آپ آف لائن ہیں
اتوار20؍ذیقعد 1441ھ 12؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

محمد عدنان

پرانے زمانے میں کسی دانا و بینا شخص نے حکمت و ہدایت کی خاطر اس پھل کا تذکرہ کیا تھا کہ دنیا میں ایک ایسا"درخت" پایا جاتا ہے۔ جو شخص اس درخت کا "پھل" ایک مرتبہ کھائے ہمیشہ جوان و توانا رہے گا اور کبھی اس پر موت طاری نہ ہو گی۔ایک بادشاہ نے سنا تو جی میں آیا "اگر اس درخت کا پھل مجھے مل جائے تو کیا کہنے"۔چنانچہ اپنے مشیروں اور وزیروں سے ذکر کیا۔ سب نے ہاں میں ہاں ملائی کہ "جہاں پناہ اگر اس درخت کا پھل کھا لیں تو رعایا ہمیشہ آپ کے زیرِ سایہ آباد اور خوش و خرم رہے گی۔"

غرض بادشاہ نے ایک ہوشیار مشیر کو اس درخت اور پھل کی تلاش میں روانہ کر دیا۔ وہ بے چارہ مہینوں جنگل جنگل، صحرا صحرا مارا مارا پھرتا رہا، لیکن گوہرِ مقصود ہاتھ نہ آیا۔ جس کسی سے ایسے درخت اور پھل کا پتاپوچھتا،وہ ہنسی اڑاتا کہ پاگل ہوئے ہو کیا؟، بھلا ایسا درخت اور پھل بھی ہوتا ہے کیا؟۔"کسی نےمشورہ دیا کہ، "میاں! کیوں در بدر خاک بسر ہوتے پھر رہے ہو؟ جدھر سے آئے ہو، ادھر کو لوٹ جاؤ۔‘‘

وہ شخص اسی طرح کی نت نئی باتیں سنتا اور اپنی ہنسی اڑواتا رہا۔ لیکن تھا دھن کا پکا، ارادے میں خم نہ آنے دیا اور برابر کوہ و دشت کی خاک چھانتارہا۔جب ایک برس بیت گیا، اْس علاقے کے گوشے گوشے، چپے چپے میں پھر چکا ،مگر وہ درخت نہ ملا۔ تب مایوس ہو کر اپنے وطن واپس لوٹنے لگا۔ اس قدرتکلیف اٹھانے کے باوجود محنت ضائع ہو جانے سےوہ بہت غم زدہ تھا۔ 

بدقسمتی پر آنسو بہاتا اور یہ سوچتا جا رہا تھا کہ بادشاہ کو کیا منہ دکھائے گا۔ اچانک اسے معلوم ہوا، کہ اس علاقے میں جہاں سے وہ گزر رہا ہے وہاں ایک بزرگ رہتے ہیں اس نےسوچا کہ اپنی مشکل ان سے بیان کروں تو ممکن ہے مایوسی راحت میں بدل جائے،چنانچہ یہ سوچ کر وہ ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کی نورانی صورت دیکھتے ہی اپنے آپ پر اختیار نہ رہا۔ ضبط کا دامن ہاتھ سے نکل گیا اور روتا ہوا ،ان کے قدموں میں جا گرا،بزرگ نے اٹھا کر شفقت سے گلے لگایا اور پوچھا "کیا بات ہے؟"

اس نے عرض کیا،’’ جس کام کے لیے نکلا تھا، وہ کام نہیں ہوا۔ اب سوچتا ہوں، واپس جا کر بادشاہ کو کیا جواب دوں گا۔ اس کے عتاب کا نشانہ بننے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ آپ میرے حق میں اﷲ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھ پر رحم کرے۔ بادشاہ کے حکم سے بقائے دوام کے شجر کی تلاش میں یہاں آیا تھا۔ کہتے ہیں اس درخت کا پھل کوئی کھا لے تو حیاتِ جاوداں مل جاتی ہے۔ میں نے اس کی جستجو میں اس ملک کا چپہ چپہ چھان مارا، مگر ناکامی اور مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا، مہربانی فرما کر میری مشکل حل کردیں۔

یہ سن کر بزرگ ہنس پڑے۔ پھر کہا ،’’ "سبحان اﷲ! بھائی تو نے بھی سادہ لوح کی حد کر دی ہے۔ ارے اتنا وقت خوامخواہ ضائع کیا۔پہلے ہی میرے پاس چلا آتا اور معلوم کر لیتا۔ اب ذرا غور سے سن۔ یہ کسی دانش مند کا قول ہے کہ وہ شجر اصل میں"کتاب" ہے اور اْس سے حاصل ہونے والا پھل "علم" ہے۔ تو اور تیرا بادشاہ جہالت کی وجہ سے ظاہری پھل اور درخت کا دھوکہ کھا گئے، جبکہ یہ درخت اور پھل تو باطنی ہیں۔

اس واقعہ سے علم کی اہمیت کابخوبی اندازہ لگایاجاسکتاہے کتاب جیسا "درخت" اور "علم" جیساپھل انشااﷲ کبھی انسان کو مرنے نہیں دے گا اور ہمیشہ توانا رکھے گا۔