔ (7 جنوری 2008)
تازہ ترین