• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر : حافظ عبدالاعلیٰ درانی ۔ ۔۔بریڈفورڈ
امیر جان کی دلفگار نظم یوں تو ہر خانہ خالی نظر آتا ہے، ہر کوچہ تنہا دکھتا ، ہر گلشن ویران اور ہر غنچہ گل کے بغیر ، ہر گل خوشبو کے بغیر اور موسم بہار خزاں نظر آرہا ہے، سب بازار ویران حتی ٰکہ خانہ خدا اور کوچہ ہائے مصطفی بھی خالی نظر آتے ہیں جو سب سے زیادہ وحشتناک مناظر ہیں ۔ہم اور آپ تاریخ کے سب سے خوفناک دروازے سے گزر رہے تاریخ انسانی میں ایسی کوئی وبا کبھی نہیں آئی کہ ساری دنیا بیک وقت لاک ڈاؤن ہوگئی ہو ۔ سب کاروبار ، سب صنعتیں سب فلائیٹس ،سب اسٹیشن سب مسجدیں ،سب عبادتگاہیں بند ہوگئی ہوں، ایک دوسرے سے قربت بھی خطرناک سمجھی جاتی ہو ویران شہر‘خاموش گلی کوچے اور سنسان گھر۔ افغان شاعر امیر جان صبوری کی ایک نظم کانوں سے جب ٹکراتی ہیں تو اداسی کی ایسی لہر جسم میں دوڑ جاتی ہے اور انسانیت کی بے چارگی سامنے آجاتی ہے گویا ہر طرف سے آواز آتی ہے لمن الملک الیوم ۔ آج کسی کی بادشاہی ہے اور پھر اس کا جواب آتا ہے للہ الواحد القہار ، اب امیر جان کی نظم ملاحظہ ہو جو فارسی میں ہے اس کا ترجمہ کچھ یوں ہے ۔ شہر خالی جادہ خالی‘ کوچہ خالی‘ خانہ خالی جام خالی‘ سفرہ خالی‘ ساغر و پیمانہ خالی کوچ کردہ‘ دستہ دستہ‘ آشنایاں‘ عندلیباں باغ خالی‘ باغچہ خالی‘ شاخہ خالی‘ لانہ خالی (کیا ویرانی سی ویرانی ہے ‘شہر خالی‘ راستے اور کوچے خالی لگتے ہیں‘ جام ‘ دسترخواں‘صراحی اور ساغر بھی خالی ہیں‘ رفتہ رفتہ تمام دوست‘ بلبلیں یاغ سے کوچ کر گئیں۔ اسی بنا پر باغ ’‘ باغیچے ‘ شاخیں اور گھونسلے سب کے سب خالی ہیں ) وائے از دنیا کہ یاراز یارمی ترسد غنچہ ہائے تشنہ از گلزار می ترسد عاشق از آوازہ دلدار می ترسد پنجۂ خنیاگراں از تارمی ترسد شاہسوار از جادۂ ہموار می ترسد ایں طبیب از دیدن بیمار می ترسد (حیف اس دنیا پر جہاں دوست دوست سے خائف ہے‘ کلیاں کھلنے سے پہلے باغ سے ڈرتی ہیں جہاں عاشق اپنے محبوب کی آواز سے ڈرتا ہے۔ موسیقار ساز کو چھونے سے ڈر رہا ہے اور مسافر آسان راستے سے بھی خوف کھا رہا ہے۔ ڈاکٹر مریض کو دیکھنے سے کترا رہا ہے ۔ ساز ہا بشکست و در دِشاعراں از حد گزشت سال ہائے انتظاری برمن و تو بدگزشت آشنا ناآشنا شد‘ تابلی گفتن بلا شد (سُر بکھیرنے والے ساز ٹوٹ چکے ہیں اور شاعروں کا درد حد سے تجاوز کر گیا ہے‘ تمہارے اور میرے انتظار کے کئی کربناک سال بیت چکے اور اس انتظار میں آشنا بیگانوں میں بدل گئے گرچہ میرا یہ کہنا کسی عذاب سے کم نہیں) گریہ کردم ‘ نالہ کردم‘ حلقہ برہردرزدم سنگ سنگ کلبۂ ویرانہ را برسر زدم آب از آبی نہ جنبید خفتہ در خوابی نہ جنبید (میں خوب رویا ‘ فریاد کی‘ ہر دروازے پردستک دی ‘ حتیٰ کہ اس ویرانے کے پتھروں کی خاک اپنے سر پر ڈالی لیکن جیسے دریا اپنی گہرائی نہیں جانتا ایسے ہی کسی خوابیدہ شخص کو کیا معلوم کہ اس کی نیند کتنی گہری ہے) چشمۂ خشکیدہ و دریا خستگی رادم گرفت آسماں افسانۂ مارا‘ بہ دست کم گرفت جام ہا جوشی ندارد‘ عشق آغوشی ندارد برمن و برنالہ ہایم‘ہیچ کس گوشے ندارد (چشمے سوکھ گئے‘ دریا نرم پڑ گئے‘ آسمان نے بھی میرے قصے کو کوئی اہمیت نہ دی۔ جام بے اثر ہو گئے سینوں میں بھڑکنے والی عشق کی آگ بجھ گئی۔ کسی نے بھی مجھے اور میری آہ و فغاں کو درخور اعتنا نہ سمجھاباز آ تاکاروانِ رفتہ باز آید باز آتا دلبرانِ ناز ناز آید باز آتا مطرب و آہنگ و ساز آید تاگل افشاناں نگار دلنواز آید باز آتا بردر حافظ سر انداز یم گل بہ افشا نیم و می درساغر انداز یم (لوٹ آئو کہ روانہ ہو چکا قافلہ لوٹ آئے‘ لوٹ آئو کہ محبوبوں کے ناز و انداز لوٹ آئیں‘ لوٹ آئو کہ موسیقار اور اس کے سازکا آہنگ لوٹ آئے‘ اپنی زلفوں کی لٹیں لہراتا وہ دلنواز محبوب آجائے۔ لوٹ آ کہ ہم حافظ کے درپر سر جھکائیں‘ پھول برسائیں اور شراب کو پیالے میں ڈالیں۔) باذن اللہ آزمائش کی یہ گھڑی جلد ہی ختم ہوجائیگی حضرت یوسف علیہ السلام نے بادشاہ مصر کے خواب کی تعبیر بتاتے ہوئے فرمایا تھا ’’ پھر اہسا سال بھی آئے گا جب لوگوں کو بارش سے نہال کردیاجائے گا تب وہ خوب پیدا وار اٹھائیں گے ‘‘ یہ آیت کریمہ ہمارے لیے بھی خوشخبری سناتی ہے ۔ لاتقنطوا من روح اللہ۔ یعنی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں ۔ اللہ کریم ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے اور ہمارے کوچہ و بازار مسجدوں اور عبادتگاہوں کی رونقیں بحال فرمائے ۔
تازہ ترین