آپ آف لائن ہیں
منگل 10؍ شوال المکرم 1441ھ 2؍ جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

آج جب میر جاوید رحمٰن جو ایک جیتی جاگتی، ہنستی کھلکھلاتی شخصیت کے مالک تھے، کو سپرد خاک کرکے لوٹا تو بہت اداس، حیران، پریشان اور لق دق میدان میں تنہا کھڑا بڑی دل گرفتگی کے عالم میں ہر سُو دیکھ رہا تھا کہ شاید اب اِدھر سے کہیں مجھے میر جاوید رحمٰن پکاریں، کہیں بھائی کیوں اداس ہو آؤ چلو کہیں بیٹھ کر چائے پیتے ہیں۔ وہ محبت کرنے والی شخصیت مجسم اخلاق و محبت، آج مجھ سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوکر اپنی دائمی زندگی کی طرف لوٹ گئی۔ میرا تو جاوید رحمٰن کے سوا کوئی دوسرا دوست، خیر خواہ بھی نہیں تھا۔ آپ یوں اس طرح خاموشی سے چلے جاؤ گے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ بھائی جانے کی عمر تو میری تھی میں آپ سے آٹھ برس بڑا تھا، آپ نے مجھے ہمیشہ بڑے بھائی کا مان دیا پھر میرے ساتھ ایسا کیوں کیا، مجھے اکیلا کیوں کر دیا۔ میرے پیارے میر جاوید رحمٰن تم مجھے ہی نہیں تمام دنیا کو روتا، بلکتا چھوڑ کر چل دیے۔

آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو مجھے بڑے میر صاحب کا ہنستا مسکراتا چہرہ اپنے سامنے نظر آتا ہے، وہ بتا رہے تھے کہ انہوں نے میرے شہر دلّی میں کب اور کیونکر اخبار شروع کیا۔ مجھے ان کے ساتھی، ان کے استاد دادا عشرت حسین بھی دکھائی دے رہے ہیں جو دلّی سے نگار خانہ کے نام سے فلمی ہفتہ روزہ نکالا کرتے تھے۔ وہ جب ہجرت کرکے کراچی آئے تو یہاں سے انہوں نے نگار خانہ کے ساتھ ایک روزنامہ مسلمان اخبار شروع کیا تھا جس میں مسلمان معمہ شائع ہوتا تھا جس کا اشتہار جنگ میں میر خلیل الرحمٰن مفت شائع کرتے تھے۔ میر صاحب ان کی بڑی عزت کرتے تھے جب ان کا اخبار بند ہوگیا تو میر صاحب تمام زندگی انہیں ایک معقول رقم ادا کیا کرتے تھے، یہ میرِ صحافت کا بڑا پن تھا۔

میر خلیل الرحمٰن بتاتے تھے کہ انہوں نے بڑے مشکل حالات میں کراچی سے اخبار جنگ شروع کیا۔ یہ ابتدا میں شام کے اخبار کے طور پر شروع کیا گیا۔ اس وقت اس کے مدمقابل شام کا اخبار نئی روشنی اور صبح کا اخبار انجام ہوا کرتا تھا۔ شاید دونوں دلی سے ہجرت کرکے آئے تھے۔ دلی میں جنگ اخبار ابتدا میں صرف دو صفحات پر مشتمل تھا۔ میر صاحب نے جنگ کراچی پندرہ اکتوبر 1947ء کو شام کے اخبار کے طور پر شائع کیا۔ میر صاحب کے انتقال تک یہ اخبار میر جاوید رحمٰن اور میر شکیل الرحمٰن کی کوششوں سے چاروں صوبائی دارالحکومتوں سے شائع ہونے لگا تھا۔ میر خلیل الرحمٰن کے انتقال کے بعد ادارہ جنگ کی باگ ڈور بڑا بیٹا ہونے کے ناتے میر جاوید کے ہاتھوں میں آئی وہ جنگ کے ایڈیٹر، پبلشر اور پرنٹر کے طور پر کام کرنے لگے۔ میر صاحب کی حیات میں ہی ہفت روزہ اخبارِ جہاں جس کے چیف ایڈیٹر میر جاوید تھے، شائع ہونا شروع ہوگیا تھا۔ اس کے بہت بعد میر شکیل الرحمٰن نے انگریزی کا ہفت روزہ جریدہ میگ شائع کرنا شروع کر دیا۔ اب جبکہ میر صاحب کے لگائے اس پودے نے درخت کی حیثیت حاصل کر لی ہے، اب جنگ ایک صحافتی سلطنت میں تبدیل ہو چکا ہے اس سلطنت کو بنانے، سنوارنے میں میر خلیل الرحمٰن کے ساتھ میر جاوید رحمٰن برابر کے شریک رہے تھے۔ وہ بڑے نرم خو فہیم انسان تھے معاملات کی تہہ تک فوراً پہنچ جاتے تھے۔ سات جولائی 1998ء میں جب میں نے روزنامہ امروز کراچی سے شروع کیا تو پہلا شمارہ لے کر میر جاوید کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے پہلے مجھے اپنے سامنے بٹھایا اور میرے اخبار کو بغور دیکھنے لگے، پھر مسکرا کر بولے بڑی اچھی کوشش ہے یہ کہاں سے سیکھا؟ میں نے کہا آپ ہی لوگوں کی رفاقت سے سیکھا تو انہوں نے حوصلہ دیا، پھر یکدم غصہ ہوکر بولے آپ نے ایسی جرات کیسے کی، پھر میرے سامنے آکر مجھے دکھا بھی رہے ہیں، پھر اپنی میز کی سائیڈ میں رکھے اخبارات میں سے امروز اٹھا کر میرے سامنے رکھ دیا، پھر بولے میں اتنا بےخبر نہیں جتنا آپ کا خیال تھا۔ میں آپ سے یا آپ کی کوششوں سے باخبر ہوں۔ میں خاموشی سے اٹھ کر چلا آیا۔ کافی عرصے تک میر جاوید رحمٰن سے رابطہ نہیں ہو سکا پھر جب میں اپنے بیٹے کی شادی کا کارڈ لے کر میر جاوید کے دفتر پہنچا تو وہ مجھے لینے نیچے استقبالیہ پر آئے اور مجھے اپنے ساتھ لپٹاتے ہوئے شکوہ کیا آپ بڑے بے مروت ہو، اس کے بعد پلٹ کر پوچھا تک نہیں۔ لفٹ میں میرے منہ سے بےساختہ نکلا ’’بڑے بےمروت ہیں یہ دلی والے انہیں آزمانے کی کوشش نہ کرنا‘‘ تو وہ مسکرا کر بولے چلو بیٹھ کر بات کرتے ہیں، جواباً انہوں نے کہا آپ کو تو معلوم ہے کہ میں بھی پیدائشی دلی والا ہوں تو تم نے مجھے آزمانے کی کوشش کیوں کی۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ ہمارے درمیان کوئی تلخی کبھی نہیں ہوئی۔ وہ بڑے صاف دل کے بہت بڑے انسان تھے۔ کہنے اور لکھنے کو میرے پاس بہت کچھ ہے، میرا ان سے تعلق ہی ایسا تھا لیکن اب دل و دماغ بےقابو ہیں۔ ان شاء ﷲ پھر کبھی سہی۔ ﷲ تبارک و تعالیٰ میر جاوید رحمٰن کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطا کرے۔ آمین یا رب العالمین!

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین