آپ آف لائن ہیں
منگل13؍شعبان المعظم 1441ھ 7؍اپریل2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بااثر افراد کے شادی ہالز کی9ارب روپے ٹیکس چوری سامنے آگئی

کراچی ( سہیل افضل/اسٹاف رپورٹر) کراچی کے بااثر افراد کے شادی ہالز ( بینکویٹ مارکیز) کی9ارب روپے ٹیکس چوری سامنے آگئی۔

تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انوسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کی جانب سے ایک تفصیلی سروے اور تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گذشتہ 4سال میں کراچی کے گریڈ اے کے شادی ہالز نے محض40کروڑ 10لاکھ روپے ٹیکس جمع کرایا ہے،یعنی صرف 10کروڑ سالانہ جبکہ سروے اور تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ انھوں نے 9ارب 46کروڑ 30لاکھ کا ود ہولڈنگ ٹیکس جمع کیا۔

اس طرح ایک طرف تو اپنی آمدنی کم ظاہر کرتے رہے دوسری جانب عوام سے وصول کردہ رقم بھی قومی خزانے میں جمع کرانے کی بجائے اپنی پاکٹ میں ڈالتے رہے۔

تحقیقات مین یہ بات بھی سامنے آئی کہ بیشتر شادی ہالز فرنٹ مین چلاتے ہیں ،ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انوسٹی گیشن ان لینڈ ریونیوکے ڈپٹی ڈائریکٹر سلیم احمد میرانی، عبدالروف اور ندیم بیگ نے ایک بریفنگ میں بتایا کہ ان کے سروے اور تحقیقات میں دلچسپ انکشافات ہوئے ہیں۔

ہم نے صرف کراچی کے پوش علاقوں میں واقع گریڈ اے کے 660شادی ہالزکا انتخاب کیا جوکہ ایک لاکھ اور اس سے زیادہ کی ہالز کی فیس یا کرایہ وصول کرتے ہیں کیٹرنگ اور دیگر اخراجات اس میں شامل نہیں کئے۔

بیشتر ایسے تھے جھنوں نے ہماری ٹیم کو بکنگ دینے سے انکار کیا یا پھر کم از کم 2سے 3ماہ کی تاریخ دی لیکن انھوں نےٹیکس ڈیپارٹمنٹ میں سال کی صرف 10سے 12بکنگ ظاہر کی تھیں ،7سے 12 اور 15لاکھ تک کا کرایہ لینے والوں نے کرایہ چند ہزار ظاہر کیا ہوا تھا ،بڑی تعداد ایسے افراد کی تھی جھنوں نے سال کی صرف 2سے 3بکنگ ظاہر کی تھیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ اب ہم نے ان کی رئیل ٹائم مانیٹرنگ شروع کر دی ہے ان سے ہم ریٹ لے چکے ہیں اب ان میں ہونے والی تقریبات اور ان میں شامل افراد کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔

اس مانیٹرنگ میں کیٹرنگ اور دیگر اخراجات کا تخمینہ بھی لگایا جائے گا ،کون لوگ اخراجات کر رہے ہیں ان کی بھی نشاندہی ہو گی ایک سوال پر سلیم احمد میرانی نے بتایا کہ 4سال میں حکومت کے عائد کردہ 5فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس کی وجہ سے ان شادی ہالز کا ٹیکس 9ارب 46کروڑ 30لاکھ بنتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم نے تمام 660شادی ہالز کو نوٹسز جاری کر دیئے ہیں ،ان شادی ہالز کی اکثریت ایف بی آر میں رجسٹرڈ نہیں ہے ،لیکن اب انھیں رجسٹرڈ کیا جائے گا۔

اہم خبریں سے مزید