آپ آف لائن ہیں
منگل20؍ذی الحج 1441ھ 11؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پاکستان قونصل خانہ جدہ اور سعودی وزارت محنت کے تعاون سے پاکستانی محنت کشوں کے واجبات کی ادائیگی کا فیصلہ

پاکستان قونصل خانہ جدہ اور سعودی وزارت محنت کے تعاون سے پاکستانی محنت کشوں کے واجبات کی ادائیگی کا فیصلہ
قونصل جنرل خالد مجید، نائب قونصل شائق بھٹو اور ارشد منیر

پاکستان قونصل خانہ جدہ اور سعودی وزارت محنت کے تعاون سے سعودی بن لادن گروپ کے سابق 300 پاکستانی محنت کشوں کے واجبات کی ادائیگی کا فیصلہ سعودی عدالت نے سنادیا ہے، جس کے نتیجے میں 8لاکھ ریال کی رقم انہیں بہت جلد ان تک پہنچا دی جائے گی۔ یہ بات قونصل جنرل پاکستان خالد مجید نے میڈیا بریفنگ میں بتائی،قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ ویلفئیر اور پاسپورٹ کے عملہ نےنومبر، دسمبر کے دوران مشین ریڈ ایبل 200، امیگریشن ایمرجنسی پاس جاری کرکے 8000 پاکستانیوں کے ڈپارچر کو فیسیلیٹیٹ کیا ہے جبکہ ریمنٹنس کارڈ 250، جیلخانہ کے 12 وزٹ فی ماہ قونصلر ایکسز 200، لوکل دیتھ 464 این اوسی دوماہ مین جاری کئے گئے۔250000 لوگوں کو قانونی طور پہ انہیں سہوتیں فراہم کی گئی ہیں۔ 

مزید متاثرہ ورکرز کے بقایہ جات کروڑوں روپےکے چیک کورٹ سے ملنے والے ہیں۔پاکستانیوں کے مسائل کے لیے بغیراجازت حج، عمرہ ویزہ پر غیرقانونی قیام کرنیوالے یا کسی کفیل کی فوتگی ہوگئ یا ایسی کمپنی جن کے کمپیوٹر بند ہیں، غیرسرکاری اسپتالوں میں داخل بیمار افراد کی سرکاری اسپتالوں میں منتقلی میں سہولتیں فراہم کی گئیں ہیں، سعودیوں کے لیےنئے ویزوں کے اجراء کو آسان بنایا ان میں بزنس، وزٹ اور دیگرویزے ترجیحی بنیادوں پر جاری کئے جائیں گے،جوایک ہی دن کے اندر جاری کئے جارہے ہیں تاہم دستاویزات کا مکمل ہونا ضروری ہے۔

خالد مجید نے کہا کہ کئی کنسٹرکشنز کے کیسز میں جن پاکستانیوں کے کیس کئی سال قبل سعودی عدالت میں داخل کئے گئے تھے جسے ویلفیئر شعبے کے نمائندے اب بھی مسلسلفالو کررہے ہیں، انہوں نے کہا کہ قونصل خانہ نے سعودی جیلوں میں مختلف سزاؤں میں قید پاکستانیوں کی وطن واپسی کیلئے ضروری دستاویزات کی فراہمی اور درجنوں پاکستانیوں کو قونصلر سروسز فراہم کی ہے ۔اس موقعے پر نائب قونصل جنرل شائق بھٹو،قونصل پریس ارشد منیر، قونصل ویلفیئر ماجد میمن ،قونصل پاسپورٹ احمد حسن اور کمرشل قونصل عبدالوحید شاہ بھی موجود تھے۔

بلادی سے مزید