آپ آف لائن ہیں
اتوار11؍شعبان المعظم 1441ھ 5؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

عرب گولف ٹورنامنٹ 20 فار یوتھ اور الیون فار گرلز مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے ڈریم لینڈ سٹیڈیم میں منعقد ہوگا ،جس میں سعودی گالف آرگنائزیشن شرکت کرے گی۔ اس ٹورنامنٹ کی خاص بات یہ ہے کہ سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی بار لڑکیوں کی ٹیم گالف ٹورنامنٹ میں حصہ لے گی۔اس ٹورنامنٹ میں 2 اور ٹیمیں شریک ہوں گی جن میں سے ایک 15سال اور دوسری 13برس سے کم عمر کے لڑکوں پر مشتمل ہوگی۔

عرب گالف ٹورنامنٹ میں لڑکیوں کی سعودی ٹیم فاتن القحطانی، رغدہ العیساوی اور لیلی التلمسانی پر مشتمل ہے۔15برس سے کم عمر کے لڑکوں کی ٹیم میں علی البابطین اور 13برس سے کم عمر کے لڑکوں کی ٹیم میں عمر التلمسانی، عبدالعزیز المدیمیغ اور خالد المدیمیغ شریک ہیں۔ٹیم کے کوچ علی بلحارث ہیں جبکہ قومی ٹیم کی قیادت عبداللہ الغدیر کررہے ہیں۔علی البابطین15برس کم عمر لڑکوں کے پہلے راؤنڈ میں دوسرے نمبر پر آگئے ہیں اور اب وہ فائنل میں پہلی پوزیشن کے امیدوار ہیں۔سعودی گالف آرگنائزیشن کے ایگزیکٹیو چیئرمین ماجد سرور نے عرب گالف ٹورنامنٹ میں سعودی لڑکیوں کی پہلی بار شرکت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ خوش آئند بات ہے کہ سعودی لڑکیاں گالف ٹورنامنٹ میں شرکت کررہی ہیں۔ 

عرب گولف ٹورنامنٹ
سعودی گالف ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والی خواتین کا گروپ

سعودی لڑکیاں باصلاحیت ہیں اور اس تجربے سے انہیں گالف سے متعلق تکنیکی معلومات حاصل ہوں گی۔‘گالف کے عالمی مقابلوں میں التلمسانی فیملی کے تین افراد شرکت کر رہے ہیں۔ ماں، بیٹی اور بیٹا سعودی ٹیم کی نمائندگی کریں گے۔رغدہ العیساوی نے بتایا ’میرے لیے یہ بڑے اعزازکی بات ہے کہ اپنی بیٹی اور بیٹے کے ساتھ بیرون ملک گالف ٹورنامنٹ میں وطن عزیز کی نمائندگی کروں‘۔رغدہ العیساوی نے جو استانی کے طور پر کام کر رہی ہیں کہا’ گالف کی تعلیم کنگ عبداللہ اکنامک سٹی کے کلب اور رائل گرینز گولف فیلڈ میں حاصل کی ہے‘۔رغدہ العیساوی نے مزید کہا’ پہلی مرتبہ گالف ٹورنامنٹ میں مصر میں حصہ لیا تھا۔ 

سب نے ہماری حوصلہ افزائی کی۔ مجھے یقین ہے سعودی عرب میں گالف کا مستقبل روشن ہے‘۔سولہ سالہ لیلی تلمسانی کا کہنا تھا’ سعودی عرب کی پہلی پیشہ ور گالف کھلاڑی بنا میرا خواب ہے۔ گالف کورس میں موجودگی کے دوران اندرونی خوشی ملتی ہے‘۔التلمسانی فیملی نے امید ظاہر کی کہ سعودی عرب کے دیگر گھرانے بھی اس میں حصہ لیں اور اس کھیل سے لطف اٹھائیں۔فیملی کے سربراہ محمد التلمسانی نے کہا’ مجھے گالف سے پیار ہے۔ ا س کی بدولت اپنا اچھا وقت اپنی فیملی کے ساتھ گزار پاتا ہوں۔ ہم سب موبائل سے آزاد ہوکر گالف کی پریکٹس کرتے ہیں۔میری بیٹی لیلی ، بیٹا عمر اور بیوی رغدہ سب گالف کے دیوانے ہیں۔

بلادی سے مزید