آپ آف لائن ہیں
منگل6؍شعبان المعظم 1441ھ 31؍مارچ 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

تفہیم المسائل

سوال: امیر گھرانوں کی بچیاں جن کے نام جائیداد وغیرہ ہوتی ہے ،لالچ میں ان سے نکاح کرنے والوں کے بارے میں شریعت کیاکہتی ہے ؟

جواب:کسی عورت سے اُس کے مال ودولت کی خاطر نکاح کرنا ناپسندیدہ ہے اور حدیث مبارک میں ممانعت وارد ہوئی ہے :

(۱)ترجمہ:’’عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:عورتوں سے اُن کے حسن کے سبب نکاح نہ کرو ،ممکن ہے اُن کا حسن اُنہیں (پستی میں گرادے)اور نہ ہی عورتوں سے اُن کے مال کے سبب نکاح کرو، ممکن ہے کہ ان کا مال انہیں سرکشی پر آمادہ کرے ، عورتوں سے اُن کے دین(یعنی دینداری) کے سبب نکاح کرو ،(سنن ابن ماجہ:1859)‘‘۔

(۲)رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ترجمہ:’’جو شخص کسی عورت سے اُس کی عزت و ثروت کے سبب نکاح کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اُس کی ذلت میں اضافہ فرما دے گا اور جو شخص کسی عورت سے اُس کے مال کے سبب نکاح کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اُس کے فقرو تنگ دستی میں اضافہ فرما دے گا،(المعجم الاوسط للطبرانی :2363)‘‘۔

اقراء سے مزید